سیدنا حسینؓ کی ازواج کے دکھ بھرے اشعار - دفاعِ اہلِ سنت |…

سیدنا حسینؓ کی ازواج کے دکھ بھرے اشعار

  مولانا اقبال رنگونی

آپؓ کی زوجہ محترمہ جنابِ عاتکہ نے آپؓ کی مظلومانہ شہادت پر کہا:  

وَاحُسَيْنَاهُ فَلَا نَسِيتُ حُسَيْنًا 

أَقْصَدَتْهُ أَسِنَّةُ الْأَعْدَاءِ  

غَادَرُوهُ بِكَرْبَلَاءَ صَرِيعًا         

لَا سَقَى اللّٰهُ جَانِبَی كَرْبَلَاءَ  

ترجمہ: ہائے حسین! میں اپنے حسینؓ کو کبھی نہیں بھلا سکتی، جنہیں دشمنوں کی نیزوں کی دہار نے چھلنی کر دیا تھا اور آپ کو کربلاء کے میدان میں شہید کر کے چھوڑا۔ اللہ کرے آج کے بعد کربلاء کو کبھی بارش سے سیراب نہ کرے۔

آپؓ کی ایک اور زوجہ محترمہ سیدہ ربابؓ نے بھی بہت رقت انگیز اشعار کہے تھے:  

إِنَّ الَّذِی كَانَ نُورًا يُسْتَضَاءُ بِهِ

بِكَرْبَلَاءَ قَتِيلٌ غَيْرُ مَدْفُونٍ  

سِبْطَ النَّبِی جَزَاكَ اللّٰهُ صَالِحَةً

عَنَّا وَجَنَّبْتَ خُسْرَانَ الْمَوَازِينِ  

قَدْ كُنْتَ لِی جَبَلًا صَعْبَ الْمُرْتَقَى      

وَكُنْتَ تَصْحَبُنَا بِالرَّحْمِ وَالدِّينِ  

مَنْ لِلْيَتَامَى وَمَنْ لِلسَّائِلِينَ وَمَنْ      

يَأْوِی وَيَأْوِی إِلَيْهِ كُلُّ مِسْكِينِ  

وَاللّٰهِ لَا أَبْتَغِي صِهْرًا بِصِهْرِكُمْ     

حَتَّى أُغَيَّبَ بَيْنَ الرَّمْلِ وَالطِّينِ

ترجمہ: یعنی سیدنا حسینؓ تو ایک ایسی روشنی کا مینار تھے جن سے روشنی حاصل کی جاتی تھی آج وہ کربلاء کے میدان میں بے گور و کفن پڑے ہوئے ہیں اے نبیﷺ کے نواسے! اللہ تجھے ہماری طرف سے بدلہ عطا فرمائے اور قیامت کے دن تول کی کمی سے محفوظ رکھے آپ تو میرے لیے ایک مضبوط چٹان کی طرح تھے جہاں میں پناہ لیتی تھی، اور آپ انتہائی شفقت و دیانت سے پیش آتے تھے اب یتیموں اور سائلین کی سرپرستی کون کرے گا؟ اور کون انہیں تحفے تحائف دے گا؟ اور وہ کہاں پناہ لیں گے؟ اللہ کی قسم مجھے قبر میں جانے تک آپ کی زوجیت کے بعد کسی اور کی بیوی بن کر رہنا مطلوب نہیں ہے۔

سیدنا حسینؓ اور آپؓ کے اہل و عیال کی شہادت کی خبر سے اہلِ مکہ اور اہلِ مدینہ کے لوگ تڑپ اٹھے تھے اور جس کو یہ خبر ملتی گئی وہ رنج و غم میں ڈوب گئے یہ کوئی معمولی سانحہ یا حادثہ نہ تھا خاندانِ نبوتﷺ کا خون کربلا کی خاک پر بہا اور ان کے اجسام کربلا کی خاک پر تڑپے معصوم بچے تیر سے چھلنی ہوئے اور جوان نیزے اور تلوار سے گرائے گئے تھےاور کوفہ کے یہی وہ بے وفا اور بے حیا تھے جنہوں نے ایک لاکھ خطوط لکھ کر آپؓ کو بلایا اور آپؓ کے مقابل کھڑے ہوئے یا آپؓ کا ساتھ چھوڑ گئے اور اسے اپنی فتح سمجھ کر اس پر خوش ہو رہے تھے۔