خلاصہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

خلاصہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 7

22۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے خلافت کی بیعت عامہ کے بعد امت کو جو خطاب فرمایا، اپنے ایجاز کے باوجود چنندہ اسلامی خطبات میں سے ہے، اس کے اندر آپؓ نے حکومت کی قیادت کے لیے اپنے طریقہ کار کو بیان فرمایا اور حاکم و محکوم کے مابین تعامل کے سلسلہ میں عدل و رحمت کے اصول مقرر کیے اور اس بات پر زور دیا کہ حاکم کی اطاعت اللہ و رسول صلی اللہ علیہ وسلم کی اطاعت پر موقوف ہوتی ہے اور امت کے قوت و غلبہ میں جہاد فی سبیل اللہ کی اہمیت کے پیش نظر اس کا خاص طور سے ذکر فرمایا اور معاشرہ کو زوال وفساد سے محفوظ رکھنے میں فواحش ومنکرات سے اجتناب کی اہمیت کے پیش نظر اس پر زور دیا۔

23۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنی حکومت کے لیے تیار کردہ پالیسی کو نافذ کرنے کا ارادہ فرمایا، صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اپنا معاون و مساعد بنایا۔ چنانچہ امین امت ابوعبیدہ بن جراح رضی اللہ عنہ کو بیت المال کے امور یعنی وزارت مالیہ کا عہدہ سونپا، سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کو قضاء کا محکمہ (وزارت عدل) حوالے کیا اور خود بھی قضاء کی ذمہ داری سنبھالتے رہے، زید بن ثابت رضی اللہ عنہ کو محکمہ کتاب (وزارت برید ومواصلات) حوالے کیا، اور بسا اوقات دیگر وقت پر موجود صحابہ جیسے علی بن ابی طالب یا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم یہ کام کرتے رہے۔ مسلمانوں نے سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کو خلیفہ رسول کا لقب دیا اور صحابہ کرامؓ نے یہ ضرورت محسوس کی کہ آپؓ کو منصب خلافت کے لیے فارغ کیا جائے چنانچہ امت نے آپ کے ضروری اخراجات کی کفالت کی۔

24۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے مسلمانوں کے درمیان خلیفہ رسول کی حیثیت سے زندگی گذاری۔ چنانچہ آپؓ لوگوں کی تعلیم، امر بالمعروف اور نہی عن المنکر برابر کرتے رہے، آپ کے کارناموں سے رعایا میں ہدایت وایمان اور اخلاق کی کرنیں پھوٹیں۔

25۔ دور صدیقی دور رشد کا آغاز ہے۔ دور نبوی سے متصل اور قریب ہونے کی وجہ سے اس کی اہمیت نمایاں ہے۔ خلافت راشدہ کا دور عام طور سے قضا اور خاص طور سے، دور نبوی میں ثابت شدہ تمام امور کی مکمل محافظت اور پھر نصاً ومعناً اس کی تنفیذ و تطبیق میں دور نبوی کے قضا کا امتداد تھا۔

26۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ مختلف شہروں میں امراء و گورنر مقرر فرماتے اور ان کے ذمہ ادارت، حکومت، امامت، زکوٰۃ کی وصولی اور دیگر امور ولایت سونپتے۔ امراء اور گورنروں کے انتخاب وتقرر میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتدا فرماتے۔ اسی لیے ہم دیکھتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے وقت آپؓ کے مقرر کردہ جو امراء و گورنر اپنے عہدہ پر فائز تھے ان میں سے کسی کو بھی آپؓ نے معزول نہیں کیا اِلایہ کہ کسی دوسری جگہ پر ان کی ضرورت واہمیت کے پیش نظر ان کی رضا ورغبت سے منتقل کیا ہو جیسا کہ عمرو بن عاص رضی اللہ عنہ کے ساتھ پیش آیا۔ امراء اور گورنروں کے اختیارات بدرجہ اولیٰ انہی اختیارات کا امتداد تھے جو عہد نبوی میں موجود تھے۔ خاص کر وہ امراء و گورنر جن کی تعیین رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دور میں ہوئی تھی۔

27۔ علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ اور اسی طرح زبیر بن عوام رضی اللہ عنہ کی بیعت کی تاخیر سے متعلق بہت سی روایات بیان کی جاتی ہیں، جن کا صحت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ سوائے ابن عباس رضی اللہ عنہما کی اس روایت کے کہ علی و زبیر رضی اللہ عنہما فاطمہ رضی اللہ عنہا کے گھر میں بیعت سے پیچھے رہ گئے۔ تو اس کی وجہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تجہیز و تکفین میں مہاجرین کی ایک جماعت کی مشغولیت تھی، جن میں علی رضی اللہ عنہ پیش پیش تھے۔ چنانچہ زبیر بن عوام اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہما دونوں نے وفات نبوی کے دوسرے دن بروز منگل ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر بیعت کی۔

28۔  جس وقت سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ سے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی میراث سے متعلق سوال کیا گیا تو آپؓ نے فاطمہ اور عباس رضی اللہ عنہما سے فرمایا: میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے سنا ہے: ’’ہمارا کوئی وارث نہیں ہوتا، ہم انبیاء جو کچھ چھوڑتے ہیں وہ صدقہ ہوا کرتا ہے۔ آل محمد اس مال سے کھاتے رہیں گے۔‘‘ اور دوسری روایت میں ہے کہ آپ نے فرمایا: ’’رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم جو کرتے تھے اس کو میں چھوڑ نہیں سکتا، میں اسے ضرور کروں گا، مجھے خوف ہے کہ اگر میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کوئی حکم چھوڑ دیا تو گمراہ ہو جاؤں گا۔‘‘

اور تاریخی حیثیت سے یہ ثابت ہے کہ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اپنی خلافت کے دوران مدینہ کے فے، مال فدک اور خیبر کے خمس میں سے اہل بیت کا حق برابر دیتے رہے لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے فرمان پر عمل کرتے ہوئے آپ نے احکام میراث اس میں نافذ نہ کیا۔

29۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ نے اپنے خطاب میں خلیفہ رسول کی حیثیت واضح کی اور یہ بتلایا کہ وہ اللہ کے خلیفہ نہیں بلکہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ ہیں اور وہ بشر ہیں معصوم نہیں، وہ اس کی استطاعت وطاقت نہیں رکھتے جو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنی نبوت و رسالت کے ساتھ رکھتے تھے۔ وہ اپنی سیاست وپالیسی میں متبع ہیں مبتدع نہیں۔

30۔ لشکر اسامہ کو روانہ کرنے کے دروس و عبر میں سے یہ ہے کہ حالات کے اندر تغیر و تبدل ہوتا رہتا ہے لیکن حالات کی تبدیلی اور شدائد ومحن اہل ایمان کو امور دین سے مشغول نہیں کر سکتے اور تحریک دعوت کسی ایک فرد سے مرتبط نہیں ہے۔ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اتباع واجب ہے، اہل ایمان کے درمیان اختلاف رونما ہو سکتا ہے لیکن اس کا حل کتاب وسنت ہے، دعوت عمل سے مربوط ہے اور اس سے خدمت اسلام میں نوجوانوں کے مقام و مرتبہ اور جہاد میں اسلامی آداب کا پتہ چلتا ہے۔ لشکر اسامہ اپنے مقاصد میں کامیاب رہا۔ اس کے اثر سے شمال میں ارتداد کی تحریک سرد پڑ گئی اور اس کے لیے یہ کمزور ترین خطہ ثابت ہوا۔

صفحہ 3 از 7