خلاصہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

خلاصہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 3 از 5

31: حضرت عثمان غنیؓ کی فتوحات میں اہم ترین دروس و عبر اور فوائد میں سے: اہل ایمان کے لیے نصرت و غلبہ کے سلسلہ میں وعدہ الٰہی کا پورا ہونا، جنگی اور سیاسی فنون میں ترقی، مسلمانوں کا سمندر کا سفر کرنا، اعداء سے متعلق معلومات اکٹھی کرنا اور دشمن کے مقابلہ میں اتفاق و اتحاد کا حریص رہنا ہے۔

32: حضرت عثمان غنیؓ کے عہدِ خلافت میں جمع قرآن کے واقعہ سے یہ حقیقت آشکارا ہوتی ہے کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اختلافات سے ممانعت کی آیات کا کس حد تک فہم رکھتے تھے چنانچہ اللہ تعالیٰ نے اختلافات سے منع فرمایا اور اس سے ہوشیار کیا ہے۔ ان آیات کے فہم کی گہرائی ہی کا یہ اثر تھا کہ حضرت حذیفہؓ نے جب قرأت قرآن میں اختلاف کو سنا تو کانپ اٹھے اور فوراً مدینہ پہنچے اور جو کچھ دیکھا اور سنا اس کی خبر حضرت عثمان غنیؓ کو پہنچائی اور مختصر سی مدت میں عثمان رضی اللہ عنہ نے اس مسئلہ کو ختم کیا اور اختلاف کا دروازہ بند کر دیا۔

33: مسلمانوں کے دلوں کو جوڑنے اور ان کی صفوں کو متحد کرنے کے اسباب کو اختیار کرنا عظیم ترین جہاد ہے اور یہ اقدام مسلمانوں کے اعزاز اور ان کی سلطنت کو قائم کرنے اور شریعت الٰہی کے نفاذ کے سلسلہ میں انتہائی اہمیت کا حامل ہے۔ حضرت عثمان غنیؓ کا امت کو ایک مصحف پر جمع کرنے میں خلفائے راشدینؓ کی فقہ انتہائی حسین اور واضح شکل میں نمایاں ہے۔

34: حضرت عثمان غنیؓ کے دورِ خلافت میں اسلامی ریاستیں اور صوبے یہ تھے: مکہ، مدینہ، بحرین، یمامہ، یمن، حضرموت، شام، آرمینیہ، مصر، بصرہ، کوفہ

35: حضرت عثمان غنیؓ نے اپنے عمال و افسران کی نگرانی اور ان کی خبروں پر مطلع ہونے کے لیے مختلف اسالیب اختیار کیے، ان میں سے بعض یہ ہیں: موسم حج میں حاضر ہونا، صوبوں اور شہروں سے آنے والوں سے سوال دریافت کرنا، جانچ پڑتال کرنے والوں کو صوبوں اور ریاستوں میں بھیجنا، گورنروں کو طلب کرنا اور ان سے سوال کرنا وغیرہ۔

36: عہدِ راشدی میں امراء اور گورنروں کے حقوق یہ تھے: غیر معصیت میں ان کی اطاعت کرنا، ان کی خیر خواہی کا حق ادا کرنا، ان تک صحیح خبریں پہنچانا، معزولی کے بعد ان کا احترام کرنا، ان کی تنخواہیں دینا۔

37: عہد راشدی میں امراء اور گورنروں کے فرائض یہ تھے: امور دین کی اقامت، لوگوں کو امن و امان بہم پہنچانا، اللہ کی راہ میں جہاد کرنا، لوگوں کے لیے اشیائے خورو نوش کی حفاظت میں پوری کوشش صرف کرنا، عمال اور وظیفہ دینے والے مقرر کرنا، ذمیوں کا خیال رکھنا، اور اپنے اپنے صوبہ میں اہل رائے سے مشورہ لینا، صوبہ کی تعمیری ضرورت پر غور و فکر کرنا، اور صوبوں کے باشندوں کے معاشرتی اور اجتماعی احوال کا خیال رکھنا۔

38: حضرت عثمان غنیؓ قابل اقتداء خلیفہ راشد ہیں، آپ کے افعال اور کارروائیاں اس امت کے دستوری ریکارڈ ہیں، حضرت عمر فاروقؓ نے اپنے بعد والوں کے لیے قرابت داروں کو قریب کرنے سے احتراز کرنے کی طرح ڈالی لیکن حضرت عثمان غنیؓ نے قربت داروں کو قریب کرنے کی طرح ڈالی بشرطیکہ انتظامی صلاحیت و قابلیت کے حامل ہوں اور حضرت عثمان غنیؓ پر جو اعتراضات کیے گئے وہ مباح کے دائرے سے خارج نہیں۔

