ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 3 از 4

قَالَ سَمِعْتُ أَبَادَأَوْدَ يَقُولُ حَدَّثَنِى بُرَيْدَةُ أَلَا سُلَمِی قَالَ سَمِعْتُ رَسُول اللَّهِ صَلَى اللَّهِ عَلَيْهِ وَسَلَّمْ يَقُولُ إِنَّ الجَنَّةَ مُشْتَاقُ إِلَى ثَلثَةِ فَجَاء أَبُوبَكَرُ فَقَالَ انتَ الصِّدِيق أَنْتَ ثَانِىَ اثۡنَيۡنِ اِذۡ هُمَا فِى الۡغَارِ فَلَوْ سَئلْتُ رَسُولَ اللَّهَ عَن لهو لاءِ الثَّلَاثَةِ 

ترجمہ: ابوداؤد کہتے ہیں بریدہ اسلمی نے مجھے بتایا کہ میں نے رسول اللہﷺ سے سنا، فرمایا بہشت تین شخص کا مشتاق ہے، اتنے میں ابوبکرؓ آ گئے تو حضورﷺ نے فرمایا: تو صدیق ہے، تو دوسرا دو کا ہے جو غار میں تھے۔ راوی کہتا ہے۔ کاش میں حضورﷺ سے پوچھتا کہ وہ تین کون ہیں؟

احتجاج طبرسی میں بروایت امیر المؤمین یہ حدیث درج ہے:

كُنَّا مَعَ النَّبِی صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَالِهِ وَسَلَّمُ عَلَى جَبَلٍ حَرَاءَ اذْتَحرَّكَ الْجَبَلُ فَقَالَ لَهُ قِرَّ فَإِنَّهُ لَيْسَ عَلَيْكَ إِلَّا نَبِی وَصِدِيقٌ وَ شَهِيدٌ .

ترجمہ: حضرت علیؓ فرماتے ہیں کہ ہم پیغمبرﷺ کے ساتھ جبلِ حرا پر تھے کہ پہاڑ نے جنبش کی تو حضورﷺ نے فرمایا: کہ ٹھہر جا کیونکہ تجھ پر ایک نبی، دوسرا صدیق، تیسرا شہید بیٹھے ہیں۔

کیا ان دو روایات کو پڑھ کر بھی شیعہ کو حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کی صدیقیت پر کچھ شک و شبہ باقی رہے گا؟ لیکن ضد کا کیا علاج؟

دہم: نہج البلاغت میں جو شیعوں کی مستند کتاب ہے جس میں جناب امیر کے خطبات اور اقوال درج ہیں، لکھا ہے:

لِلَّهِ بَلادُ فَلَانٍ فَلَقَدْ قَوَّمَ الْإِدَرَ وَدَاوِی الْعَمَدِ وَ أَقَام السِّنَّةَوَخَلَّفَ البَدْعَةَ ذَهَبَ تَقَى الثَّوْبِ قَلِيلِ الْغَيْبِ أَصَابَ خَيْرَهَا وَ سَبَقَ شَرَّهَا أَوى اللَّهُ طَاعَتَهُ وَاتَّقَاءُ بِحِقَّهِ وَ رَحَلَ وَ تَرَكَهُمُ فِی طُرُقِ مُتشَبَةٍ يَهْتَدِی فِيهِ الضَّالُ وَلَا يَسْتَيقِنِ الْمُهْتَدِى 

(نهج البلاغت مطبوعہ بیروت: جلد 1، صفحہ 250) 

ترجمہ: خدا فلاں (ابوبکرؓ) پر رحمت کرے۔ کجی کو سیدھا کیا ہماری (جہالت) کا علاج کیا۔ سنتِ رسولﷺ کو قائم کیا۔ بدعت کو پیچھے ڈالا۔ دنیا سے پاک دامن اور کم عیب ہو کر گزر گیا۔ خوبی کو پالیا اور شر و فساد سے پہلے چلا گیا۔ خدا کی بندگی کا حق ادا کیا اور تقویٰ جیسے کہ چاہیے اختیار کیا۔ فوت ہو گیا اور لوگوں کو پیچ در پیچ راستوں میں چھوڑ گیا کہ گمراہ کو راستہ نہیں ملتا اور راہ پانے والا یقین نہیں کرتا۔ شارحین 

(شارح نہج البلاغت علامہ کمال الدین ابنِ مشیم بحرانی نے لفظ فلاں سے حضرت ابوبکرؓ مراد ہونے کو ترجیح دی ہے۔ چنانچہ لکھا ہے۔ واقوال حادثہ ابی بکرؓ شبہ من ارادتہ العمر (احقر مظہر حسین غفر له)

