Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

قبیلۂ قریش

  علی محمد الصلابی

تمام اہل عرب قریش کے عالی نسبی کے معترف تھے اور اس بات میں ان کے درمیان دو آراء نہیں تھیں کہ قریش کو قبائل عرب پر خاندانی تفوق و برتری حاصل ہے، ان کی زبان اور لب و لہجہ دوسروں کے لیے معیار تھا، مہمان نوازی اور شجاعت و جواں مردی کے جوہر ان میں امتیازی طور سے پائے جاتے تھے، یہ بات اس درجہ سے مسلم تھی کہ وہ ضرب المثل بنے ہوئے تھے۔ (السیرۃ النبویۃ، الندوی: صفحہ 74)

اس قبیلہ کی شاخیں آپس میں ایک دوسرے کی حلیف تھیں، وہ قبائلی خصوصیات کو عزیز رکھتی تھیں اور شریعتِ ابراہیمی پر بہت حد تک کاربند تھیں، یہ لوگ ان بدوی قبائل کی طرح نہیں تھے جن کا نہ کوئی مذہب تھا اور نہ وہ آداب معیشت کے لحاظ سے کوئی امتیازی شان رکھتے تھے۔

قریش کی امتیازی خصوصیات میں یہ خصوصیت بھی تھی کہ وہ اپنی اولاد سے محبت رکھتے تھے، خانہ کعبہ کا طواف کرتے تھے، مناسک حج ادا کرتے تھے، میت کو کفن پہناتے اور غسل جنابت کرتے تھے، ہندوستان یا ایران کی طرح ان میں برہمنوں یا آتش کدہ کے خاندانی منتظموں کی طرح پروہتوں (Priests) کا کوئی طبقہ نہیں پایا جاتا تھا وہ اس سے دور تھے۔ شادی بیاہ ذرا دور کی قرابت میں کرتے، نکاح میں گواہوں اور مہر کا التزام رکھتے۔ طلاق صرف تین بار دیتے،

(بلوغ الأرب فی معرفۃ أحوال العرب، الآلوسی: جلد 1 صفحہ 243)

بیٹی، نواسی، بہن اور بھانجی سے اس وقت کے ایرانی مجوسیوں کی طرح مناکحت نہیں کرتے تھے، بلکہ اس کو عار، شرم اور بے حیائی کی بات سمجھتے تھے، قرآن نے ان کے اس طرز معاشرت کو بہ نظر استحسان دیکھا اور اس کو شریعت قرار دیا۔

قریش کی امتیازی شان میں اضافہ کرنے والی ایک خصوصیت یہ بھی تھی کہ یہ لوگ جس قبیلہ کی لڑکی سے چاہتے بلا شرط شادی کر سکتے تھے، مگر کسی کو اپنی لڑکی دیتے ہوئے یہ شرط ضرور لگاتے کہ جس سے شادی کی جا رہی ہے وہ ان کے مذہب پر سختی کے ساتھ کاربند ہو۔ وہ اپنے عقیدہ، خاندانی روایات اور سماجی آن بان کے بموجب ایسے شخص سے رشتہ کرنا ناجائز اور اپنی شان کے منافی سمجھتے تھے، جو عقیدہ میں ان کا ہم مشرب تابع نہ ہو۔

(المرتضیٰ، الندوی: صفحہ 22 بلوغ الأرب، الآلوسی: جلد 1 صفحہ 24)