ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 2 از 4

لَسْتُ بِمنکرٍ فَضْلَ أَبِی بَكْرٍ وَ لَسْتُ بِمُنْكَرٍ فَضْلٍ عُمَرَ وَلا كنَّ أَبَابَكرٍ أَفْضَلُ.

ترجمہ: میں ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے فضائل کا منکر نہیں ہوں البتہ ابوبکر رضی اللہ عنہ فضیلت میں برتر ہیں۔ پھر جس شخص کو سیدنا محمد باقرؒ افضل سمجھتے ہوں۔ اُن کی فضیلت سے انکار کرنا حد درجہ کی شقاوت ہے۔

چہارم: کتاب مجالس المؤمنین مجلس سوم صفحہ 89 میں ہے۔ کہ حضرت سلمان فارسیؓ فرماتے ہیں کہ حضورﷺ حضرت ابوبکرؓ کی شان میں صحابہ رضی اللہ عنہم کی مجلس میں بیٹھ کر ہمیشہ یوں فرمایا کرتے تھے۔

مَا سَبَقَكُمْ أَبُوبَكْرٍ بِصَوْمٍ وَلَا صَلوٰةٍ وَلَكِنْ لشَیءٍ وَقِّرَ فِی قَلْبِهِ. 

ترجمہ: حضرت ابوبکرؓ نے تم سے زیادہ نماز و روزہ ادا کرنے میں فوقیت حاصل نہیں کی بلکہ اس کی صدق صفا قلبی کی وجہ سے اس کی عزت و وقار بڑھا ہے۔

پنجم: شیعہ کی بڑی معتبر کتاب کشف الغمہ مطبوعہ ایران صفحہ 220 میں یہ روایت درج ہے:

سُئِلَ الْإِمَامُ جَعْفَرَ عَنْ حِلْيَةِ السَّيْفِ هَلْ يَجُوزُ قَالَ نَعَمُ قَد حَلَّ ابوبكر الصِّدِّيقُ سَيفَهُ فَقَالَ الرَّاوِی اَتَقُولُ هاكَذَا فَوَثَبَ الْآمِامُ عَنْ مَقَامِهٖ فَقَالَ نِعْمَ الصِّدِّيقُ نِعْمَ الصِّدِّيقُ نِعْمَ الصِّدِّيقُ فَمَنْ لَّمْ يَقُل لَّهُ الصَّدِيقُ فَلَا صَدَقَ اللَّهُ قَوْلهُ فِی الدُّنْيَا وَالْآخِرَةَ

ترجمہ: سیدنا محمد باقرؒ سے تلوار کو چاندی سے مرصع کرنے کے متعلق دریافت کیا گیا تو امام نے فرمایا: جائز ہے۔ کیونکہ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی تلوار کو مرصع کیا ہے۔ راوی کہنے لگا۔ آپ اُس کو صدیقؓ کہتے ہیں؟ امام غضب ناک ہو کر اپنے مقام سے اُٹھے اور کہنے لگے۔ بہت اچھا صدیقؓ، بہت اچھا صدیقؓ، بہت اچھا صدیقؓ جو اُس کو صدیقؓ نہ کہے خدا اُس کو دنیا و آخرت میں جھوٹا کرے۔

ششم: کتاب ناسخ التواریخ جو شیعہ کی مستند کتاب ہے۔ اس کی جلد 2، صفحہ 563 میں ہے:

داز پس اول (زید بن حارثہؓ) ابوبکرؓ مسلمان شُد۔ واسم او عبدالله است و لقبش عتیق و کنیت ابوبکرؓ است- داد پسر ابو قحافہ عثمان است و ہو عثمان بن عامر بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوی و ابوبکرؓ علم النسب نیک میدانست و نسب او نیز محفوظ بود و یا بعضے از قریش اُلفتے بکمال داشت و چند تن را پنہانی۔ دعوت با سلام نمود ونزدیک پیغمبر آورد۔ تا اسلام ایشان عرضہ داشت نخستین عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبدالشمس بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بود۔ دیگر زبیرؓ بن العوام بن خویلد بن اسد بن عبدالعزیٰ بن قصی بود. وایں زبیر پسر بردار خدیجہؓ است و دیگر عبد الرحمن بن عوف بن عبد عوف بن عبدالحارث بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی بود. و دیگر سعد بن ابی وقاص و اسم ابی وقاص مالک بود. او پسر اہیب بن عبد مناف بن زہرہ بن کلاب بن مرہ بن كعب بن لوئی است و دیگر طلحہ بن عبد الله بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب لوئی است. این جملہ از دوستان ابوبکرؓ بودند و بدلالت او اسلام یافتند و از پس او عبیدہ اسلام آورد۔