39: حضرت عثمان غنیؓ نے اپنے قرابت داروں میں سے جن والیوں اور گورنروں کو مقرر کیا انہوں نے اپنے اپنے صوبوں اور ریاستوں کے انتظام و انصرام میں اپنی قابلیت و صلاحیت ثابت کر کے دکھائی اور ان کے ہاتھوں اللہ تعالیٰ نے بہت سے ممالک پر فتح عطا کی اور انہوں نے رعیت میں عدل و احسان کا طریقہ اختیار کیا، ان میں وہ حضرات بھی تھے جو یہ منصب عہدِ صدیقی اور عہد فاروقی میں سنبھال چکے تھے۔

40: جب بھی اسلامی تاریخ کے اس دور کا مطالعہ کیا جائے گا تو جو شخص بھی صحیح تاریخی وقائع کی طرف رجوع کرے گا اور ان حضرات کی سیرتوں کا جائزہ لے گا جن سے حضرت عثمان غنیؓ نے ملکی انتظام و انصرام میں کام لیا ہے تو وہ پسندیدگی اور فخر کا اعلان کیے بغیر نہیں رہ سکتا کہ اسلامی دعوت کی تاریخ میں ان کے جہاد کا کتنا خوشگوار اثر ہوا اور ان کے حسن انتظام و انصرام کے عظیم نتائج اس امت کی خوش حالی اور سعادت مندی کی شکل میں ظاہر ہوئے۔

41: بہت سے مؤلفین و مصنفین نے دورِ عثمانی سے متعلق غیر منصفانہ اور غیر تحقیقی تحریروں میں حضرت عثمان غنیؓ کو نہیں بخشا ان میں سے اکثر لوگ ضعیف اور رافضی روایات سے متاثر ہوئے اور حضرت عثمان غنیؓ پر ظالمانہ اور باطل حکم لگایا، جسے طہٰ حسین اپنی کتاب ’’الفتنۃ الکبریٰ‘‘ میں، راضی عبدالرحیم اپنی کتاب ’’النظم الاسلامیۃ‘‘ میں، محمد ریس نے اپنی کتاب ’’النظریات السیاسیۃ‘‘ میں، علی حسین خر بوطلی نے اپنی ’’کتاب الاسلام و الخلافۃ‘‘ میں، ابوالاعلیٰ مودودی نے اپنی کتاب ’’خلافت و ملوکیت‘‘ میں، سید قطب نے اپنی کتاب ’’العدالۃ الاجتماعیۃ‘‘ میں، وغیرہم۔ یقیناً حضرت عثمان غنیؓ خلیفۂ مظلوم ہیں۔ حضرت عثمان غنیؓ کے اولین معاندین نے افتراء پردازی کی اور متاخرین نے انصاف سے کام نہ کیا۔ 

42: تاریخی حقائق کہتے ہیں کہ حضرت عثمان غنیؓ نے حضرت ابوذر غفاریؓ کو جلا وطن نہیں کیا بلکہ انہوں نے خود اجازت طلب کی اور آپ نے ان کو اجازت دے دی۔ حضرت عثمان غنیؓ کے اعداء نے یہ پروپیگنڈہ کیا کہ آپ نے ان کو جلا وطن کر دیا تھا۔

43: حضرت ابوذر غفاریؓ دور و نزدیک کہیں سے بھی عبداللہ بن سبا یہودی کے افکار و نظریات سے متاثر نہیں ہوئے۔ آپ نے مقام ربذہ میں وفات تک سکونت اختیار کی اور کسی فتنہ میں شریک نہیں ہوئے۔

44: فتنہ قتل عثمانؓ کے مختلف اسباب ہیں: خوش حالی اور معاشرہ پر اس کا اثر، عہد عثمانی میں معاشرتی تبدیلی، حضرت عثمان غنیؓ کا حضرت عمرؓ کے بعد آنا، اکابر صحابہؓ کا مدینہ سے منتقل ہو جانا، جاہلی عصبیت، فتوحات کا رک جانا، زہد و ورع کا غلط مفہوم، اقتدار پسندوں کی امنگیں، حاقدین کی سازش، حضرت عثمان غنیؓ کے خلاف اعتراضات کو ہوا دینے کی منظم اور محکم تدابیر، لوگوں کو برانگیختہ کرنے والے وسائل و اسالیب کو اختیار کرنا، عبداللہ بن سبا کا کردار۔

صفحہ 3 از 5