ایک قابلِ غور سوال
مولانا اقبال رنگونیحضرت الاستاذ علامہ خالد محمود صاحبؒ نے شیعہ علماء کی ان تحریرات کی رو سے بجا طور پر یہ سوال اٹھایا ہے کہ یہاں یہ سوال بھی ابھرتا ہے کہ پسماندگانِ کربلا گرفتار کر کے دمشق میں پھرائے گئے ہوتے تو کیا یہ یزید کی طرف سے مدینہ واپسی کی عزت قبول کرتے؟ پھر مدینہ جا کر سیدنا علی بن حسین زین العابدینؒ مسجدِ نبویﷺ میں اس طرح آزادانہ فقہ و حدیث کی مسندِ تدریس پر بیٹھتے جس طرح دوسرے اکابرِ محدثین اپنا اپنا حلقہِ درس لگائے ہوئے تھے؟ بلکہ وہ حکومت کی کڑی نگرانی میں رکھے جاتے یہ حالات بتاتے ہیں کہ سیدنا زین العابدینؒ اہلِ سنت عقیدے کے تھے، ورنہ کیسے ہو سکتا ہے کہ وہ مسجدِ نبویﷺ میں اہلِ سنت کے دوسرے ائمہ حدیث کے ساتھ برابر کی مسند تدریس پر بیٹھے ہوں۔
(تجلیاتِ آفتاب: جلد 2 صفحہ 197)
