خلاصہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

خلاصہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 5 از 7

44۔ یمامہ میں لشکر خالد کے سامنے بنو حنیفہ کی ہزیمت و شکست تحریک ارتداد کے لیے کمر توڑ ثابت ہوئی۔ معرکہ یمامہ میں شہداء کی فہرست میں بہت سے حفاظ قرآن شامل تھے۔ جس کے نتیجے میں ابوبکر رضی اللہ عنہ نے عمر رضی اللہ عنہ کے مشورہ سے قرآن کو جمع کروایا اور یہ عظیم ذمہ داری صحابی جلیل زید بن ثابت انصاری رضی اللہ عنہ کے سپرد کی۔

45۔ دور صدیقی اور سیدنا ابوبکرؓ کے بعد خلفائے راشدینؓ کے دور میں تمکین وغلبہ کی تمام شرائط وجود میں آئیں اور اللہ رب العالمین کے بعد امت کو ان شرائط کی تذکیر میں ابوبکر رضی اللہ عنہ کا بڑا ہاتھ رہا۔ اسی لیے آپؓ نے اعراب کے زکوٰۃ کی عدم وصولی کے مطالبہ کو مسترد کر دیا، لشکر اسامہ کو روانہ کرنے پر مصر رہے، مکمل شریعت کا التزام کیا، چھوٹی یا بڑی کسی چیز سے تنازل قبول نہ کیا۔

46۔ حروب ارتداد میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی تیاری معنوی اور مادی ہر پہلو کو شامل تھی۔ آپ نے فوج تیار کی، فوجی دستے اور ان کے لیے پرچم مقرر کیے، قائدین وجرنیل منتخب کیے، مرتدین سے خط کتابت کی، صحابہ کو مرتدین سے قتال پر ابھارا، اسلحہ، گھوڑے، اونٹ جمع کیے، مجاہدین کو سازوسامان کے ساتھ تیار کیا، بدعت، جہالت، نفس پرستی کے خلاف جنگ کی، شریعت کو نافذ کیا، وحدت و اتحاد کے اصول اپنائے، کسی ذمہ داری کے لیے ذمہ دار کو مکمل فارغ کر دینے اور اس کے لیے مطلوبہ صلاحیت کے اصول کو اپنایا۔ چنانچہ خالد رضی اللہ عنہ کو فوج کی قیادت کے لیے، زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو جمع قرآن کے لیے، ابوبرزہ اسلمی رضی اللہ عنہ کو جنگی خط کتابت کے لیے مقرر کیا اور امن اور نشر و اشاعت وغیرہ شعبوں کا بھرپور اہتمام کیا۔

47۔ دور صدیقی میں شریعت الہٰی کے نفاذ کی برکات صحابہ کرام کے غلبہ وتمکین کی شکل میں نمودار ہوئیں۔ اپنے اور اپنے اہل وعیال پر اللہ کے شعائر کو نافذ و قائم کرنے کے حریص بنے اور شریعت کے نفاذ میں اخلاص سے کام لیا تو اللہ تعالیٰ نے ان کو قوت وطاقت بخشی، مرتدین پر ان کو فتح نصیب فرمائی اور امن واستقرار عطا فرمایا۔

48۔ حروب ارتداد میں صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے جو جہاد کیا یہ اللہ کی طرف سے آئندہ اسلامی فتوحات کی تیاری تھی۔ اس دوران میں پرچم ممتاز ہوئے، قدرتیں اور صلاحیتیں نمودار ہوئیں، طاقتیں ابھریں، جنگی قیادتوں کا انکشاف ہوا، قائدین نے انواع واقسام کے جنگی اسلوب اور منصوبے وضع کیے، سچی، مطیع و فرمانبردار، منضبط اور بیدار مغز عسکریت کی صلاحیتیں نمودار ہوئیں، جن کے سامنے قتال کے مقاصد و اہداف عیاں تھے اپنی کوششوں اور قربانیوں کا مقصد انہیں معلوم تھا، اسی لیے کار کردگی ممتاز رہی اور فدائیت عظیم رہی۔

