خلاصہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

خلاصہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 7

15۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اللہ پر عظیم ایمان کے مالک تھے۔ آپؓ نے حقیقت ایمان کو سمجھا تھا اور کلمہ توحید آپؓ کے قلب وروح میں پیوست ہو چکا تھا، اس کے آثار آپؓ کے اعضاء وجوارح میں نمایاں ہو چکے تھے۔ ان آثار کے ساتھ آپؓ نے زندگی گذاری، آپؓ بلند اخلاق سے متصف اور برے اخلاق سے پاک رہے، شریعت الہٰی کی پابندی اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی اقتداء کے حریص رہے اور آپؓ کا ایمان باللہ آپؓ کی حرکت وہمت، نشاط وسعی، جہد ومجاہدہ، جہاد و تربیت اور عزت و سربلندی کا باعث رہا اور آپؓ کے دل میں بہت زیادہ ایمان ویقین تھا۔ اس سلسلہ میں صحابہ میں سے کوئی آپؓ کے مساوی نہ تھا۔

16۔ سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ اللہ کو سب سے زیادہ جاننے والے اور سب سے زیادہ اس سے ڈرنے والے تھے۔ اہل سنت کا اس پر اتفاق ہے کہ امت کے سب سے بڑے عالم ابوبکر رضی اللہ عنہ تھے۔ بہت سے لوگوں نے اس پر اجماع نقل کیا ہے اور علم وفضل میں تمام صحابہ پر تقدم و فوقیت کا سبب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ہمیشہ رہنا تھا۔ آپؓ ہمیشہ رات ہو یا دن، سفر ہو یا حضر، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ رہتے۔ آپؓ عشاء کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بیٹھ کر مسلمانوں کے مسائل کے سلسلہ میں گفتگو فرماتے۔ مدینہ سے جو پہلا حج کیا گیا اس کا امیر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ کو مقرر فرمایا اور یہ بات بالکل واضح ہے کہ مناسک حج کا علم انتہائی دقیق ہے۔ اگر وسعت علم نہ ہوتی تو آپؓ کو امیر نہ بناتے۔ اسی طرح نماز میں آپ کو نیابت سونپی۔ اگر علم نہ ہوتا تو آپ کو نائب نہ مقرر کرتے۔ آپ کے سوا کسی دوسرے کو نہ تو حج میں اور نہ نماز میں نیابت سونپی اور زکوٰۃ کی تفصیلی کتاب جسے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے لکھوایا تھا، انس رضی اللہ عنہ نے ابوبکر رضی اللہ عنہ سے حاصل کی اور زکوٰۃ سے متعلق یہ سب سے صحیح ترین روایت ہے۔ اسی پر فقہاء وغیرہ نے ناسخ ومنسوخ کو سمجھنے کے سلسلہ میں اعتماد کیا ہے۔ جس سے ظاہر ہے کہ آپؓ ناسخ حدیثوں کے بڑے عالم تھے۔ آپؓ سے کوئی ایسا قول منقول نہیں جو نصوص کتاب وسنت کے مخالف ہو۔ یہ آپؓ کے انتہائی درجہ مہارت و علم کی دلیل ہے۔

17۔ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوئی تو لوگ مضطرب و پریشان ہو کر ہوش وہواس کھو بیٹھے لیکن اللہ تعالیٰ نے سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ذریعہ سے امت کو ثبات عطا فرمایا اور اس موقع پر آپؓ نے عظیم مؤقف اختیار فرمایا اور اعلان کیا: ’’جو محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی عبادت کرتے رہے ہوں وہ سن لیں! محمد صلی اللہ علیہ وسلم وفات پا چکے ہیں اور جو اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے رہے ہیں وہ جان لیں اللہ تعالیٰ زندہ وجاوید ہے، اس پر موت طاری نہیں ہو سکتی۔‘‘ اسی طرح سقیفہ بنی ساعدہ میں آپ کا عظیم مؤقف سامنے آیا، امت کو کسی فتنہ سے دوچار کیے بغیر انصار کو اپنی رائے پر مطمئن کرنے میں کامیاب ہوگئے۔ انہوں نے مان لیا کہ یہی حق ہے چنانچہ آپؓ نے کتاب و سنت سے انصار کی فضیلت بیان کر کے ان کی تعریف کی۔

18۔ سعد بن عبادہ رضی اللہ عنہ نے سقیفہ بنی ساعدہ کی گفتگو کے بعد ہی دعوائے امارت سے دست بردار ہو کر سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کی اور آپؓ کی فرماں برداری کو قبول کیا اور آپؓ کے چچا زاد بھائی بشیر بن سعد انصاری سقیفہ بنی ساعدہ کے اجتماع میں سب سے پہلے صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے ہاتھ پر خلافت کی بیعت کرنے والے شخص تھے۔ کسی صحیح نص کے ذریعہ سے چھوٹے یا بڑے کسی خلفشار کا ثبوت نہیں ملتا اور نہ کسی انقسام اور پارٹی بندی کا ثبوت ملتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک خلافت کا متمنی اور امیدوار رہا ہو، جیسا کہ بعض تاریخ نگاروں کا زعم ہے۔ اسلامی اخوت برابر برقرار رہی بلکہ صحیح نصوص کے مطابق اس میں مزید اضافہ ہوا اور تقویت حاصل ہوئی۔

19۔ متعدد آیات کریمہ اور احادیث نبویہ وارد ہوئی ہیں جو سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت کی طرف اشارہ کرتی ہیں اور اہل سنت والجماعت کا سلف سے لے کر خلف تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کی خلافت پر اجماع رہا ہے کیونکہ ایک طرف آپ کی فضیلت و بزرگی اور خدمات جلیلہ اور پھر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے آپؓ کو دیگر صحابہ پر نماز کی امامت کے لیے مقدم کیا جس سے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم نے مصطفی صلی اللہ علیہ وسلم کے مراد ومقصود کو سمجھ لیا اور خلافت میں بھی آپؓ کو مقدم رکھنے پر اجماع و اتفاق فرمایا۔

20۔ اسلامی خلافت ہی وہ طریقہ کار ہے جسے امت اسلامیہ نے حکومت کے لیے طریقہ واسلوب کے طور پر اختیار کیا اور اس پر اجماع و اتفاق فرمایا جس کے ذریعہ سے امت اپنے امور و مسائل اور اپنے مصالح کی حفاظت کرتی رہی۔ خلافت کی نشوونما امت کی ضرورت اور تسلیم سے مرتبط رہی۔ اسی وجہ سے مسلمانوں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے خلیفہ کے انتخاب میں جلدی کی۔ خلافت ہی مسلمانوں کا نظام حکومت ہے جس نے اپنے اصول مسلمانوں کے دستور کتاب وسنت سے حاصل کیے ہیں۔ فقہائے امت نے اسلامی خلافت کی بنیاد پر گفتگو کرتے ہوئے فرمایا ہے کہ شوریٰ اور بیعت یہ دو اصل ہیں جس کی طرف قرآن نے اشارہ کیا ہے۔

21۔ علامہ ابوالحسن علی ندوی نے خلافت نبوت کے شرائط و متطلبات پر گفتگو کرتے ہوئے سیرت صدیقی کی روشنی میں دلائل و براہین سے ثابت کیا ہے کہ خلافت کی تمام شرائط سیدنا ابوبکر رضی اللہ عنہ کے اندر موجود تھیں۔

صفحہ 2 از 7