خلاصہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

خلاصہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 4 از 5

45: فتنہ کی چنگاری کوفہ سے اٹھی، ان فسادیوں کو شام کی طرف شہر بدر کیا گیا، پھر الجزیرہ میں عبدالرحمٰن بن خالد بن ولید رضی اللہ عنہما کے پاس ٹھہرے اور یزید بن قیس کے ساتھ خط و کتابت کے بعد یہ لوگ کوفہ لوٹ آئے۔

46: فتنہ کے ساتھ تعامل کے سلسلہ میں عثمانی سیاست حلم و صبر، عدم استعجال اور عدل پر قائم تھی۔ آپ نے اس کے مقابلہ میں متعدد اسلوب اختیار کیے: تحقیق و جانچ کے لیے کمیٹیاں تشکیل دے کر روانہ کرنا، صوبوں کے باشندگان کے نام ہر مسلمان کے لیے عام اعلان کی شکل میں خطوط بھیجنا، صوبوں کے والیان اور گورنروں سے مشاورت کرنا، باغیوں پر حجت قائم کرنا اور ان کے بعض مطالبات کو قبول کرنا۔

47: فتنہ کے ساتھ تعامل کے سلسلہ میں جو بھی حضرت عثمان غنیؓ کے طرز عمل میں غور و فکر کرے گا وہ اس سے بعض ایسے اصول و ضوابط مستنبط کر سکتا ہے جو فتنوں کا مقابلہ کرنے میں مسلمانوں کے لیے مفید ثابت ہوں گے۔ انہی اصول و ضوابط میں سے چند یہ ہیں: تحقیق و توثیق، عدل و انصاف کا التزام، حلم و صبر، نفع بخش چیز کا حریص ہونا، مسلمانوں کے درمیان اختلاف ڈالنے والے امور کو نظر انداز کرنا، خاموشی اختیار کرنا اور کثرت کلام سے پرہیز کرنا، علماء ربانی سے مشورہ کرنا، فتنوں سے متعلق احادیث نبویہ سے رہنمائی حاصل کرنا۔

48: محققین کے سامنے یہ حقیقت آشکارا ہوتی ہے کہ کچھ اسباب ایسے تھے جن کی وجہ سے حضرت عثمان غنیؓ نے صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو دفاع میں قتال کرنے سے روک دیا تھا۔ وہ اسباب یہ تھے: رسول اللہﷺ کی اس وصیت پر عمل جو آپﷺ نے حضرت عثمانؓ کو چپکے سے کی تھی اور جس کو حضرت عثمان غنیؓ نے محاصرہ کے دنوں میں بیان کیا اور بتلایا کہ یہ ان کے ساتھ معاہدہ ہے اور اس پر وہ صابر ہیں۔ آپ نے یہ ناپسند کیا کہ رسول اللہﷺ کے بعد امت میں آپ پہلے شخص ہوں جو مسلمانوں کا خون بہائیں۔ آپ کو اس حقیقت کا علم تھا کہ باغی صرف انہی کو قتل کرنا چاہتے ہیں لہٰذا آپ نے مسلمانوں کے ذریعہ سے بچاؤ کو ناپسند کیا، اور یہ پسند کیا کہ اپنی جان دے کر مسلمانوں کی جانوں کو بچا لیں۔ آپ کو اس بات کا علم تھا کہ اس فتنہ میں شہید ہوں گے اور رسول اللہﷺ نے آپ کو اس کی خبر اس وقت دی تھی جب آپ کو مصیبت کے ساتھ جنت کی خوشخبری دی تھی اور یہ کہ وہ حق پر ثابت رہ کر فتنہ میں شہید ہوں گے۔ حضرت عبداللہ بن سلامؓ کی وصیت پر عمل جب کہ انہوں نے آپ سے کہا تھا کہ دفاع سے رک جائیں یہ آپ کے لیے بلیغ حجت ہے۔

49: حضرت عثمان غنیؓ کا قاتل ایک مصری شخص ہے۔ روایات میں اس کے نام کی وضاحت نہیں، محمد بن ابی بکر پر جو قتل عثمان کا اتہام ہے وہ باطل ہے اس سلسلہ کی روایات ضعیف ہیں اور اس کے متن شاذ ہیں کیوں کہ وہ صحیح روایات کے مخالف ہیں جن سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ قاتل مصری شخص ہے۔

50: تمام صحابہ کرام رضی اللہ عنہم خونِ عثمانؓ سے بری الذمہ ہیں، صحیح اخبار و قائع اور تواریخ اس بات پر شاہد ہیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم، حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف لوگوں کو بھڑکانے یا فتنہ میں شرکت کرنے سے بری الذمہ ہیں جیسا کہ ہم نے اس سلسلہ میں صحیح روایات پیش کی ہیں۔

