مہر اور شادی کا سامان
علی محمد محمد الصلابی1۔ مہر اور شادی کا سامان:
سیدنا علی بن ابی طالبؓ کا بیان ہے کہ جب رسول اللہﷺ کے پاس حضرت فاطمہؓ کے لیے نکاح کا پیغام آنے لگا تو میری لونڈی نے مجھ سے کہا: کیا آپ کو معلوم ہے کہ فاطمہ بنت رسول اللہﷺ کے لیے آپﷺ کے پاس نکاح کا پیغام آنے لگا ہے، میں نے کہا: نہیں، میں نہیں جانتا۔ اس نے کہا: یقیناً ان کے لیے شادی کا پیغام آنے لگا ہے، آپ کیوں نہیں رسول اللہﷺ کے پاس اس ارادہ سے جاتے کہ وہ آپ سے ان کا نکاح کر دیں، میں نے کہا: میرے پاس ہے ہی کیا کہ جس سے نکاح کروں، اس نے کہا: اگر آپ رسولﷺ کے پاس جائیں گے تو مجھے یقین ہے کہ وہ رشتہ آپ سے کر دیں گے، وہ مسلسل مجھے امید دلاتی رہی یہاں تک کہ میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا لیکن آپ کی ہیبت و جلال کی وجہ سے بات نہ کر سکا، مگر آپﷺ خود گویا ہوئے اور پوچھا: کیسے آنا ہوا؟ کیا کوئی ضرورت ہے؟ میں خاموش رہا، آپ نے فرمایا: شاید تم فاطمہ سے متعلق پیغام دینے آئے ہو؟ میں نے عرض کیا، ہاں۔ پھر آپﷺ نے پوچھا: کیا تمھارے پاس ادائیگی مہر کے لیے کچھ ہے؟ میں نے کہا: کچھ نہیں ہے، اے اللہ کے رسول! آپ نے پوچھا: میں نے تمھیں جو زرہ دی تھی اس کا کیا کیا؟ قسم ہے اس ذات کی جس کے ہاتھ میں علی کی جان ہے وہ حطمی (کشادہ) زرہ تھی، اور اس کی قیمت چار سو درہم تھی۔ میں نے کہا: وہ میرے پاس ہے، آپﷺ نے فرمایا: میں نے فاطمہ کی شادی تم سے کردی، اسے بطورِ مہر فاطمہ کے پاس بھیجو، پس یہی فاطمہ بنت رسولﷺ کا حق مہر تھا۔
(دلائل النبوۃ: البیہقی: جلد 3 صفحہ 160، اس کی سند حسن ہے۔)
پھر اللہ کے رسولﷺ نے ایک چادر ایک مشکیزہ ایک چمڑے کا تکیہ جس میں اذخر بھری ہوئی تھی دے کر حضرت فاطمہؓ کو رخصت کیا۔
(صحیح السیرۃ النبویۃ: صفحہ 667، مسند فاطمۃ الزہرائ: السیوطی: تحقیق فواد احمد زمرلی: صفحہ 189)۔
اور شیعی روایات میں آیا ہے کہ حضرت علیؓ کہتے ہیں، پھر میں نے اپنی زرہ لی اور اسے لے کر بازار میں گیا اور سیدنا عثمان بن عفانؓ کے ہاتھ چار سو درہم میں فروخت کردیا، جب میں نے دراہم اپنے ہاتھ میں لے لیے اور انھوں نے زرہ مجھ سے لے لی، تو کہنے لگے: اے ابوالحسن! کیا اس خرید و فروخت سے میں زرّہ اور ان دراہم کا تم سے زیادہ حق دار کوئی نہیں ہے؟ میں نے کہا: ہاں ضرور۔ پھر کہا: لو یہ زرہ میری طرف سے تمھارے لیے ہدیہ ہے، چنانچہ میں دراہم اور زرّہ دونوں لے کر رسول اللہﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور آپ کے سامنے رکھ دیے۔ حضرت عثمانؓ نے جو کچھ کہا تھا، وہ بھی بتا دیا، آپﷺ نے ان کے لیے خیر و برکت کی دعا فرمائی۔
(کشف الغمۃ: أربلی: جلد 1 صفحہ 359، بحار الانوار: المجلسی: صفحہ 29، بحوالہ الشیعۃ و اہل البیت صفحہ 137، 138)۔