خلاصہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

خلاصہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 5

16: حضرت عمر فاروقؓ کے نزدیک آپ کا بڑا بلند مقام و مرتبہ تھا، لوگوں کو جب حضرت عمر فاروقؓ سے کچھ سوال کرنا ہوتا تو عثمان بن عفان اور عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عنہما کا سہارا لیتے۔ حضرت عثمان غنیؓ کو ردیف کہا جاتا تھا۔ (ردیف عربی زبان میں نائب کو کہا جاتا ہے، صدر مملکت کے بعد لوگ انہی سے امیدیں وابستہ رکھتے ہیں) اور جب یہ دونوں نہ کر سکتے تو ان کے ساتھ حضرت عباسؓ کو بھی شریک کر لیتے تھے۔

17: حضرت عبدالرحمٰن بن عوفؓ کے افضل ترین اعمال میں شوریٰ کے وقت اپنے آپ کو خلافت سے الگ کر لینا اور اس شخص کا انتخاب کرنا ہے جس کا اصحاب حل و عقد نے مشورہ دیا اور اس سلسلہ میں حضرت عثمان غنیؓ پر امت کو متفق کرنے میں اپنے فرائض منصبی کو بحسن و خوبی ادا کیا۔

18: شوریٰ اور حضرت عثمان غنیؓ کی خلافت کے سلسلہ میں روافض اور شیعوں نے باطل اور جھوٹی روایات کو تاریخ اسلامی میں بھر دیا ہے اور مستشرقین نے اس کو لے کر اس کی خوب نشر و اشاعت کی اور بہت سے مؤرخین اور جدید مفکرین اس سے متاثر ہوئے ان روایات کو پرکھنے اور ان کی سند و متن کی تحقیق کرنے کی زحمت نہ کی پھر یہ جھوٹی روایات مسلمانوں میں پھیل گئیں۔

19: بے شمار دلائل ہیں جو بتاتے ہیں کہ حضرت عثمان غنیؓ خلافت کے زیادہ مستحق تھے، اور متمسکین کتاب و سنت کے نزدیک اس سلسلہ میں کوئی نزاع اور اختلاف نہیں ہے۔ حضرت عثمان غنیؓ کی خلافت پر صحابہ کرام رضی اللہ عنہم اور اسی طرح صحابہ کرامؓ کے بعد آنے والے اہل سنت والجماعت (جنھوں نے صحابہؓ کا راستہ اختیار کیا ہے) کا اس بات پر اجماع ہے کہ عمر بن خطابؓ کے بعد خلافت نبوی کے سب سے زیادہ مستحق عثمان بن عفانؓ تھے۔

20: جب حضرت عثمان غنیؓ کی بیعتِ خلافت ہوئی تو آپ نے لوگوں کو خطاب فرمایا اور اپنے سیاسی منہج کا اعلان فرمایا اور یہ واضح کیا کہ وہ کتاب و سنت اور شیخین کی سیرت کا التزام کریں گے اور اس طرف بھی اپنے خطاب میں اشارہ فرمایا کہ وہ علم و حکمت کے ساتھ حکومت کریں گے الا یہ کہ لوگ خود اپنے اوپر حدود کو عائد کر لیں۔

آپس میں تنافس، تباغض اور تحاسد کے خوف سے لوگوں کو دنیا کی طرف جھکنے اور اس کے فتنے میں مبتلا ہونے سے ڈرایا تاکہ امت افتراق اور اختلاف کا شکار نہ ہو۔

21: حضرت ذوالنورینؓ کی شخصیت قائدانہ شخصیت تھی۔ حضرت عثمان غنیؓ قائد ربانی کے درج ذیل اوصاف سے متصف تھے: علم، تعلیم، توجیہ کی قدرت، حلم، دریا دلی، نرمی، عفو و درگزر، تواضع، حیا، عفت، کرم، شجاعت، عزم و حزم، صبر، عدل، عبادت، خوف، بکاء، محاسبہ، زہد، شکر، لوگوں کی خبر گیری، اختیارات کی تحدید، باصلاحیت افراد سے استفادہ۔

22: خلفائے راشدینؓ کی صفات کی معرفت اور ان کی اقتداء کی کوشش ان قائدین ربانی کی صفات میں سے ہیں جو امت کی قیادت ثابت قدمی کے ساتھ متعین اہداف کی طرف کر سکتے ہیں۔

