کربلا - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

کربلا

  مولانا اقبال رنگونی

کٹا کر گردنیں اپنی بتلا گئے یہ کربلا والے 

کبھی طاقت کے آگے جھک نہیں سکتے خدا والے

اے کربلا کی خاک اس احسان کو نہ بھول 

تڑپی ہے تجھ پہ لاش جگر گوشئہ بتول

حسین کے خون سے تو رنگین ہو گئی

سیراب کر گیا تجھے خونِ رگِ رسولﷺ

کرتی رہے گی پیش شہادت حسین کی

آزادی حیات کا یہ سرمدی اصول

کٹ جائے سر تیرا تلوار کی نوک سے

یزیدیوں کی بیعت ہرگز نہ کر قبول