کربلا میں کی جانے والی آپؓ کی دعاؤں میں سے ایک یہ بھی ہے
مولانا اقبال رنگونیاے اللہ ہر مصیبت میں تجھ ہی پر اعتماد ہے اور ہر پریشانی میں تجھ ہی سے امید وابستہ ہے ہر حال اور کام میں تو ہی میرا توشہ اور تجھ ہی پر بھروسہ ہے کتنے ہی رنج و الم ہیں جن میں دل ہمت ہار بیٹھتے ہیں، تدبیریں بیکار ہو جاتی ہے دوست شرمسار اور دشمن خوش ہوتے ہیں میں ایسے رنج و االم کا تجھ ہی سے شکوہ کرتا ہوں اور اس سے تیرے ہی حضور پیش کرتا ہوں اور سب سے منہ موڑ کر تیری طرف رجوع کرتا ہوں اسی لیے آپ بھی میری دستگیری فرمائیے اسے دور کر کے آپ مجھے کافی ہو جائیے آپ ہی میرے منعم حقیقی ہیں اور ہر خیر بھلائی کے مالک ہیں اور ہر انتہا کا مرجع ہیں۔ (الامام الحسن: صفحہ 103)
