لوگوں کے لیے راشن کا تحفظ
علی محمد الصلابیخلفائے راشدینؓ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے دور خلافت ہی سے بیت المال کے مختلف ذرائع سے مسلمانوں میں راشن اور عطیات کی تقسیم کا نیا طریقہ اختیار کر لیا تھا۔ آغاز میں اس کے لیے کوئی وقت متعین نہیں تھا، لیکن سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے دورِ خلافت میں مختلف صوبوں میں رجسٹر تیار کیے جانے کے بعد تبدیلی آئی، اور راشن اور عطیات کی تقسیم نے منظم گشتی شکل اختیار کر لی۔ سیدنا عثمان رضی اللہ عنہ اس پر قائم رہے۔ عہد راشدی میں خلفائے راشدینؓ اور ان کے گورنروں نے صرف راشن کے تحفظ اور بازار کی نگرانی پر اکتفا نہ کیا بلکہ مکانات کی تقسیم بھی گورنروں کی ذمہ داری میں شامل کر دی، اسی طرح مفتوحہ شہروں میں امرائے لشکر ہی گھروں کی تقسیم کی نگرانی کرتے۔
(الولایۃ علی البلدان: جلد 2 صفحہ 79)