دوسرا نکتہ علمی مقام و مرتبہ کے اسباب - دفاعِ اہلِ سنت |…

دوسرا نکتہ علمی مقام و مرتبہ کے اسباب

  علی محمد الصلابی

صفحہ 1 از 2

متعدد عوامل کی بنیاد پر سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کو مذکورہ علمی مقام و مرتبہ تفویض ہوا، ان میں سے چند درج ذیل ہیں

1۔ ذہانت و فطانت، قوت حافظہ و مستحکم یادداشت: بلاشبہ اس دعویٰ کی دلیل کے لیے اتنا کہہ دینا کافی ہو گا کہ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی بے شمار احادیث روایت کرتی ہیں۔ اس فضیلت کے پہلو بہ پہلو ان کو عربوں کے کثیر اشعار اور ضرب الامثال ازبر تھیں جو وہ موقع کی مناسبت سے بطور شواہد پیش کرتی تھیں۔

2۔ تعلیم و تربیت اور نگرانی: نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ ان کی نوعمری میں شادی اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی تربیت و نگرانی میں بسر ہونے والا عرصہ (آٹھ سال اور پانچ ماہ تقریباً) اور اس عرصے میں نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کی تعلیم و تربیت کا کوئی دقیقہ فروگذاشت نہ کیا۔

3۔ نزول وحی: ان کے کمرہ میں کثرت سے وحی کا نزول بھی ان کو علمی مقام و اعلیٰ مرتبہ دلانے کا ایک بنیادی سبب بنا حتیٰ کہ ان کے گھر کو ’’وحی خانہ‘‘ کا نام دے دیا گیا۔

4۔ مسائل کے بارے میں کثرت سوال: بہت کم ایسے مواقع آئے کہ وہ کچھ سنیں اور اس کے بارے میں سوال نہ کریں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے بارے میں یہ بات مشہور تھی کہ جس معاملہ کی حقیقت ان سے اوجھل ہوتی اس کی ٹوہ میں مسلسل رہتیں حتیٰ کہ اس معاملے کی تہ تک پہنچ جاتیں۔

چنانچہ ابن ابی ملیکہ ان کے بارے میں کہتے ہیں: وہ جس چیز کے بارے میں سنتیں جو انھیں معلوم نہ ہوتی اسے پہچاننے تک اس کے متعلق پوچھتی رہتیں، مثلاً:

1۔ جب نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: مَنْ حُوْسِبَ عُذِّبَ’’جس کا محاسبہ ہو گا اسے عذاب ہو گا۔‘‘ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے فوراً عرض کیا: کیا اللہ تعالیٰ نے یہ نہیں فرمایا:

فَسَوۡفَ يُحَاسَبُ حِسَابًا يَّسِيۡرًا ۞ (سورۃ الإنشقاق آیت 8)

ترجمہ: اس سے تو آسان حساب لیا جائے گا۔

چنانچہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اِنَّمَا ذٰلِکَ الْعَرْضُ، وَ لٰکِنْ مَنْ نُوْقِشَ الْحِسَابَ یَہْلِکُ 

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 103۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2872 )

ترجمہ: ’’یہ تو صرف حساب منعقد ہونے کی بات ہے جس کا محاسبہ ہو گا وہ ہلاک ہو جائے گا۔‘‘

2۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے اللہ عزوجل کے اس فرمان کے متعلق دریافت کیا:

يَوۡمَ تُبَدَّلُ الۡاَرۡضُ غَيۡرَ الۡاَرۡضِ وَالسَّمٰوٰتُ‌ وَبَرَزُوۡا لِلّٰهِ الۡوَاحِدِ الۡقَهَّارِ‏ ۞ (سورۃ ابراهيم آیت 48)

ترجمہ: اس دن جب یہ زمین ایک دوسری زمین سے بدل دی جائے گی، اور آسمان بھی (بدل جائیں گے) اور سب کے سب خدائے واحد و قہار کے سامنے پیش ہوں گے۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے پوچھا:

