خلاصہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

خلاصہ

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 5

1: امیر المؤمنین عثمان رضی اللہ عنہ اپنی قوم میں افضل ترین لوگوں میں سے تھے۔ بڑی جاہ و حشمت کے مالک، مالدار، شرم و حیا کے پتلے، شیریں کلام تھے، حضرت عثمان غنیؓ کی قوم آپؓ سے بڑی محبت کرتی تھی اور آپؓ کی تعظیم، توقیر اور احترام کرتی تھی۔ جاہلیت میں کسی بت کو کبھی سجدہ نہ کیا، زنا اور فحش کاری کے قریب نہ گئے، جاہلیت میں بھی شراب نہ پی۔

2: جس وقت سیدنا ابوبکر صدیقؓ نے حضرت عثمان غنیؓ کو اسلام کی دعوت دی اس وقت آپؓ کی عمر چونتیس (34) برس تھی۔ اسلام قبول کرنے میں آپ نے کوئی لیت و لعل نہ کیا، بلکہ فوراً ابوبکر صدیقؓ کی دعوت کو قبول کرنے میں سبقت کی اور سابقین اولین میں شمار ہوئے۔

3: مسلمان حضرت عثمان غنیؓ کے اسلام سے بے حد خوش ہوئے، حضرت عثمان غنیؓ اور ان کے درمیان محبت اور اسلامی اخوت کا رشتہ مضبوط ہو گیا۔ اللہ تعالیٰ نے آپؓ کو رسول اللہﷺ کی دختر نیک اختر رقیہؓ کے ساتھ شادی سے مشرف ہونے کی توفیق دی۔

4: ابتلاء و آزمائش کی سنت افراد و جماعت، اقوام و امم اور ممالک و دول میں سنت الٰہی رہی ہے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم میں بھی یہ سنت الٰہی جاری رہی، ان نفوس نے اس ابتلاء و آزمائش کو برداشت کیا جن سے اونچے پہاڑ بھی عاجز آجائیں۔ اللہ کی راہ میں اپنے مال و خون کو صرف کیا۔ جہد و مشقت انتہاء کو پہنچ گئی اس ابتلاء سے معزز مسلمان بھی نہ بچے۔ حضرت عثمان غنیؓ بھی اللہ کی راہ میں ستائے گئے اور اپنے چچا حکم بن ابی العاص کے ہاتھوں اذیتیں اٹھائیں۔

5: جب سے حضرت عثمان غنیؓ نے اسلام قبول کیا رسول اللہﷺ کو لازم پکڑا، کبھی آپ سے جدا نہ ہوئے الا یہ کہ آپﷺ نے آپ کو کسی مہم پر روانہ کیا ہو جو کسی اور کے بس کا کام نہ ہو یا آپ ہی کی اجازت سے ہجرت حبشہ کی۔ رسول اللہﷺ کی صحبت کو لازم پکڑنے میں آپ دیگر خلفائے راشدینؓ کی طرح تھے گویا کہ اس صحبت کا التزام ان نفوس قدسیہ کا ایسا خاصہ تھا جس کے لیے اس ذات نے ان کو منتخب فرمایا تھا جس نے انہیں یکے بعد دیگرے خلافت کے لیے منتخب فرمایا تھا۔

6: حضرت ذوالنورینؓ کا تعلق اس عظیم دعوت کے ساتھ سال اول سے انتہائی مضبوط تھا، نبی کریمﷺ کی زندگی میں نبوت کی خاص و عام خبروں میں سے کوئی خبر آپ سے مخفی نہ رہنے پائی اور نہ اس کے بعد شیخین ابوبکر و عمر رضی اللہ عنہما کے دور میں خلافت کی کوئی خبر آپ سے مخفی رہنے پائی اور بالفاظ دیگر آج کی اصطلاح میں اسلامی سلطنت کی تاسیس کے اعمال میں سے کوئی عمل آپ سے دور نہ رہنے پایا۔

7: حضرت عثمان غنیؓ اور تمام صحابہ کرامؓ نے جس تربیتی منہج پر تربیت پائی تھی وہ رب العالمین کی طرف سے نازل ہونے والے قرآن سے ماخوذ تھا۔