49۔ جزیرئہ عرب اپنی تاریخ میں پہلی مرتبہ اللہ کے فضل و کرم اور پھر سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ساتھ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کے جہاد سے پرچم اسلام کے نیچے متحد ہوا۔ اسلامی دارالخلافہ مدینہ کو پورے جزیرہ عرب پر کنٹرول حاصل ہوا۔ ایک زعیم و قائد کی قیادت میں ایک اصول و فکر کے تحت پوری امت چلنے لگی، یہ انتصار و غلبہ اسلامی دعوت اور امت کی وحدت کی فتح تھی، جو اختلاف وعصبیت کے عوامل و اسباب پر غلبہ پا کر حاصل ہوئی اور یہ اس بات کی دلیل و برہان تھی کہ ابوبکر رضی اللہ عنہ کی قیادت انتہائی شدید بحران و مشکلات پر غلبہ حاصل کرنے پر قادر تھی۔

50۔  تاریخی واقعات نے یہ ثابت کر دیا کہ دین اسلام کے خلاف تمرد وعصیان کی ہر کوشش خواہ فرد کی طرف سے ہو یا جماعت کی طرف سے یا حکومت وسلطنت کی طرف سے، اسے بری طرح ناکامی کا منہ دیکھنا ہوگا۔ کیونکہ یہ تمرد وعصیان اللہ کے حکم (قرآن) کے خلاف تمرد وعصیان ہے جس کی حفاظت اور اس پر قائم رہنے والی جماعت کی حفاظت کی ذمہ داری خود رب العالمین نے لے رکھی ہے۔

51۔ جوں ہی ارتداد کی جنگ ختم ہوئی اور جزیرہ عرب میں استقرار آیا، سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے فتوحات کے منصوبے کی تنفیذ شروع کر دی، جن کی پلاننگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے تیار کی تھی۔ چنانچہ آپؓ نے شام وعراق کو فتح کرنے کے لیے لشکر تیار کر کے روانہ کیا۔

52۔ فتح عراق کے قائدین خالد وعیاض رضی اللہ عنہما کو جو تعلیمات اور اوامر ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جاری کیے وہ ترقی یافتہ فوجی حکیمانہ شعور پر دلالت کرتے ہیں، جن کے آپ مالک تھے۔ آپ نے مختلف حکیمانہ اور ٹیکنیکل عسکری تعلیمات دیں، دونوں مسلم قائدین کے لیے عراق میں داخلہ کے جغرافیائی حدود اور علاقوں کی تحدید فرمائی گویا کہ آپ خود حجاز میں مرکز قیادت (آپریشن روم) سے جنگ کی قیادت فرما رہے ہیں اور آپ کے سامنے عراق کا مکمل نقشہ ( Map) پوری تفصیل کے ساتھ موجود ہے۔

53۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے عراق میں متعدد معرکے سر کیے جو فتح عراق کا سبب بنے، جیسے معرکہ ذات السلاسل، معرکہ مذار، معرکہ ولجہ، معرکہ الیس، فتح حیرہ، معرکہ انبار، معرکہ عین التمر، معرکہ دومۃ الجندل، معرکہ حصید، معرکہ مصیخ اور معرکہ فراض۔

54۔ سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے جب شام کو فتح کرنے کا ارادہ فرمایا تو کبار صحابہ سے مشورہ فرمایا، اہل یمن سے جہاد پر نکلنے کا مطالبہ کیا، قائدین فوج کے پرچم متعین کیے اور شام کی طرف چار لشکر روانہ کیے اور یزید بن ابی سفیان، ابو عبیدہ بن جراح، عمرو بن عاص، شرحبیل بن حسنہ رضی اللہ عنہم فتح شام پر نکلنے والی اسلامی افواج کے قائدین تھے۔

55۔ فتح شام پر مکلف کی ہوئی فوج کو مشکلات کا سامنا تھا کیونکہ ان کے مقابلہ میں رومی سلطنت کی ترقی یافتہ فوج تھی، جو تعداد اور جنگی سازوسامان کے اعتبار سے امتیازی حیثیت کی حامل تھی۔ قائدین نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے خط کتابت کی اور ان کو اس سنگین صورت حال سے آگاہ کیا، تو آپ نے انہیں مختلف شامی علاقوں سے انخلاء کر کے یرموک میں ایک ساتھ جمع ہونے کا حکم فرمایا اور پھر خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو فتح عراق پر متعین نصف اسلامی فوج کو لے کر شام پہنچنے اور وہاں کمان سنبھالنے کا حکم فرمایا۔

صفحہ 5 از 7