سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث
علی محمد الصلابیسیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں سیدہ فاطمہ اور عباس رضی اللہ عنہما سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے پاس پہنچ کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث طلب کر رہے تھے، اس وقت وہ دونوں آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی فدک والی زمین اور خیبر کے حصے کا مطالبہ کر رہے تھے، ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ان دونوں سے کہا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کہتے سنا ہے: ہماری میراث تقسیم نہیں کی جائے گی، جو کچھ اپنے پیچھے چھوڑ کر جائیں گے صدقہ ہوگا، ہاں آل محمد صلی اللہ علیہ وسلم اس مال سے کھائیں گے۔
(صحیح البخاری: رقم: 6726)
دوسری روایت کے مطابق سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کہا: جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے میں اس پر عمل کو ترک نہیں کرسکتا، مجھے ڈر ہے کہ اگر میں نے آپ کا کوئی حکم ترک کردیا تو میں بھٹک جاؤں گا۔
(صحیح مسلم: رقم: 1759)
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہتی ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد ازواج مطہراتؓ نے سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے پاس بھیجنا چاہا، تاکہ ان کے توسط سے ان سے وہ لوگ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث کا مطالبہ کریں تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے ان سے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یہ نہیں فرمایا: ہماری میراث تقسیم نہیں ہوگی، جو کچھ اپنے پیچھے چھوڑیں گے صدقہ ہوگا۔
(صحیح البخاری: رقم: 673۔ صحیح مسلم: رقم: 1758)
سیدنا ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہتے ہیں: رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ہمارے ورثاء ہماری میراث کا ایک دینار بھی تقسیم نہیں کریں گے، ازواج کے نفقہ اور اپنے خادم کے خرچ کے بعد جو کچھ میں چھوڑ کر جاؤں گا صدقہ ہوگا۔
(صحیح البخاری: رقم: 6729)
سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے ساتھ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کا یہ تعامل قول رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی بجاآوری کی بناء پر تھا، اسی بنا پر سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے کہا تھا کہ جو کچھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کرتے تھے میں اس پر عمل کو ترک نہیں کرسکتا۔
(صحیح مسلم: رقم: 1758)
نیز فرمایا: جس کام کو میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو کرتے دیکھا ہے اسے میں کروں گا۔
(صحیح البخاری: 6726)
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے حدیث سے استدلال اور معاملے کی وضاحت کر دینے کے بعد سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے ان سے اپنے نزاع کو ترک کردیا۔
اس واقعے میں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے قبول حق اور قول رسول صلی اللہ علیہ وسلم کو مان لینے کی صریح دلیل ہے، حق اور سچائی سے ہٹ کر شیعہ نے میراث نبی صلی اللہ علیہ وسلم سے متعلق بہت زیادہ غلو سے کام لیا ہے، ہم نے اپنی کتاب ’’اسمی المطالب فی سیرۃ أمیر المومنین علی بن أبی طالب‘‘
(أسمی المطالب فی سیرۃ أمیر المومنین علی بن أبی طالب: جلد 1 صفحہ 199)
میں ان کی دلیلوں کی قلعی کھول دی ہے، اور میراث سے متعلق سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کے مابین جو کچھ ہوا اس کی حقیقت کو واضح کردیا ہے۔