خلاصہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

خلاصہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 5 از 5

وَالَّذِيۡنَ جَآءُوۡمِنۡ بَعۡدِهِمۡ يَقُوۡلُوۡنَ رَبَّنَا اغۡفِرۡلَـنَا وَلِاِخۡوَانِنَا الَّذِيۡنَ سَبَقُوۡنَا بِالۡاِيۡمَانِ وَلَا تَجۡعَلۡ فِىۡ قُلُوۡبِنَا غِلًّا لِّلَّذِيۡنَ اٰمَنُوۡا رَبَّنَاۤ اِنَّكَ رَءُوۡفٌ رَّحِيۡمٌ۞(سورۃ الحشر آیت 10)

ترجمہ: اور (یہ مال فیئ) ان لوگوں کا بھی حق ہے جو ان (مہاجرین اور انصار) کے بعد آئے۔ وہ یہ کہتے ہیں کہ: اے ہمارے پروردگار! ہماری بھی مغفرت فرمائیے، اور ہمارے ان بھائیوں کی بھی جو ہم سے پہلے ایمان لاچکے ہیں، اور ہمارے دلوں میں ایمان لانے والوں کے لیے کوئی بغض نہ رکھیے۔ اے ہمارے پروردگار! آپ بہت شفیق، بہت مہربان ہیں۔ 

اور شاعر کہتا ہے:

إن تجد عیبا فسد الخللا

جل من لاعیب فیہ و علا

’’تمھیں کوئی عیب ملے تو اسے دور کر لو۔ اللہ جل جلالہ ہی بےعیب ہے۔‘‘

اور شاعر کا قول ہے:

اطلب العلم ولا تکسل فما

ابعد الخیر علی اہل الکسل

’’علم حاصل کرو، کاہلی مت کرو، کاہلی کرنے والوں سے بھلائی بہت دور ہوتی ہے۔‘‘

احتفل للفقہ فی الدین ولا

تششغل بمال و حول

’’تفقہ فی الدین کی فکر کرو، دین سے روکنے والی چیزوں اور دنیاوی مال و دولت میں نہ پھنسو۔‘‘

واہجر النوم وحصلہ فمن

یعرف المعروف یحقر ما بذل

’’جاگو اور اسے حاصل کرو، جو اچھائی کی قدر جانتا ہے اس کے لیے سب کچھ خرچ کر دیتا ہے۔‘‘

ولا تقل قد ذھبت اربابہ

کل من سار علی الدرب و صل

’’یہ نہ کہو کہ تفقہ فی الدین والے چلے گئے۔ جو چلتا رہتا ہے منزل مقصود تک پہنچ جاتا ہے۔‘‘

و آخر دعوانا ان الحمد للّٰه رب العالمین

کتبہ الفقیر إلی عفو ربہ ومغفرتہ و رحمتہ و رضوانہ

علي محمد محمد الصلابي

8 ربیع ال

ثانی 1423 ھـ

18/2/2002 م


صفحہ 5 از 5