خلاصہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

خلاصہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 6 از 7

56۔ حضرت خالد بن ولید رضی اللہ عنہ رومی فوج پر مختلف معرکوں میں فتح وانتصار حاصل کرنے میں کامیاب ہوئے، جن میں سے اہم اجنادین اور یرموک کے معرکے ہیں۔

57۔ محقق خلافت صدیقی میں خارجہ پالیسی کے اہم خطوط ونقوش کا استنباط کر سکتا ہے، جو یہ ہیں: دوسری اقوام کے دلوں میں اسلامی خلافت کی ہیبت و رعب جمانا، جہاد کو جاری رکھنا، جس کا حکم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے دیا تھا، مفتوحہ اقوام کے درمیان عدل وانصاف قائم کرنا اور ان کے ساتھ نرمی کا برتاؤ کرنا، ان سے زور زبردستی کو دور کرنا اور ان کے اور اسلام کے مابین بشری موانع کا خاتمہ۔

58۔ فتوحات صدیقی کا مطالعہ کرنے والا آپؓ کے جنگی منصوبہ کی بنیادی پلاننگ معلوم کر سکتا ہے۔ اس عظیم خلیفہ نے اسباب کا استعمال کیسے کیا؟ اور کس طرح یہ محکم منصوبہ مسلمانوں کے لیے فتح وتمکینِ الہٰی کے نزول کا سبب رہا؟ انہی پلاننگ میں سے یہ ہیں: دشمن کے ملک میں اندر گھسنے سے احتراز کیا جائے، یہاں تک کہ وہ مسلمانوں کے تابع ہو جائے، فوج اکٹھی کرنا اور مکمل تیاری، فوج کو امداد وکمک بھیجنے کا باقاعدہ انتظام، مقاصد جنگ کی تحدید، میدان معرکہ کی ضروریات کو اہمیت وفوقیت دیا، میدان معرکہ سے برطرفی، اسلوب قتال میں تطور وترقی، قائدین کے ساتھ روابط کی حفاظت، خلیفہ کی ذکاوت وزیر کی۔

59۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے قائدین اور لشکر کو دی گئی تعلیمات میں اللہ کے حقوق کو بیان کیا، جیسے دشمن کے سامنے ڈٹ جانا، قتال میں اخلاص، امانت داری، اللہ کے دین کی نصرت وتائید میں ٹال مٹول اور کوتاہی نہ کرنا اور آپ نے لشکر ورعایا پر قائدین کے حقوق متعین کیے، جیسے قائدین کی اطاعت کا التزام کرنا، ان کی فرمانبرداری میں جلدی کرنا، مال غنیمت کی تقسیم میں ان سے اختلاف نہ کرنا وغیرہ۔

اسی طرح آپ نے اپنے خطوط اور وصیتوں میں فوج کے حقوق کو بھی تفصیل سے بیان کیا جیسے ان کا جائزہ لینا اور ان کے حالات کو برابر معلوم کرتے رہنا، سفر کے دوران میں ان پر نرمی کرنا، ان پر عریف و نقیب متعین کرنا، دشمن سے جنگ کے لیے صحیح جگہ ان کو اتارنے کے لیے متعین کرنا، لشکر کی ضرورت کے مطابق زاد وچارہ کا انتظام کرنا، لشکر کی حفاظت کی خاطر بااعتماد مخبروں اور جاسوسوں کے ذریعہ سے دشمنوں کی خبر معلوم کرتے رہنا، انہیں جہاد پر ابھارنا، ثواب اور جہاد کی فضیلت ان سے بیان کرتے رہنا، ان میں سے ذی فہم لوگوں سے مشورے کرنا، حقوق اللہ کی ادائیگی کی ان کو تلقین کرنا اور زراعت وتجارت میں لگ کر جہاد سے مشغول ہونے سے ان کو منع کرنا وغیرہ۔