ترجمہ: اور زید بن حارثہ رضی اللہ عنہ کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ مسلمان ہوئے اور ان کا نام عبد الله اور لقب عتیق اور کنیت ابوبکرؓ ہے اور بیٹے ابوقحافہ کے ہیں۔ جن کا نام عثمان ہے۔ ان کا نسب یوں ہے ۔ عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب بن لوئی۔ حضرت ابوبکرؓ علم انساب خوب جانتے تھے اور ان کا نسب بھی محفوظ تھا اور بعض قریشیوں سے اُن کو نہایت محبت تھی۔ چند اشخاص کو اُنہوں نے خفیہ طور پر دعوت اسلام دی اور پیغمبرﷺ کے پاس لائے۔ آپﷺ نے ان پر اسلام پیش کیا سب سے پہلے جو ترغیب ابوبکر رضی اللہ عنہ سے مسلمان ہوئے عثمان بن عفان بن ابی العاص بن امیہ بن عبدالشمس بن عبد مناف بن قصی بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوئی تھے۔ دوسرے شخص زبیر بن عوام خویلد بن عبدالعزیز بن قصی تھے۔ یہ زبیر حضرت خدیجہؓ کے بھتیجے تھے۔ تیسرے شخص عبدالرحمٰن بن عوف ابن عبد عوف بن عبدالحارث بن زہرہ بن کلاب بن مرہ بن کعب بن لوی تھے اور چوتھے سعد بن ابی وقاص کا نام مالک تھا۔ وہ بیٹے اہیب بن عبد مناف بن زہرہ بن مرہ بن کعب بن لوی کے ہیں اور پانچویں طلحہ بن عبدالله بن عثمان بن عمرو بن کعب بن سعد بن تیم بن مرہ بن کعب لوئی ہیں۔ یہ سب لوگ حضرت ابوبکرؓ کے دوستوں میں سے تھے اور انہی کی راہنمائی سے یہ سب اسلام لائے اور ابوبکر صدیقؓ کے بعد عبیدہ رضی اللہ عنہ اسلام لائے۔

اس روایت سے معلوم ہوا کہ حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ بڑے پایہ کے شخص تھے اور برگزیدہ خاندان قریش سے تھے پہلے ہی سے ان کے نام (عبداللہ) میں توحید کی جھلک موجود تھی۔ علم الانساب کی خاص مہارت رکھتے تھے اور محفوظ النسب تھے ان کا لقب بھی عتیق (نجیب) تھا۔ قریش میں بڑے ذی رسوخ تھے آپ کے اسلام لانے سے اسلام کو خاص مدد حاصل ہوئی چنانچہ ان کے طفیل بڑے بڑے اکابر قوم قریش اسلام میں داخل ہوئے۔ کیا ایسا شخص جو اسلام لاتے ہی اشاعت اسلام میں مصروف ہو گیا اور اپنے اثر خاص سے اکابر قوم کوحلقہ بگوش اسلام کیا اور اپنی زندگی خدمت اسلام میں بسر کی حضور سرور عالمﷺ کی تعلیم و تربیت کامل کے بعد منافق ہو سکتا ہے؟ كَبُرَتۡ كَلِمَةً تَخۡرُجُ مِنۡ اَفۡوَاهِهِمۡ‌ 

ہفتم: تفسیر مجمع البیان طبری (شیعہ کی معتبر تفسیر ہے) تفسیر آیت

وَالَّذِىۡ جَآءَ بِالصِّدۡقِ وَصَدَّقَ بِهٖۤ‌ اُولٰٓئِكَ هُمُ الۡمُتَّقُوۡنَ ۞

ترجمہ: اور جو شخص آیا ساتھ صدق کے اور جس نے تصدیق کی اس کی وہی لوگ متقین ہیں۔

کی تفسیر میں لکھا ہے۔

قِيلَ الَّذِی جَاءَ بِالصِّدْقِ رَسُولُ اللَّهِ وَ صَدَّقَ بِهِ أَبُوبَكَر

ترجمہ: جو شخص آیا ساتھ صدق کے وہ رسول اللہﷺ ہیں اور جس نے تصدیق کی ان کی اس سے مراد ابوبکرؓ ہیں۔

ہشتم: کتاب معرفۃ اخبار الرجال مصنفہ شیخ جلیل ابو عمرو محمد بن عمر بن عبد العزیز "رجال کشی" مطبوعہ بمبئی صفحہ 30 میں یہ حدیث بروایت بریدہ اسلمی درج ہے۔

صفحہ 2 از 4