خلاصہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

خلاصہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 7

31۔  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد جو عرب قبائل ارتداد کا شکار ہوئے اس کے مختلف اسباب تھے، من جملہ ان اسباب کے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی موت کا صدمہ، دین و نصوص کی کم فہمی، جاہلیت کا اشتیاق، نظام سے فرار اور اسلامی حکومت کے خلاف خروج، قبائلی عصبیت، حکومت و بادشاہت کی طمع، دین کے ذریعہ سے دنیا کمانا، مال میں بخیلی، حسد، خارجی اثرات جیسے یہود و نصاریٰ اور مجوس کی سازشیں۔

32۔ ارتداد کی مختلف اقسام تھیں: کچھ لوگوں نے اسلام کو کلی طور سے ترک کر دیا اور دوبارہ وثنیت اور بت پرستی میں لگ گئے، کچھ لوگوں نے نبوت کا دعویٰ کیا، کچھ لوگ ترک صلاۃ کے مرتکب ہوئے اور کچھ لوگ اسلام کا اعتراف کرتے ہوئے نماز قائم رکھتے ہوئے زکوٰۃ کی ادائیگی سے رک گئے، کچھ لوگوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات پر خوشی منائی اور جاہلی عادات ورسوم کو اختیار کر لیا اور کچھ لوگ حیرانی اور تردد کا شکار ہو کر اس انتظار میں لگ گئے کہ غلبہ کس کو ملتا ہے۔ علمائے فقہ اور سیرت نگاروں نے ان سب کی وضاحت فرمائی ہے۔

33۔ مرتدین کے سلسلہ میں سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے مؤقف میں ذرا بھی نرمی اور سودے بازی اور تنازل نہ تھا۔ اللہ تعالیٰ کے بعد اپنی اصلی ہیئت وشکل میں دین کی سلامتی وبقا آپؓ ہی کی مرہون منت ہے۔ سب نے اس کو تسلیم کیا اور تاریخ نے اس بات کی شہادت دی کہ ارتداد کی تند و تیز آندھی کے سامنے (جو اسلام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے پر تلی تھی) سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے جو مؤقف اختیار کیا وہ انبیاء و رسل کا مؤقف تھا جو انہوں نے اپنے اپنے دور میں باطل کے سامنے اختیار کیا تھا اور یہی خلافت نبوت تھی جس کا حق سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے ادا کیا اور قیامت تک کے لیے مسلمانوں کی مدح وثنا اور دعا کے مستحق قرار پائے۔

34۔  یقیناً یہ بنیادی حقائق میں سے ہے کہ تمام لوگ ارتداد کا شکار نہ ہوئے تھے، بہت سے قائدین، قبائل، افراد اور جماعتیں ہر علاقہ میں اسلام کو مضبوطی کے ساتھ تھامے رہیں۔

35۔ حروب ارتداد کے دوران میں یمن میں خواتین کی دو مختلف ومتضاد تصویریں سامنے آئیں: ایک پاک باز و باعصمت خاتون کی تصویر، جس نے رذائل کے خلاف جنگ کی اور مسلمانوں کے ساتھ مل کر شیاطین انس وجن کی قوت کو کچلنے کے لیے اٹھ کھڑی ہوئی جیسے فیروز دیلمی رضی اللہ عنہ کی چچا زاد بہن اور شہر بن باذان کی بیوی آزاد فارسیہ کی شخصیت، اور دوسری تاریک تصویر حضرموت کی یہودی اور ان کی ہم نوا خواتین کی تصویر، جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات سے شاداں وفرحاں ہوئیں اور فسق و فجور کے ساتھ رنگین راتیں قائم کیں، رذائل ومنکرات کا بازار گرم کیا ان کے ساتھ شیطان اور اس کے کارندوں نے ننگا ناچ ناچا اور اسلام سے لوگوں کے پھرنے اور اسلام کے خلاف بغاوت و جنگ کی دعوت پر جشن منایا۔