8: جو چیز حضرت عثمان غنیؓ کی شخصیت پر اثر انداز ہوئی، آپؓ کی وہبی صلاحیت و قابلیت کو صیقل کیا اور آپ کی طاقت کو جوش دیا اور آپ کے نفس کی تہذیب کی وہ رسول اللہﷺ کی صحبت اور مدرسہ نبوت میں آپ کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرنا تھا۔ حضرت عثمان غنیؓ نے مکہ میں اسلام لانے کے بعد ہی سے آپﷺ کی صحبت کو لازم پکڑا اور اسی طرح ہجرت کے بعد مدینہ میں آپﷺ کی صحبت سے چمٹے رہے، اپنے نفس کو منظم کیا، مدرسہ نبوت میں علوم و معارف کے مختلف فروع و اقسام کے حلقوں میں اس معلم انسانیت و ہادی بشریت کے سامنے زانوئے تلمذ تہ کرنے کے حریص رہے جن کو اللہ نے اچھی طرح ادب سکھایا تھا۔

9: حضرت عثمان غنیؓ معرکہ بدر سے بچتے ہوئے اور بھاگتے ہوئے پیچھے نہیں رہے تھے جیسا کہ اہل بدعت کا زعم ہے جو آپ پر طعنہ زنی کرتے ہیں۔ آپ کو رسول اللہﷺ کی مخالفت مقصود نہ تھی کیوں کہ اہل بدر کو بدر میں حاضری کی جو فضیلت حاصل ہوئی وہ رسول اللہﷺ کی اطاعت و اتباع کے نتیجہ میں حاصل ہوئی، حضرت عثمان غنیؓ بھی رسول اللہﷺ کے ساتھ نکلے تھے، لیکن رسول اللہﷺ نے ہی انہیں اپنی بیٹی سیدہ رقیہؓ کی خبر گیری کے لیے لوٹا دیا اور رسول اللہﷺ کی اطاعت میں پیچھے رہ جانے کی وجہ سے مال غنیمت میں رسول اللہﷺ نے ان کا بھی حصہ لگایا اور فضل و اجر میں ان کو شریک رکھا کیوں کہ اللہ و رسولﷺ کی اطاعت اور فرماں برداری ہی میں وہ بدر میں شریک نہ ہو سکے تھے۔

10: محب طبری نے بیان کیا ہے کہ حدیبیہ کے موقع پر حضرت عثمان غنیؓ کی کئی خصوصیات سامنے آئیں: رسول اللہﷺ نے صحابہ کرام رضی اللہ عنہم سے بیعت کرتے ہوئے حضرت عثمان غنیؓ کی عدم موجودگی میں اپنے ہاتھ کو حضرت عثمانؓ کا ہاتھ قرار دیا۔ رسول اللہﷺ کا پیغام مکہ میں قیدی مسلمانوں کو پہنچایا۔ اس موقع پر ترک طواف سے متعلق رسول اللہﷺ نے آپ کی موافقت کی۔

11: فتح مکہ کے موقع پر رسول اللہﷺ نے عبداللہ بن سعد بن ابی سرح کے سلسلہ میں آپ کی سفارش کو قبول کیا۔

12: مدینہ میں حضرت عثمان غنیؓ کی اجتماعی زندگی کے واقعات میں سے رقیہ بنت رسول اللہﷺ کے انتقال کے بعد ام کلثوم بنت رسول اللہﷺ سے آپ کی شادی، اور عبداللہ بن عثمان رضی اللہ عنہما کی وفات، پھر ام کلثومؓ کی وفات ہے۔

13: حکومت کی تعمیر و ترقی میں آپ کے تعاون میں سے بئر رومہ کو بیس ہزار درہم میں خرید کر امیر و غریب اور مسافر سب کے لیے وقف کر دینا تھا۔ مسجد نبویﷺ کی توسیع اور لشکر تبوک پر بھاری خرچ کیا۔

14: حضرت عثمان غنیؓ کی فضیلت میں بےشمار احادیث وارد ہیں ان میں کچھ وہ احادیث ہیں جو دوسروں کے ساتھ آپؓ کی فضیلت پر مشتمل ہیں اور کچھ وہ ہیں جن میں صرف آپؓ کی فضیلت بیان ہوئی ہے اور رسول اللہﷺ نے اس فتنہ کی بھی خبر دی تھی جس میں حضرت عثمان غنیؓ شہید ہوئے۔

15: حضرت عثمان غنیؓ عہد صدیقی میں ان صحابہ اور اہل شوریٰ میں سے تھے جن کی رائے اہم اور بنیادی مسائل میں لی جاتی تھی۔ آپ سیدنا ابوبکر صدیقؓ کے نزدیک مرتبہ میں دو میں سے دوسرا تھے۔ سیدنا عمر بن خطابؓ عزم و حزم اور شدائد کے لیے اور حضرت عثمان غنیؓ رفق و نرمی اور صبر و حلم کے لیے مشہور تھے۔ حضرت عمر فاروقؓ خلافت صدیقی کے وزیر اور حضرت عثمان غنیؓ جنرل سکریٹری، ناموس اعظم اور کاتب اکبر تھے۔

صفحہ 1 از 5