یزید کے گھر ماتمی مجلس
مولانا اقبال رنگونیکربلا میں جو لوگ بچ گئے تھے ان سب کو یزید کے پاس شام لے جایا گیا وہ جب یزید کے پاس پہنچے تو اس کے گھر والوں نے انہیں دیکھ کر بہت زیادہ دکھ اور افسوس کا اظہار کیا راقم الحروف نے اپنی کتاب ماتم نہ کیجیے میں اس پر تفصیلی گفتگو کی ہے یہاں اس کا ایک حصہ ملاحظہ کیجیے۔
شیعہ باقر مجلسی ہی لکھتا ہے کہ سیدنا حسینؓ کی شہادت کی خبر جب یزید تک پہنچی اور کربلا کے مظلوم مسافر جب دربارِ یزید میں لائے گئے تو یزید بھی اس سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکا اس نے اپنے گھر والوں کو حکم دیا کہ اس غم کے موقع پر گھر میں ماتمی مجلس برپا کی جائے جس وقت سیدنا حسینؓ کے گھر والوں کا قافلہ کوفہ سے دمشق میں آ کر دربارِ یزید میں پیش ہوا تو یزید کی بیوی دخترِ عبداللہ بن امیر بے تاب ہو کر بے پردہ دربار یزید میں چلی آئی۔ یزید نے دوڑ کر اس کے سر پر کپڑا ڈال دیا اور کہا:
اے ہندہ! تو فرزندِ رسول اللہﷺ بزرگِ قریش پر نوحہ زاری کر ابنِ زیاد لعین نے اس کے معاملہ میں جلدی کی، حال یہ ہے کہ میں ان کے قتل پر رضا مند نہ تھا۔
(جلاء العیون: صفحہ 527)
اس سے معلوم ہوتا ہے کہ یہ یزید تھا جس نے سب سے پہلے ماتم کرنے کا حکم دیا تھا۔
