سیدنا علی و فاطمہ رضی اللہ عنہما کا رہن سہن
علی محمد الصلابیحضرت علی و فاطمہ رضی اللہ عنہما رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نزدیک سب سے زیادہ محبوب تھے، پھر بھی ان کی زندگی زہد و تنگ حالی، صبر اور محنت والی زندگی تھی، ہناد عطاء سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں، مجھے بتایا گیا کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے: چند دن گزر گئے نہ ہمارے پاس کچھ تھا اور نہ ہی اللہ کے نبی صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس، میں نکلا، راستے میں پڑا۔ ایک دینار پایا، کچھ دیر رک کر اس کو لے لینے یا چھوڑ دینے سے متعلق سوچتا رہا، پھر اپنی پریشان حالی کے باعث اسے لے لیا، اور آٹے کے تاجروں کو دے کر آٹا خرید لیا، آٹا لیے ہوئے فاطمہ کے پاس آیا اور کہا: اس کو گوندھو، وہ گوندھنے لگیں، اور ان کی پریشان حالی کے باعث ان کے سینے کی ہڈی آٹے کے برتن کو چھو رہی تھی، پھر انھوں نے روٹی پکائی، میں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس جاکر ماجرا بیان کیا، آپ نے فرمایا:
کُلُوْا فَإِنَّہُ رِذْقٌ رَزَقَکُمُوْہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔
(کنز العمال: جلد 7 صفحہ 328، المرتضیٰ للندوی: صفحہ 41)
’’کھاؤ، یہ ایسا رزق ہے جسے اللہ تعالیٰ نے تمھیں عطا کیا ہے۔‘‘
شعبی سے روایت ہے کہتے ہیں سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: میں نے فاطمہ بنت محمد صلی اللہ علیہ وسلم سے شادی کی۔ میرے اور ان کے لیے ایک مینڈھے کے چمڑے کے علاوہ کوئی اور چیز بچھانے کی نہ تھی، ہم اس پر رات میں سوتے، دن میں اس پر اپنے پانی لانے والے اونٹ کے لیے چارہ ڈالتے، ہماری خدمت کے لیے اس کے علاوہ کوئی چیز نہ تھی۔
(کنز العمال: جلد 7 صفحہ 133، المرتضیٰ للندوی: صفحہ 41)
مجاہد سے روایت ہے سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے فرمایا: مدینہ میں میں ایک بار سخت بھوک سے دوچار ہوا، عوالی مدینہ میں جاکر کام تلاش کرنے لگا، میں نے ایسی عورت کو دیکھا جس نے خشک مٹی جمع کر رکھی تھی، میرے خیال میں وہ اس کو بھگونا چاہتی تھی، میں اس کے پاس آیا اور اس سے ہر ڈول کے بدلے ایک چھوہارا طے کرلیا، سولہ ڈول پانی کھینچا، میرے دونوں ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے، پھر میں نے پانی پیا، اس کے پاس آیا اور کہا: اتنا بس ہے، آپ نے اپنے دونوں ہاتھ دکھا کر سمیٹ لیے، اس نے مجھے سولہ چھوہارے گن کر دیا، میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آیا، آپﷺ کو بتلایا، چنانچہ آپﷺ نے بھی اسی میں سے کھایا۔
(صفۃ الصفوۃ: جلد 1 صفحہ 320۔ الموسوعۃ الحدیثیۃ: مسند احمد: 1135 اس کی سند ضعیف ہے)
اس واقعے میں مدینہ میں سیدنا حسن کے والد کی پریشان حالی کا ذکر ہے۔اس سے پریشانیوں کو برداشت کرنے کے لیے مشروع طرز عمل کا پتہ چلتا ہے، اس لیے کہ سیدنا علی رضی اللہ عنہ حلال کمائی کے واسطے اپنے ہاتھوں کام کرنے کے لیے نکل پڑے، بیٹھ کر محسنین کے عطیات کا انتظار نہ کیا۔
اس واقعے سے قوت برداشت کا پتہ چلتا ہے، طاقت کو کمزور کردینے والی سخت بھوک میں مبتلا ہونے کے باوجود مشقت سے بھرپور کام کو انجام دیا۔
اس واقعے سے احباب کے لیے وفاداری و ایثار کا پتہ چلتا ہے اس لیے کہ سخت بھوک اور مشقت سے بھرپور کام انجام دینے کے باوجود چھوہاروں کی اجرت کو بچا کر رکھا، یہاں تک نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے ملاقات ہوئی، تو آپ نے بھی ان کے ساتھ کھایا۔
(معین السیرۃ للشامی: صفحہ 255)
اس واقعے سے سب سے زیادہ اہم سبق یہ ملتا ہے کہ انسان کی مادی محتاجی اور مالداری اللہ کی بندے سے محبت اور عدم محبت کا معیار نہیں ہے، حقیقی معیار اللہ کا تقویٰ ہے، اس معیار پر ہمیں لوگوں کو پرکھنا چاہیے۔