کوفہ کے یہ دغا باز لوگ
مولانا اقبال رنگونیمسندِ ہند سیدنا شاہ عبدالعزیز محدث دہلویؒ (1239ھ) لکھتے ہیں:
اسلافِ شیعہ میں سے ان کثیر التعداد کوفیوں کی ہے جنہوں نے جنابِ رسول اللہﷺ کی آنکھوں کی ٹھنڈک اور خاتونِ جنت سیدہ فاطمہؓ کے جگر پارے سیدنا حسینؓ کو اصرار بھری عرضیاں اور خلوص بھرے خط لکھ کر ان سے دغا بازی کی چال چلی اول آپ کو مجبور کیا کہ دارالامنِ حرم چھوڑ کر کوفہ روانہ ہوں اور جب آپ کوفہ کے نزدیک پہنچے اور دشمنوں سے مقابلے اور مقاتلے کی نوبت آئی اور صدقِ اخلاص کے امتحان کا وقت آیا تو ان سب نے آپ کو دغا دیا۔ دشمنوں کی کثرت کے باوجود سیدنا حسینؓ مظلوم کی مدد و نصرت سے بڑے ڈھٹائی کے ساتھ اپنا ہاتھ کھینچ لیا، بلکہ ان میں سے کچھ تو آپ کے دشمنوں کے ساتھ ڈر یا لالچ کے سبب جا ملے اور سیدنا حسینؓ کے رفقاء کی شہادت کا سبب بنے اور کربلا میں یہ جو کچھ بھی پیش آیا، اسی فرقے کی بے وفائی اور دغا بازی کی وجہ سے پیش آیا۔
(تحفہ اثناءِ عشریہ: صفحہ 208، مترجم)
