ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ - ردِ رافضیت | دفاع اسلام

ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

  مولانا قاضی محمد کرم الدین دبیر رحمہ اللہ

صفحہ 1 از 4

خلیفہ اول حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے واقعہ غار کے متعلق تفسیر عسکری، قمی اور حملہ حیدری کی عبارتیں اوپر لکھی جا چکی ہیں، جن سے فضائلِ صدیق رضی اللہ عنہ کا نمایاں ثبوت ملتا ہے۔ اب دوسری کتب سے روایات لکھی جاتی ہیں۔

اول: فروع کافی جلد دوم، صفحہ 4 میں ایک طویل حدیث مرویہ جناب صادقؒ درج ہے جس میں صدقہ کے متعلق ذکر ہے کہ کل مال صدقہ نہیں کر دینا چاہیے تاکہ خود ملوم و محسور نہ بن جائے آگے لکھا ہے:

هذه احادیث رسول الله صلى الله عليه وسلم يصدقها الكتب. والكتاب يصدقه اهله من المؤمنين. وقال ابوبكرؓ عند موته حيث قيل له او من فقال اوصی بالخمس وقد جعل الله له الثلث عند موته ولو علم ان الثلث خير له اوصى به ثم من علمتم بعده في فضله و زهده سلمانؓ وابوذرؒ. فاما سلمان فكان اذا احد اعطاء رفع منه قوته لسنة حق يحضر عطاء من قابل فقيل له يا ابا عبدالله انت فی زهدك تصنع هذا وانت لاتدرى لعلك تموت اليوم فكان جوابه ان قال مالكم لا ترجون لی البقاء كما خفتم على الفناء اما علمتم ياجهلة ان النفس قد تلتاث على صاحبها اذا لم يكن من العيش ما تعقد علیہ واذا هی احذزت معيشتها اطمانت و اما ابوذرؓ فكان له لزيفات وشويهات يحلبها ويذبح منها اذا اشتهيى اهله اللحم او نزل به ضيف اوراى باهله الذی معه خصاصة يجزهها الجدورا ومن الشياء على قدر ما يذهب عنهم بقرم اللحم وياخذهو نصيب واحد منهم لا يتفضل عليهم و من ازهد من هؤلاء وقد قال فيهم رسول الله صلى الله عليه وسلم ما قال.

ترجمہ: یہ احادیث رسول پاکﷺ ہیں۔ جنکی تصدیق کتاب اللہ کرتی ہے اور كتاب اللہ کی تصدیق (اپنے عمل سے) مومنین کرتے ہیں جو کتاب اللہ سمجھنے کے اہل ہوں۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے بوقت وفات جب کہ اس کو وصیت کے لیے کہا گیا۔ فرمایا کہ میں پانچویں حصہ مال کی وصیت کرتا ہوں۔ چنانچہ پانچویں حصہ کی وصیت کی حالانکہ خدا نے تیسرے حصہ کی اجازت دی ہوئی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ تیسرے حصہ کی وصیت میں زیادہ ثواب ہے تو ایسا ہی کرتا۔ پھر ابوبکر رضی اللہ عنہ کے دوسرے درجہ پر فضل و زہد میں تم سلمان اور ابوذر رضی اللہ عنہما کو سمجھتے ہو۔ پس سلمانؓ کو کوئی عطیہ دیتا پورے سال کی خوراک زخیرہ کر لیتا۔ حتیٰ کہ سال آئندہ کو پھر عطیہ حاصل ہو۔ لوگوں نے کہا۔ آپﷺ باوجود زاہد ہونے کے ایسا کرتے ہیں۔ آپ کو معلوم نہیں آج ہی فوت ہو جائیں۔ جواب دیا تمہیں میرے زندہ رہنے کی امید نہیں ہے؟ جیسا کہ میرے مر جانے کا اندیشہ ہے۔ اے جاہلو! تمہیں معلوم ہو کہ نفس اپنے صاحب پر سرکشی کرتا ہے۔ جب تک کہ اس قدر معیشت نہ مل جائے جس پر اُسے بھروسہ ہو اور جب وہ اپنی معیشت فراہم کرلے مطمئن ہو جاتا ہے اور ابوذرؓ کے پاس اونٹنیاں اور بکریاں رہتی تھیں جو دودھ دیتی تھیں اور جب ان کے عیال کو گوشت کی حاجت ہوتی یا کوئی مہمان آ جاتا یا اپنے متعلقین کو بُھوکا دیکھتے ان میں سے اونٹ یا بکری ذبح کر لیتے اور سب میں تقسیم کر دیتے اور اپنے لیے ایک آدمی کی خوراک رکھ لیتے جو دوسروں سے زائد نہ ہو تم جانتے ہو کہ ان تین مقدس بزرگواروں سے بڑھ کر بڑا زاہد کون ہو سکتا ہے؟ حالانکہ ان کی شان میں رسول پاکﷺ نے فرمایا جو کچھ کہ فرمایا۔