ان سب حقوق کو میں نے آپ کے خطوط اور قائدین کو بھیجی گئی وصیتوں سے اخذ کیا ہے۔

60۔  فتوحات اسلامی میں غور و فکر کرنے والا یہ دیکھتا ہے کہ توفیق الہٰی ابوبکر رضی اللہ عنہ کی فوج کے شامل حال رہی۔ اس ظفر یاب فوج نے روم وفارس کی شان و شوکت کو خاک میں ملایا اور ان ممالک کو جنگ کی تاریخ میں انتہائی معمولی وقت میں فتح کیا۔ ان فتوحات کے اہم اسباب یہ تھے: مسلمانوں کا اس حق پر ایمان جس کی خاطر وہ جنگ کر رہے تھے، جنگی صفات کا مسلمانوں کے اندر رچ بس جانا، ان اقوام کے ساتھ مسلمانوں کا عدل و انصاف اور نرمی، جزیہ اور خراج کی تعیین میں مسلمانوں کی رحمت وشفقت، ان کے ساتھ ایفائے عہد، مسلمانوں کے پاس افراد وقائدین کی عظیم ثروت، اسلامی جنگی منصوبہ بندی کا محکم ہونا، وغیرہ۔

61۔ جب سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مرض الموت میں مبتلا ہوئے اور موت کا وقت قریب آیا تو آپ نے ہونے والے خلیفہ کے انتخاب کے لیے مختلف عملی اقدام کیے: مہاجرین و انصار میں سے کبار صحابہ سے مشورہ کرنا، جب ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خلافت کے لیے عمر رضی اللہ عنہ کے نام کی تجویز دی اور تمام صحابہ نے اس پر اتفاق کر لیا تو آپ نے فرمان نامہ لکھوایا ہے جو مدینہ اور دیگر شہروں میں لوگوں کو پڑھ کر سنایا جائے،  سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو اپنے عزائم سے آگاہ کیا اور آئندہ اقدامات سے باخبر کیا اور پورے ہوش و ہواس کی حالت میں بزبان خود لوگوں کو یہ بات بتلائی تاکہ کسی طرح کا التباس پیدا نہ ہونے پائے، دعا کے ساتھ اللہ کی طرف متوجہ ہوئے اور مناجات کرنے لگے، عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو اس بات کا مکلف کیا کہ وہ لوگوں کو یہ فرمان نامہ پڑھ کر سنائیں، اپنی وفات سے قبل عمر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی بیعت لی اور عمر رضی اللہ عنہ کو تنہائی میں تعلیمات دیں۔

62۔ ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے بعد خلیفہ کے انتخاب کے لیے جو اقدامات کیے وہ کسی حالت میں بھی شورائیت کے منافی اور اس سے متجاوز نہیں۔ اگرچہ یہ اقدامات وہ نہ تھے جو خود ابوبکر رضی اللہ عنہ کے انتخاب کے وقت اختیار کیے گئے تھے اور اس طرح شورائیت اور اتفاق رائے سے عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کی خلافت وجود میں آئی اور تاریخ میں اس کے بعد آپ کی خلافت کے سلسلہ میں کوئی اختلاف رونما نہ ہوا اور نہ آپ کے دور خلافت میں کوئی آپ کا مدمقابل بن کر کھڑا ہوا اور آپ کی خلافت کے دوران میں آپ کی خلافت واطاعت پر مسلمانوں کا اجماع رہا، سب کے سب ایک ہی وحدت میں پروئے ہوئے تھے۔

63۔۔۔  دنیا میں اللہ کے دین کی نشرواشاعت کے راستہ میں عظیم جہاد کے بعد ابوبکر رضی اللہ عنہ اس دنیا سے رخصت ہوئے۔ انسانی تمدن اس شیخ جلیل کی مقروض رہے گی جس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد آپ کی دعوت کا پرچم بلند کیا، آپ کے لگائے ہوئے پودے کی حفاظت کی، عدل وحریت کے بیج کی نگہبانی کی اور اسے شہداء کے پاکیزہ خون سے سیراب کیا، جس سے ہر طرح کے ثمرات امت کو وافر مقدار میں ملے اور تاریخ میں علوم وثقافت اور فکر کو عظیم تقدیم حاصل ہوا۔ تہذیب صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کی مقروض رہے گی کیونکہ آپ کے جہاد اور صبر عظیم کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے دین اسلام کی حفاظت فرمائی اور اسلام کو اقوام وامم اور مختلف ممالک میں عظیم فتوحات کے ذریعہ سے پھیلا دیا۔

صفحہ 6 از 7