سیدنا حسن رضی اللہ عنہما کی بعض اولاد
علی محمد الصلابیسیدنا حسن رضی اللہ عنہما کی بعض اولاد کی مختصر سیرت درج ذیل ہے:
1۔ زید بن حسن بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ:
ان کی والدہ ام بشر ہیں جو ابومسعود عقبہ بن عمرو بن ثعلبہ خزرجی رضی اللہ عنہ کی بیٹی ہیں۔ زید بن حسن کے ایک لڑکے محمد ہیں جنھوں نے کوئی اولاد نہیں چھوڑی، ابوجعفر منصور کی جانب سے زید بن حسن کو مدینہ کا گورنر بنایا گیا، ان کی ماں ام ولد تھیں، نفیسہ بنت زید سے ولید بن عبدالملک بن مروان نے شادی کی اور انھی کے پاس وفات پائیں۔ نفیسہ کی والدہ لبابہ بنت عبداللہ بن عباس بن عبدالمطلب بن ہاشم ہیں۔
محمد بن عمر ہمیں خبر دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ ہمیں عبدالرحمٰن بن ابوالموال نے خبر دیتے ہوئے بتایا کہ میں نے لوگوں کو دیکھا کہ وہ سیدنا حسنؓ کو دیکھتے اور آپ کے عظیم اخلاق سے خوش ہوتے اور کہتے: ان کے نانا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہیں۔
محمد بن عمر ہمیں خبر دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ مجھے عبداللہ بن ابوعبیدہ خبر دیتے ہوئے کہتے ہیں کہ زید بن حسن کی وفات کے دن میں اپنے والد کا ردیف بن کر سوار ہوا، مدینہ سے چند میل کے فاصلے پر ابن ازہر کی وادی میں ان کی وفات ہوئی، چنانچہ انھیں مدینہ لے جایاگیا، ہم دو بلند پہاڑیوں کے درمیان راستے کے شروع ہی میں پہنچے تھے کہ اونٹ پر ایک چھوٹے خیمے سے زید بن حسن کا جنازہ نمودار ہوا، عبداللہ بن حسن اس کے آگے آگے چل رہے تھے، اپنی چادر کو کمر پرباندھ رکھا تھا، آپ کی پیٹھ پر کوئی چیز نہیں تھی، میرے والد نے مجھ سے کہا: اے میرے لاڈلے اترو اور لگام تھام لو، اللہ کی قسم اگر میں سوار رہا اور عبداللہ پیدل چلتے رہے تو مجھے سکون نہیں مل سکتا چنانچہ میں گدھے پر سوار ہوگیا، میرے والد اتر گئے، پیدل چلے، چلتے رہے یہاں تک کہ زید کو بنو جدیلہ میں موجود ان کے مکان میں داخل کردیا گیا، انھیں غسل دیا گیا، پھر انھیں چارپائی پر بقیع قبرستان تک لے جایا گیا۔
(طبقات ابن سعد: جلد 5 صفحہ 318، 319)
2۔ حسن بن حسن بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہ :
ان کی والدہ خولہ بنت منظور فزاریہ ہیں، حسن بن حسن کے یہاں محمد پیدا ہوئے، ان کی والدہ رملہ بنت سعید بن زید بن عمرو بن نفیل بن عبدالعزیٰ ہیں، عبداللہ بن حسن نے ابوجعفر منصور کے قیدخانے میں وفات پائی اور ابراہیم بن حسن بھی اپنے بھائی کے ساتھ قیدخانے میں جاں بحق ہوئے۔ زینب بنت حسن سے ولید بن عبدالملک بن مروان نے شادی کی پھر انھیں طلاق دے دی اور ام کلثوم بنت حسن ان سب کی والدہ فاطمہ بنت حسین بن علی بن ابوطالب ہیں، اور فاطمہ بنت حسین کی والدہ ام اسحاق بنت طلحہ بنت عبید اللہ بن تیم ہیں۔ جعفر بن حسن، داؤد، فاطمہ، ام القاسم قسیمہ، ملیکہ، ان سب کی والدہ حبیبہ نامی آل ابو أیس کی فارسی ام ولد ہیں۔
(
حسن بن حسن کے طرز عمل میں سے یہ ہے کہ انھوں نے اہل بیت سے متعلق غور کرنے والوں میں سے ایک شخص سے کہا:
’’تمھارا ناس ہو، اللہ کے لیے تم ہم سے محبت کرو، اگر ہم اللہ کی اطاعت کریں تو تم ہم سے محبت کرو، اور اگر اللہ کی نافرمانی کریں تو تم ہم سے دشمنی کرو، ان سے اس شخص نے کہا: بلاشبہ تم لوگ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قریبی اور اہل بیت میں سے ہو، فرمایا: تمھارا برا ہو، اگر اللہ تعالیٰ بغیر اطاعت کے صرف رسول کی قربت کے باعث کسی کو کچھ دیتا تو اس سے وہ شخص فائدہ اٹھاتا جو آپ سے ازروئے باپ اور ماں زیادہ قریب ہے ۔ اللہ کی قسم میں بلاشبہ اس بات سے ڈرتا ہوں کہ ہم میں سے نافرمان کی سزا دوگنی کردی جائے، میں اس بات کی امید کرتا ہوں کہ ہم میں سے فرماں بردار کو دوہرا اجر دیا جائے، تمھارا برا ہو تم اللہ سے ڈرو اور ہمارے بارے میں حق بات کہو، یہ چیز تمھاری چاہت میں زیادہ مؤثر ہے، اور ہم تمھاری جانب سے اس بات کو پسند کرتے ہیں، پھر فرمایا: اگر تمھاری اس بات کا تعلق اللہ کے دین سے ہے اور ہمارے آباء و اجداد نے ہمیں اس سے مطلع نہیں کیا اور نہ ہم کو اس کی ترغیب دلائی تو انھوں نے ہمارے ساتھ اچھا نہیں کیا، فرمایا کہ ان سے رافضی نے کہا: کیا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت علی رضی اللہ عنہ سے نہیں کہا تھا:
مَنْ کُنْتُ مَوْلَاہُ فَعَلِیٌّ مَوْلَاہُ۔
’’جن کا میں مولیٰ تھا تو علی ان کے مولیٰ ہوں گے۔‘‘
تو سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نے فرمایا: اللہ کی قسم اگر اس حدیث سے آپ صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد امارت وحکومت ہوتی تو جس طرح آپﷺ نے نماز، زکوٰۃ، رمضان کے روزے اور حج کے بارے میں لوگوں کو صاف صاف بتا دیا تھا اسی طرح اس کے بارے میں بھی لوگوں کو صاف صاف بتا دیتے، اور ان سے کہہ دیتے کہ میرے بعد یہ تمھارے حاکم ہوں گے، بلاشبہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم لوگوں کے سب سے زیادہ خیر خواہ تھے۔اگر معاملہ حقیقت میں ویسے ہی ہوتا جیسے کہ تم لوگ کہتے ہو کہ اللہ اور اللہ کے رسول نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ کو اس حکومت و خلافت کے لیے چنا ہے تو سیدنا علی کی یہ بہت بڑی غلطی اور بہت بڑا جرم ہوتا کہ انھوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس حکم کو ترک کردیا کہ وہ حکومت و خلافت کو آپ کے حکم کے مطابق اپنائیں یا لوگوں سے معذرت طلب کریں۔‘‘
(طبقات ابن سعد: جلد 5 صفحہ 319،320)
اس طرح غلو و مبالغہ کو روکنے سے متعلق اہل بیت کا طرز عمل واضح ہوجاتا ہے۔