23: حضرت عثمان غنیؓ کی مالی سیاست درج ذیل عام بنیادوں پر قائم ہوئی: عام اسلامی مالی سیاست کا نفاذ، رعایت کو وصولی مال میں خلل انداز نہ ہونے دینا، مسلمانوں سے بیت المال کے حق کو وصول کرنا اور ذمیوں سے بیت المال کے حق کو وصول کرنا ان کے حقوق کو ادا کرنا، ان پر ظلم نہ کرنا، عاملین خراج کا امانت و وفاداری کی صفت سے متصف ہونا، عوام کے پاس مال و دولت اور نعمتوں کی فراوانی کے نتیجہ میں پیدا ہونے والے ہر طرح کے مالی انحرافات کو ختم کرنا۔

24: حضرت عثمان غنیؓ کے دور خلافت میں عام اخراجات یہ تھے: گورنروں کی تنخواہیں، افواج کی تنخواہیں، حج کے اخراجات، مسجد نبوی کی توسیع و ترمیم، مسجد حرام کی توسیع، پہلے اسلامی بحری بیڑے کی تیاری، ساحل کو شعیبہ سے جدہ منتقل کرنا، کنوؤں کی کھدائی، مؤذنوں کے اخراجات وغیرہ۔

25: فسادیوں اور خوارج کی طرف سے حضرت عثمان غنیؓ پر بیت المال میں اسراف اور اپنے اعزہ و اقرباء کو زیادہ دینے کا اتہام باندھا گیا اور اس اتہام کے سہارے سبائیوں نے باطل پروپیگنڈہ مہم چلائی اور شیعہ و روافض آج تک آپ کے خلاف اس کو منوانے میں لگے ہیں۔ یہ اتہامات تاریخی کتابوں میں آ گئے، اور مفکرین و مؤرخین نے ان کو حقائق کی حیثیت سے استعمال کیا حالاں کہ یہ باطل و من گھڑت ہیں ان کا سرے سے ثبوت ہی نہیں۔

26: حضرت ذوالنورینؓ کا دور دورِ راشدی کا امتداد ہے جس کی اہمیت عہد نبوی سے متصل و قریب ہونے کی وجہ سے نمایاں ہے۔ دور راشدی عام طور سے اور شعبہ قضا خاص طور سے عہد نبوی کے قضاء کا امتداد ہے۔ عہد نبوی میں ثابت شدہ قضاء کی اس دور میں مکمل محافظت اور نص و معنیٰ کی مکمل تنفیذ کی گئی تھی۔

27: فتوحات کے سلسلہ میں حضرت عثمان غنیؓ کے منصوبہ میں عزم و حوصلہ نمایاں تھا۔ درج ذیل امور سے اس کا اظہار ہوتا ہے:

فارس و روم کے باغیوں کو تابع کرنا، ان ممالک پر اسلام کی حکومت و پکڑ کو بحال رکھنا، ان سے مدد کو روکنے کے لیے ان کے پیچھے ممالک میں جہاد و فتوحات کو جاری رکھنا، اسلامی شہروں کی حفاظت کے لیے فوجی مراکز قائم کرنا، بحری فوجی طاقت تیار کرنا کیوں کہ اسلامی لشکر کو اس کی ضرورت تھی۔

28: حضرت عثمان غنیؓ کے دور خلافت میں اسلامی فوجی چھاؤنیاں اور سرحدی فوجی مراکز صوبوں کے صدر مقام ہوا کرتے تھے۔ عراق کی فوجی چھاؤنی کوفہ و بصرہ میں تھی، اور شام کی فوجی چھاؤنی مکمل شام امیر معاویہؓ کے ماتحت ہونے کے بعد دمشق میں تھی، اور مصر کی فوجی چھاؤنی فسطاط میں قائم تھی۔ یہ فوجی چھاؤنیاں ایک طرف اسلامی سلطنت کی حفاظت کرتی تھیں تو دوسری طرف اسلامی فتوحات کا سلسلہ جاری رکھے ہوئے تھیں اور اسلام کی نشر و اشاعت میں لگی ہوئی تھیں۔

29: حضرت عثمان غنیؓ کے دور میں مشہور جرنیل اور سپہ سالار یہ لوگ تھے:

احنف بن قیسؓ، سلیمان بن ربیعہؓ، عبدالرحمٰن بن ربیعہؓ، حبیب بن مسلمہؓ

30: ذات صواری کا معرکہ عسکری تجربہ، جنگی ساز و سامان اور نفری قوت پر عقیدہ صحیحہ کی بالادستی کا مظہر تھا۔ رومی قدیم زمانے سے سمندر کا گہرا تجربہ رکھتے تھے اور ان کے پاس سمندری جنگوں کا طویل تجربہ تھا اور مسلمان سمندری جنگ اور سمندری سفر کے سلسلہ میں ناتجربہ کار اور نئے تھے۔

صفحہ 2 از 5