اس حدیث میں حسبِ ذیل باتیں ظاہر ہوئیں:

1: حضرت امام کے نزدیک حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ ان مومنین کاملین میں سے تھے جو کتاب اللہ کے سمجھنے کی اہلیت رکھتے تھے اور اپنے عمل سے کتاب اللہ کے احکام کی تصدیق کرتے تھے۔

2: حضرت سلمان اور ابوزر رضی اللہ عنہما فضل و زہد میں دوسرا درجہ رکھتے تھے اور حضرت ابوبکر صدیقؓ کا زبد و فضل اس سے اول درجہ(فائق) تھا۔

3: سیدنا ابوبکرؓ ان برگزیدہ زاہدوں سے تھے جن کا ہم پلہ کوئی دوسرا شخص نہیں ہو سکتا۔

4: حضرت ابوبکرؓ کی شان میں آنحضرتﷺ نے بہت سی احادیث بیان کی ہوئی تھیں۔

سوال شیعہ: ممکن ہے کہ (مَنْ أَزْهَد من هؤلٓاء) کا اشارہ صرف سلمان اور ابوذر رضی اللہ عنہما کی طرف ہو اور ابوبکر رضی اللہ عنہ ان میں شمار نہ ہوں۔

جواب: اگر معترض عقل کا اندھا نہیں ہے تو ابتداء حدیث میں الفاظ "الْكِتاب يصَدِّقُهٗ أَهْلُهُ مِنَ الْمُؤْمِنِينَ" کے بعد پہلے ذکر حضرت ابوبکرؓ کا ہونا اور پھر سلمان اور ابوذر رضی اللہ عنہما کے متعلق امام کا یہ فرمانا (ثُمَّ مَنْ عَلِمْتُمْ بَعْدَهُ فِیْ فَضْلِهٖ وَ زُهْدِهٖ) جس کا مفہوم صاف یہ ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ کے فضل و زہد کے دسرے درجہ پر سلمان اور ابوزر رضی اللہ عنہما ہیں پھر هولٓاء کا مشار الیہ صرف دو کو سمجھنا حد درجہ کی حماقت ہے۔ هولاء کے مشار الیہ بلاشبہ ہرسہ بزرگوار ہیں اور حدیث میں اس بات کی تصریح موجود ہے کہ زہد و فضل میں حضرت ابوبکرؓ کا نمبر سب سے اول ہے۔

افسوس! شیعہ اپنی مستند کتابوں میں اصحابِ ثلاثہؓ کے زہد و تقویٰ کی نسبت ایسی شہادت ائمہ اہلِ بیت پڑھ کر بھی ان کی بد گوئی سے باز نہیں آتے۔ خَتَمَ اللّٰهُ عَلَىٰ قُلُوۡبِهِمۡ وَعَلٰى سَمۡعِهِمۡ‌ وَعَلٰىٓ اَبۡصَارِهِمۡ غِشَاوَةٌ وَّلَهُمۡ عَذَابٌ عَظِيۡمٌ 

دوم: علامہ طبرسی کتاب مجمع البیان میں تحریر کرتا ہے کہ آیت وَسَيُجَنَّبُهَا الۡاَتۡقَى الَّذِىۡ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی شان میں نازل ہوئی ہے۔ روایت یوں ہے۔

عَنِ بْن زُبَيرٍ قَالَ إِنَّ الَّايَةَ نَزَلَتْ فِی أَبِی بَكْرٍ لَانَّهُ اشْتَرَى الْمَمَالِیكَ الَّذِينَ اسْلَمُو مِثْلَ بِلالٍ وَ عَامِرِ بن فُهَيْرَةَ وَ غَيْرِ همَا وَأَعْتَقَهُمُ.

ترجمہ: ابنِ زبیر سے روایت ہے کہ یہ آیت شانِ ابوبکرؓ میں نازل ہوئی ہے۔ اس نے (غلاموں کو جو اسلام لائے) اپنے مال سے خرید لیا جیسا کہ بلال اور عامر بن فہیرہ رضی اللہ عنہم اور ان کو آزاد کیا۔

اب جس کی خدمات اسلام میں یہ ہوں۔ کہ بلال رضی اللہ عنہ جیسے عاشق ذات نبویﷺ کو کفار کے ہاتھ سے اپنا مال خرچ کر کے نجات دلائے اور آزاد کر دے اور اللہ تعالیٰ اس کے صرف متقی نہیں بلکہ اتقیٰ ہونے کی شہادت دے۔ اس شخص کی شان والا میں گستاخی کرنا کتنی جسارت ہے؟ خدا روافض کو ہدایت کرے۔

سوم: کتاب احتجاج: صفحہ 202 میں سیدنا باقرؒ کی حدیث درج ہے۔ آپ نے فرمایا:

صفحہ 1 از 4