امام شمس الدین ذہبیؒ (748ھ) کا خراجِ عقیدت - دفاعِ اہلِ سنت…

امام شمس الدین ذہبیؒ (748ھ) کا خراجِ عقیدت

  مولانا اقبال رنگونی

امام شمس الدین ذہبیؒ (748ھ) آپؓ کے تعارف میں لکھتے ہیں کہ سیدنا حسینؓ حضورِ اکرمﷺ کے دنیا میں پھول بہار اور آپﷺ کے محبوب ہیں:  

الحُسَيْنُ الشَّهِيدُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ بْنُ عَلِی بْنِ أَبِی طَالِبٍ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ الْإِمَامُ الشَّرِيفُ، الْكَامِلُ، سِبْطُ رَسُولِ اللہﷺ وَرَيْحَانَتُهُ مِنَ الدُّنْيَا، وَمَحْبُوبُهُ أَبُو عَبْدِ اللَّهِ الْحُسَيْنُ ابْنُ أَمِيرِ الْمُؤْمِنِينَ أَبِی الْحَسَنِ عَلِی بْنِ أَبِی طَالِبٍ بْنِ عَبْدِ الْمُطَّلِبِ بْنِ هَاشِمِ بْنِ عَبْدِ مَنَافٍ بْنِ قُصَی الْقُرَشِی الْهَاشِمِی۔  

(سیر اعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 280)

سیدنا حسینؓ بن سیدنا علی المرتضیٰؓ سیدہ فاطمہؓ کے فرزندِ ارجمند، حضورِ اکرمﷺ کے پھول، محبوب اور دل بند تھے آپ گردن سے لے کر ٹخنوں تک حضورِ اکرمﷺ سے بہت زیادہ مشابہت رکھتے تھے۔ حضورِ اکرمﷺ نے ان کے کان میں اذان دی تھی آپؓ کی والدہ سیدہ فاطمہؓ جنت کی عورتوں کی سردار ہیں حضورِ اکرمﷺ کی گود اور آپ کے درِ اقدس پر انہوں نے پرورش پائی تھی اور حضورِ اکرمﷺ نے ان کو اور ان کے بڑے بھائی سیدنا حسنؓ کو جوانانِ جنت کے سردار ہونے کی شہادت دی ہے حضورِ اکرمﷺ نے جن کو اپنی چادر میں لیا تھا یہ دونوں بھی اس میں داخل اور شامل تھے آپؓ بہت نیک، پرہیزگار، صاف ستھرے، خوبصورت، سخی، بزرگی، خطابت اور شجاعت میں اپنی مثال تھے آپؓ میدانِ کربلا میں بڑی جرأت کے ساتھ لڑے اور آخر کار جامِ شہادت نوش فرما لیا تھا۔ رضی اللہ عنہ