Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا مہر اور ان کے برتنے کے سامان

  علی محمد الصلابی

سیدنا علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ کہتے ہیں سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی شادی کا پیغام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے لگا، تو میری لونڈی نے مجھ سے کہا: تمھیں معلوم ہے کہ فاطمہ کی شادی کا پیغام رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آنے لگا ہے، میں نے کہا: نہیں، اس نے کہا: آنے لگا ہے تو آپ کو کوئی چیز مانع ہے کہ آپ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پیغام لے کر جائیں اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سیدنا علیؓ کی شادی کردیں ؟ میں نے کہا: کیا میرے پاس کچھ ہے جس کے عوض میں شادی کرلوں؟ اس نے کہا: آپ اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جائیں تو وہ آپ سے شادی کردیں گے۔ فرماتے ہیں کہ وہ مجھے امید بندھاتی رہی، یہاں تک کہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس گیا، میں آپ کے دائیں جانب چپ چاپ بیٹھ گیا، اللہ کی قسم مجھے آپ سے آپ کے رعب و جلال کے باعث گفتگو کی ہمت نہ ہوئی، آپﷺ نے فرمایا: شاید تم فاطمہ کی شادی کا پیغام دینے آئے ہو، میں نے کہا: ہاں، آپﷺ نے فرمایا: تمھارے پاس کچھ ہے جس کے عوض وہ تمھارے لیے حلال ہوجائے؟ میں نے کہا: اے اللہ کے رسول! اللہ کی قسم نہیں ہے۔ آپ نے فرمایا: وہ زرہ تم نے کیا کی جس کو دے کر میں نے تم کو مسلح کیا تھا؟

میں نے کہا: میرے پاس ہے۔ آپﷺ نے فرمایا: میں نے تمھاری اس سے شادی کردی، تم اسے اس کے

پاس بھیج دو، اس کے عوض وہ تمھارے لیے حلال ہوجائے گی، یہی فاطمہ بنت رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا مہر تھا۔

(دلائل النبوۃ للبیہقی: جلد 3 صفحہ 160 اس کی سند حسن ہے۔)

رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کو درج ذیل برتنے کا سامان دیا، چادر، گھڑا، اذخر بھرا چمڑے کا تکیہ۔ 

(مسند فاطمۃ الزہراء و ما ورد فی فضلہا: تحقیق: فواد أحمد زمرلی: صفحہ 189) 

اس مبارک شادی میں سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے تعاون کا تذکرہ شیعی روایات میں اس طرح آیا ہے: سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں اپنی زرہ کو لے کر بازار گیا، اسے عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ سے چار سو درہم کے عوض بیچ دیا، جب میں نے ان سے درہم لے لیے، اور انھوں نے مجھ سے زرہ لے لی، تو انہوں نے فرمایا: اے ابوالحسن کیا میں زرہ کا تم سے زیادہ حقدار اور تم درہم کے مجھ سے زیادہ حقدار نہیں ہو؟ میں نے کہا: کیوں نہیں ؟ فرمایا: یہ زرہ میری جانب سے تم کو ہدیہ ہے۔ میں زرہ و دراہم لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپﷺ کے سامنے زرہ اور دراہم کو رکھ دیا، اور حضرت عثمان کے تعامل کا آپﷺ سے تذکرہ کیا چنانچہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ان کے لیے دعائے خیر کی

(کشف الغمۃ للأربلی: جلد 1 صفحہ 359، نقلًا من الشیعۃ و اہل البیت: صفحہ 137، 138 )