36۔ حق پر ثبات، اسلام کی دعوت اور اپنی قوم کو ارتداد کے خطرناک نتائج سے آگاہ کرنے اور ڈرانے کے سلسلہ میں بعض اہل یمن کا عظیم مؤقف رہا، انہی میں سے بادشاہان یمن میں سے مران بن ذی عمیر ہمدانی اور عبداللہ بن مالک الارحبی رضی اللہ عنہ صحابی رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور کندہ کی شاخ بنو معاویہ کے شرحبیل بن سمط اور ان کے بیٹے تھے۔

37۔ حروب ارتداد کے بعد یمن مرکزی قیادت کے تحت متحد ہوا، جس کا دارالخلافہ مدینہ تھا۔ یمن کو تین اداری حصوں میں تقسیم کیا گیا، قبائل کو اساس نہ بنایا گیا: صنعاء، جند اور حضرموت۔ اور امارت و سرداری میں قبائلی عصبیت کو اساس نہ بنایا گیا، قبائل کی حیثیت فوجی یونٹ کی رہی اور اصل مقیاس ایمان، تقویٰ اور عمل صالح قرار پائے۔

38۔ معرکہ بزاخہ میں طلیحہ اسدی کی شکست فاش سے بہت سے قبائل دائرۂ اسلام میں واپس آگئے۔ چنانچہ بنو عامر اس معرکہ کے بعد یہ کہتے ہوئے آگے بڑھے: ہم جہاں سے نکلے تھے وہاں واپس ہو جائیں گے۔ چنانچہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ نے اہل بزاخہ، اسد، غطفان اور طے سے اور جن شرائط پر بیعت لی ان سے بھی بیعت لی۔

39۔ مالک بن نویرہ کے قتل کا اصل سبب اس کا کبر وغرور اور تردد تھا۔ اس کے اندر جاہلیت کا حصہ باقی رہا، اسی لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد خلیفہ رسول کی فرماں برداری اور بیت المال کے حق زکوٰۃ کی ادائیگی میں ٹال مٹول کیا۔

40۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مالک بن نویرہ کے قتل کی تحقیق کرتے ہوئے اس نتیجہ پر پہنچے کہ خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کا دامن اتہام قتل سے بری ہے۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو اس سلسلہ میں حقائق امور کا دیگر صحابہ کرامؓ کے مقابلہ میں زیادہ علم تھا، اس لیے کہ آپؓ خلیفہ تھے اور ساری خبریںآپ کو پہنچتی تھیں۔

41۔ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کو والی مقرر کرنا اور ان سے تعاون لینا سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے کمال کی دلیل ہے کیونکہ سیدنا خالد رضی اللہ عنہ کے اندر شدت تھی، آپ کی نرم طبیعت سے ان کی شدت نے مل کر اعتدال کی راہ لی کیونکہ مجرد نرمی اور مجرد سختی سے خرابی پیدا ہو سکتی ہے لہٰذا آپ نے عمر رضی اللہ عنہ کو مشیر رکھ کر اور خالد رضی اللہ عنہ کو نائب مقرر کر کے اعتدال پیدا کیا۔ یہ وہ کمال ہے جسے خلیفہ رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا۔

42۔ مثنیٰ بن حارثہ رضی اللہ عنہ کا بحرین کے فتنہ کو مٹانے اور علاء بن حضرمی رضی اللہ عنہ کے ساتھ اپنی فوج سمیت شامل ہونے میں بڑا اچھا اور عظیم کردار رہا۔ آپؓ اپنی فوج لے کر بحرین سے شمال کی طرف روانہ ہوئے اور قطیف اور ہجر پر قبضہ کرتے ہوئے دجلہ کے دہانے تک پہنچ گئے اور اپنے راستہ میں فارسی فوج اور فارسی نائبین وامراء کا قصہ تمام کیا۔ ان کی مہم کی خبریں برابر ابوبکر رضی اللہ عنہ کو پہنچتی رہیں ان کے بارے ان کے ساتھیوں سے دریافت کیا تو قیس بن عاصم منقری نے ان کے بارے میں شہادت دی: یہ شخص گمنام اور مجہول النسب نہیں اور نہ رزیل آدمی ہے، یہ تو مثنیٰ بن حارثہ شیبانی عظیم شخصیت کے مالک ہیں۔

صفحہ 4 از 7