’’اے اللہ کے رسول! اس دن لوگ کہاں ہوں گے؟‘‘

آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

’’وہ پل صراط پر ہوں گے۔‘‘

(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2791)

3۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا: اے اللہ کے رسول! جاہلیت میں ابن جدعان صلہ رحمی کرتا اور مسکینوں کو کھانا کھلاتا تھا، تو کیا یہ افعال اسے نفع دیں گے؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

لَا یَنْفَعُہٗ اِنَّہٗ لَمْ یَقُل یَوْمًا رَبِّ اغْفِرْلِیْ خَطِیْئَتِیْ یَوْمَ الدِّیْنِ 

(صحیح مسلم: حدیث نمبر: 214)

ترجمہ: ’’ان افعال کا اسے کوئی فائدہ نہیں ہو گا، کیونکہ اس وقت اس نے یہ نہیں کہا کہ اے میرے رب! تو قیامت کے دن میرے گناہ معاف فرما دے۔‘‘

4۔ جب نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک مہینے کے لیے ایلاء کیا یعنی قسم اٹھا لی کہ آپ اپنی ازواج کے پاس ایک ماہ تک نہیں جائیں گے۔ تو جب انتیس راتیں گزریں تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا کے پاس آئے۔ انہی سے ابتدا کی تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے آپﷺ سے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! آپﷺ نے تو ہمارے پاس ایک ماہ تک نہ آنے کی قسم اٹھائی تھی جب کہ آج انتیسویں رات ہے۔ تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: ’’مہینہ انتیس راتوں کا بھی ہوتا ہے۔‘‘ وہ مہینہ واقعی انتیس راتوں کا تھا۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں: پھر اللہ تعالیٰ نے آیت تخییرنازل فرمائی۔(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 5191۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2572)۔

5۔ ایک آدمی نے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے کے لیے اجازت طلب کی۔ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: تم اسے اجازت دے دو۔ کتنا نامعقول آدمی (بیٹا یا بھائی) ہے۔ جب وہ اندر آ گیا تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم اس کے ساتھ بڑی نرمی سے پیش آئے۔ (پھر جب وہ چلا گیا) تو سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول! (جب وہ آدمی باہر تھا تو) آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کے بارے میں جو کہا سو کہا۔ پھر آپﷺ نے اس کے ساتھ بڑی نرمی کے ساتھ باتیں کیں؟ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

اَیْ عَائِشَۃُ! اِنَّ شَرَّ النَّاسِ مَنْزِلَۃً عِنْدَ اللّٰہِ مَنْ تَرَکَہٗ ۔اَوْ وَدَعَہٗ۔ النَّاسُ اِتِّقَائَ فُحْشِہٖ

(صحیح بخاری: حدیث نمبر: 6054۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 2591)

ترجمہ: ’’اے عائشہ! اللہ کے ہاں بدترین انسان وہ ہو گا جسے لوگوں نے اس کی بدگوئی سے بچنے کے لیے ترک کر دیا ہو گا۔‘‘

6۔ اسی لیے سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا انصاری عورتوں کی تعریف کرتی تھیں کہ وہ اپنے دینی معاملات کے متعلق کثرت سے پوچھتی ہیں۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرمایا کرتی تھیں:

’’سب سے اچھی عورتیں انصاری عورتیں ہیں دین کی فہم و تفقہ کے راستے میں ان کی حیا آڑے نہیں آتی۔‘‘

(امام بخاری نے حدیث نمبر 130 سے پہلے صیغۂ جزم کے ساتھ اس روایت کو معلق روایت کیا ہے۔ صحیح مسلم: حدیث نمبر: 332)

7۔ سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا اگرچہ انتہائی غیور تھیں اور ان میں عورتوں والی رقابت کا فطری جذبہ بھی تھا لیکن جونہی انھیں علم و تعلم کی فرصت ملتی وہ اپنی فطری رقابت کو ایک طرف رکھ کر علم و تعلم میں مشغول ہو جاتیں۔

چنانچہ عروہ رحمہ اللہ بیان کرتے ہیں:

صفحہ 1 از 2