نہج البلاغت نے لفظ فلاں سے ابوبکر یا عمر رضی اللہ عنہما مراد لیا ہے۔

دیکھو اس خطبہ میں علی المرتضیٰ رضی اللہ عنہ صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی کیسی تعریف فرماتے ہیں اور اخیر میں کہتے ہیں کہ ہمارا عہدِ خلافت ایسا پر شور ہے کہ ہدایت یافتہ بھی گمراہ ہو جاتے ہیں۔ 

یاز دهم: تزویجِ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی تحریک ابوبکر رضی اللہ عنہ نے کی، جلاء العیون اردو جلد 1، صفحہ 118 میں درج ہے۔

روایت کی ہے کہ ایک دن ابوبکر و عمر وسعد بن معاذ رضی اللہ عنہم مسجد حضرت رسول اللہﷺ میں آ بیٹھے۔ آپس میں مزاوجت جناب فاطمہؓ کا ذکر کر رہے تھے۔ حضرت ابوبکرؓ نے کہا اشرف قریش نے فاطمہؓ کی خواست گاری حضرت سے کی اور حضرت نے ان کو جواب دیا کہ انکا اختیار پروردگار کو ہے اور حضرت علیؓ ابن ابی طالب نے اس بارہ میں حضرت سے کچھ نہیں کہا اور نہ کسی نے ان کی طرف سے کہا اور ہمیں گمان یہی ہے کہ سوائے تنگ دستی کے اور انہیں کچھ مانع نہیں اور جو کچھ ہم جانتے ہیں وہ یہ ہے کہ خدا اور رسولﷺ نے فاطمہؓ کو بے شک علیؓ کے لیے رکھا ہے۔ پس ابوبکر، عمر اور سعد بن معاذ رضی اللہ عنہم نے کہا اُٹھو! علیؓ کے پاس چلیں اور ان سے کہیں کہ فاطمہؓ کی خواست گاری کریں اگر تنگ دستی انہیں مانع ہے تو ہم اسباب میں ان کی مدد کریں گے۔ سعد بن معادؓ نے کہا بہت درست ہے۔ یہ کہہ کر اُٹھے اور جناب امیر کے گھر آ گئے، جب جناب امیر کی خدمت میں پہنچے، حضرت نے فرمایا کس لیے آئے ہو؟ ابوبکرؓ نے کہا ابو الحسنؓ! کوئی فضیلت فضیلت ہائے نیک سے نہیں ہے مگر یہ کہ تم اور لوگوں پر اس فضیلت میں سابق ہو۔ تمہارے اور حضرت رسول اللہﷺ کے درمیان جو رابطہ بہ سبب یگانگی و مصاحبت دائمی و نصرت دیاری اور جو روابط معنوی ہیں وہ معلوم ہیں۔ قریش نے فاطمہؓ کی خواستگاری کی مگر حضرت نے قبول نہ کی اور جواب دے دیا کہ اس کا اختیار پروردگار کو ہے۔ پس تم کو کیا چیز فاطمہ کی خواستگاری سے مانع ہے؟ ہم کو گمان یہ ہے کہ خدا اور رسولﷺ نے فاطمہؓ کو تمہارے واسطے رکھا ہے۔ باقی اور لوگوں سے منع کیا ہے۔ امیر نے حضرت ابوبکرؓ سے جب سنا، آنسو چشمہائے مبارک سے جاری ہوئے اور فرمایا۔ میرا غم اور اندوہ تم نے تازہ کیا اور جو آرزو میرے دل میں پنہاں تھی اس کو تم نے تیز کر دیا، کون ایسا ہوگا جو فاطمہؓ کی خواست گاری نہ چاہتا ہو لیکن بہ سبب تنگ دستی اس امر کے اظہار سے شرم آتی ہے۔ پس ان لوگوں نے جس طرح ہوا حضرت کو راضی کیا کہ جناب رسول اللہﷺ کے پاس جا کر فاطمہؓ کی خواست گاری کریں۔ جناب امیر نے اپنا اونٹ کھولا اور گھر میں لاکر باندھا۔

اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ کو کس قدر خیر خواہی امیر کی مطلوب تھی کہ اس مبارک رشتہ (تزویجِ فاطمہؓ) کی تحریک کی اور ہر طرح سے اس معاملہ میں جناب امیر کی امداد پر آمادگی ظاہر کی۔ پہلے جناب امیر نے اپنی مفلسی کا عذر پیش کیا مگر ان مردانِ خدا نے اُن کو ڈھارس بندھوائی اور معاملہ انجام بخیر ہوا۔ کیا دشمن بھی کسی کی ایسی خیر خواہی کیا کرتے ہیں؟ اگر شیعہ غور کریں تو اس مبارک رشتہ(تزویجِ فاطمہؓ) کا سہرا بھی حضرت ابوبکرؓ کے سر بندھتا ہے جنہوں نے اس سلسلہ کی تحریک کی۔ 

صفحہ 3 از 4