خلاصہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

خلاصہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 7 از 7

64۔ میری یہ متواضع کوشش قابل نقد اور رہنمائی کی محتاج ہے۔ یہ ایک حقیر کوشش ہے جس سے مقصود خلافت راشدہ کے دور کی حقیقت کی معرفت ہے تاکہ اس سے ہم نفاذ شریعت اور لوگوں میں اس کی نشر و اشاعت میں استفادہ کریں۔ میں ناقدین کی خدمت میں شاعر کا یہ قول پیش کرتا ہوں:

إن تَجِد عیبا فَسُدَّ الْخَلَلَا

جلَّ مَنْ لا عیب فیہ وعَلَا

’’اگر آپ کو کوئی نقص و عیب نظر آئے تو اس خلل کو دور کر دیجیے، صرف اللہ جل وعلا کی ذات ایسی ہے جس کے اندر کوئی نقص وعیب نہیں ہے، صرف اسی کا کام اس سے پاک ہے۔‘‘

میں عرش عظیم کے مالک اللہ علی وعظیم سے دعا گو ہوں کہ اس ناچیز کی کوشش کو اچھی طرح قبول فرمائے اور اس میں برکت عطا کرے اور اسے میرے ان اعمال صالحہ میں شمار فرمائے جس سے مجھے اس کی قربت حاصل ہو، مجھے اور میرے ان دوستوں کو اجر و ثواب سے محروم نہ کرے جنہوں نے اس کی تکمیل میں میرا تعاون کیا ہے، اور ہم سب کو انبیاء وصدیقین، شہداء اور صالحین کی رفاقت نصیب فرمائے۔

میں اپنی اس کتاب کو اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر ختم کرتا ہوں:

رَبَّنَا اغۡفِرۡ لَـنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِىۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ ۞( سورۃ الحشرآیت 10)

ترجمہ: اے ہمارے پروردگار! ہماری بھی مغفرت فرمایئے، اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں، اور ہمارے دلوں میں ایمان لانے والوں کے لیے کوئی بغض نہ رکھیے۔ اے ہمارے پروردگار ! آپ بہت شفیق، بہت مہربان ہیں۔ 

اور آخر میں ابن الوردی شاعر کا یہ قول پیش کرتا ہوں، جو اس نے اپنے لخت جگر سے کہا تھا:

اطلُبِ العلم ولَا تَکْسَلْ فما

أَبْعَد الخَیْر علی أَہلِ الکَسَلْ

’’علم طلب کر، سستی مت کر، سستی کرنے والوں سے خیر بہت ہی دور ہوتا ہے۔‘‘

احْقفل لِلْفِقْہِ فِی الدِّیْنِ وَلا

تشتغل عنہ بمال وحَوَل

’’دین کا علم وفہم حاصل کرنے کے لیے جت جا اور مال ومتاع کے چکر میں اس سے مشغول نہ ہو۔‘‘

وَاہجُرِ النَّومَ وَحَصِّلْہ فَمَنْ

یَعْرِفِ المطلوب یَحْقِرْ مَا بَذَلْ

’’نیند کو خیرباد کہہ دے اور اس کو حاصل کرنے میں لگ جا، جو مطلوب کی قدر وقیمت پہچانتا ہے وہ اپنی تمام کوششوں کو حقیر سمجھتا ہے۔‘

‘لَا تَقُل قَدْ ذَہَبَتْ اَربَابُہٗ

کل من سار علی الدَّرْبِ وَصَلْ

’’یہ مت کہو کہ علم والے ختم ہو گئے۔ جو بھی صحیح راستہ پر لگتا ہے، منزل تک پہنچتا ہے۔‘‘

سبحانک اللہم وبحمدک اشہد ان لا الہ الا انت استغفرک واتوب الیہ۔وآخر دعوانا ان الحمد للہ رب العالمین


صفحہ 7 از 7