Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

شادی

  علی محمد محمد الصلابی

2۔ شادی:

اسماء بنت عمیس رضی اللہ عنہا کا بیان ہے کہ میں فاطمہ بنت رسولﷺ کی رخصتی میں موجود تھی، صبح ہوئی تو اللہ کے رسولﷺ گھر کے دروازہ پر آئے اور کہا: (یَا أُمَّ أَیْمَنَ! اُدْعِي لِيْ أَخِي) ’’اے ام ایمن میرے بھائی کو آواز دو‘‘ میں کہنے لگی: وہ تمھارے بھائی ہیں اور ان سے آپ اپنی بیٹی کا نکاح کر رہے ہیں؟ آپ نے فرمایا: ((نَعْمَ! یَا أُمَّ أَیْمَنَ)) ’’ہاں، اے ام ایمن‘‘ وہ کہتی ہیں کہ علیؓ باہر نکلے، آپﷺ نے ان کے جسم پر پانی کے چھینٹے مارے، اور ان کے لیے دعائے خیر کی، پھر فرمایا: اُدْعُوا لِيْ فَاطِمَۃَ ’’فاطمہ کو میرے پاس بلاؤ۔‘‘ اسماءؓ کا بیان ہے کہ وہ آئیں اور شرم سے ان کے قدم آگے نہیں بڑھ رہے تھے، اللہ کے رسولﷺ نے فرمایا: ’’دھیان سے سنو! میں نے تمھارا نکاح ایسے شخص سے کر دیا ہے جو میرے اہل بیت میں میرے نزدیک سب سے زیادہ محبوب ہے۔‘‘ پھر آپﷺ نے فاطمہؓ پر بھی پانی کے چھینٹے مارے، اور ان کے لیے دعائے خیر فرمائی، پھر لوٹ کر جانے لگے کہ اتنے میں آپ کی نظر سامنے ہی ایک سایہ پر پڑی، پوچھنے لگے: (مَنْ ہٰذَا) ’’یہ کون ہے؟ ‘‘میں بول پڑی کہ میں ہوں، آپﷺ نے کہا: کون اسماء؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپﷺ نے کہا: اسماء بنت عمیس ہو؟ میں نے کہا: جی ہاں، آپﷺ نے کہا: جِئْتِ فِيْ زَفَافِ بِنْتِ رَسُولِاللّٰہِ صلي الله عليه وسلم تَکْرِمَۃً لَّہُ؟

 ’’کیا تو رسول اللہﷺ کے اعزاز و اکرام میں بنت رسول کی رخصتی میں آئی تھیں؟‘‘ میں نے کہا: ہاں۔ پھر آپﷺ نے میرے لیے دعا فرمائی۔

(فضائل الصحابۃ: جلد 2 صفحہ 953، حدیث نمبر 342)۔