51: حضرت عثمان غنیؓ بیدار مغز تھے، باغیوں کی سازشوں اور ان کے اغراض و مقاصد سے آپؓ غافل نہ رہے بلکہ آپ ان کی صفوں کو پھاڑنے اور ان کے منصوبوں کو معلوم کرنے میں کامیاب رہے اور بڑی شجاعت سے ان کا مقابلہ کیا اور اس بات کو ناپسند کیا کہ مسلمانوں میں سب سے پہلے تلوار کھینچنے والے بنیں اور امت کی خاطر اپنی جان قربان کر دی، قربانی و ایثار کی یہ بلندی ہے۔

52: شہادتِ عثمان غنیؓ کا فتنہ دوسرے بہت سے فتنوں کے وجود کا سبب بنا اور اپنے بعد کے فتنوں پر اپنا سایہ ڈالا، لوگوں کے دل بدل گئے، کذب ظاہر ہوا، عقیدہ و شریعت میں اسلام سے انحراف شروع ہوا۔

53: دوسروں پر ناحق ظلم و زیادتی دنیا و آخرت میں ہلاکت کے اسباب میں سے ہے، جیسا کہ اللہ تعالیٰ کا ارشاد ہے:

وَتِلۡكَ الۡقُرٰٓى اَهۡلَكۡنٰهُمۡ لَمَّا ظَلَمُوۡا وَجَعَلۡنَا لِمَهۡلِكِهِمۡ مَّوۡعِدًا۞(سورۃ الكهف آیت 59)

ترجمہ: یہ ساری بستیاں (تمہارے سامنے) ہیں، جب انہوں نے ظلم کی روش اپنائی تو ہم نے ان کو ہلاک کر ڈالا، اور ان کی ہلاکت کے لیے (بھی) ہم نے ایک وقت مقرر کیا ہوا تھا۔

حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف خروج کرنے والے باغیوں کے احوال کا جو جائزہ لے گا اس کے سامنے یہ حقیقت واضح ہو جائے گی کہ اللہ تعالیٰ نے انہیں نہیں بخشا بلکہ ان کو ذلیل و رسوا کیا اور ان سے اس طرح انتقام لیا کہ ان میں سے کوئی نہ بچ سکا۔

54: اس مصیبت کا مسلمانوں کے نفوس پر گہرا اثر پڑا، ان کی عقلیں زائل ہو گئیں، حزن و غم نے انہیں گھیر لیا، ان کی آنکھوں سے آنسو جاری ہو گئے، ان کی زبانیں حضرت عثمان غنیؓ کی مدح و ثنا میں لگ گئیں اور ان کے لیے رحمت کی دعائیں کرنے لگے۔ حضرت حسان بن ثابتؓ نے امیر المؤمنین پر مرثیہ کہا، رلانے والے غم ناک قصائد کے ذریعہ سے آپ کی شہادت پر مصائب و آلام کا کثرت سے ذکر کیا اور قاتلین کی ہجو کی، جس کو تاریخ نے ہمارے لیے محفوظ کر لیا، راتوں نے اسے مہمل قرار نہ دیا اور زمانہ کی رکاوٹیں اور صدیوں کی دیواریں اسے ہم سے دور نہ کر سکیں۔

55: یہ ہیں وہ حقائق جن کی جمع و ترتیب اور تحقیق و تحلیل کی اللہ نے مجھے توفیق بخشی جس پر اس کتاب (عثمان بن عثمان رضی اللہ عنہ شخصیت اور کارنامے) کی فصلیں شامل ہیں۔ اس میں جو درست ہو وہ محض اللہ کا مجھ پر فضل ہے اس کا شکر و احسان ہے، اور جو اس میں غلطی ہو تو میں اللہ سے مغفرت طلب کرتا ہوں اور توبہ کرتا ہوں۔ اللہ و رسولﷺ اس سے بری الذمہ ہیں۔ میرے لیے یہ کافی ہے کہ میں ان حقائق و براہین اور دلائل کو بیان کرنے کا حریص رہا ہوں جو خلیفہ راشد عثمانؓ کی حقیقت واضح کرتی ہوں۔ اللہ تعالیٰ سے دعا گو ہوں کہ وہ میرے مسلمان بھائیوں کو اس کتاب سے نفع پہنچائے اور قارئین اپنی دعاؤں میں مجھے یاد رکھیں، ان شاء اللہ غیاب میں ایک بھائی کی دعا دوسرے کے حق میں مقبول ہو گی۔ اللہ تعالیٰ کے اس ارشاد پر اپنی کتاب کو ختم کرتا ہوں:

صفحہ 4 از 5