سیدنا حسینؓ نے اپنی شہادت کا ذمہ دار کن کو بتلایا
مولانا اقبال رنگونیخود شہیدِ کربلا سیدنا حسینؓ نے جب ان کی بے وفائی دیکھی تو آپ نے انہیں مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ تم لوگوں نے مجھے یہاں بلا کر میرا ساتھ چھوڑ دیا مجھے اس پر کوئی حیرانگی نہیں ہے کیونکہ تم اس سے پہلے میرے بھائی اور میرے والد اور میرے چچا زاد بھائی حضرت مسلم سے بھی اسی طرح بے وفائی کر چکے ہو۔ (دیکھیے طبری: جلد 5 صفحہ 403)
شیعہ باقر مجلسی لکھتا ہے:
پس حضرت امام حسینؓ اصحابِ خود را جمع نمود و فرمود کہ بما خبر رسید کہ مسلم بن عقیل و هانی بن عروہ و عبداللہ بن یقطر را شہید کردند و شیعیانِ ما دست از یاری ما بر داشتند، ہر کہ خواہد از ما جدا شود بر او حرجی نیست۔ (جلاء العیون: جلد 2 صفحہ)
ترجمہ: پس سیدنا حسینؓ نے اپنے ساتھیوں کو جمع کر کے فرمایا کہ ہم کو یہ خبر ملی ہے کہ حضرت مسلم بن عقیل، ہانی بن عروہ اور عبداللہ بن یقطر کو شہید کر دیا گیا ہے اور ہمارے شیعوں نے ہماری حمایت سے ہاتھ کھینچ لیا ہے اس لیے جو شخص ہم سے الگ ہو کر جانا چاہے اس پر حرج نہیں ہے۔
آپ نے اہل کوفہ سے کہا:
تمہارے لیے ہلاکت ہو! تم نے مجھ کو اتنے جوش اور ولولے کے ساتھ بلایا تاکہ تمہاری فریاد کو پہنچوں اور ہم تمہاری دعوت پر جلد چلے آئے۔ پھر ہمارے ہی سروں پر تم تلوار لے کر کھڑے ہوگئے ہو اور ہمارے دشمنوں کے بجائے ہمی پر آتش جلا دی تم میدانِ جنگ میں اپنے دوستوں کے ساتھ اپنے ہی دشمن کے یار و مددگار ہو گئے، حالانکہ انہوں نے تمہارے ساتھ نہ عدل و انصاف سے کام لیا نہ تم ان سے خیر کی امید رکھتے ہو تم پروانے ہو! جب تلواریں نیاموں میں اور قلوب آرام و سکون میں اور ان کے افکار ناپختگی میں تھے، تم نے ہمیں کیوں نہ چھوڑ دیا؟ لیکن تم مکھیوں کی طرح فتنے کی طرف بھاگے تمہارے لیے ہلاکت ہو، بربادی ہو۔
(احتجاج طبرسی: جلد 2 صفحہ 61 مترجم)
آپ نے ان سے یہ بھی فرمایا: اے کنیز کے غلاموں! اے احزاب کے بچے لوگوں! ہاں خدا کی قسم بے وفائی و پیمان شکنی تمہاری دیرینہ عادت ہے تمہاری جڑیں غدار اور دھوکہ سے ملی ہوئی ہیں اور تمہاری شاخوں نے اسی پر پرورش پائی ہے تم ان کے وہ پلید ترین اور خراب ترین میوے ہو جو مالک کے گلے میں اٹکے ہوئے اور غاصب کے لیے خوش ذائقہ ہو۔ (ایضاً: صفحہ 61)
آپ نے اہلِ کوفہ کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا:
حیف ہے تم پر! کیا تم اپنے خطوط اور وعدے بھول گئے جو تم نے خدا تعالیٰ کو اپنے اور ہمارے درمیان دے کر لکھے تھے کہ اہلِ بیتؓ آئیں کہ ہم ان کے لیے اپنی جانیں دے دیں گے؟ حیف ہے تم پر اور تمہارے بلاوے پر! ہم آئے اور تم نے ہمیں ابنِ زیاد کے حوالے کر دیا اور ہمارے لیے فرات کا پانی بند کر دیا واقعی تم لوگ رسول اللہﷺ کے برے خلاف ہو کہ رسول اللہﷺ کی اولاد کے ساتھ یہ سلوک کیا ہے اللہ قیامت کے دن تمہیں سیراب نہ کرے۔
(ذبح عظیم بحوالہ ناسخ التواریخ: صفحہ 335)
آپ نے فرمایا: اے بے وفا و غدارو! مجبوری کے وقت تم نے اپنی مدد کے لیے ہمیں بلایا اور جب ہم آگئے تو کینے کی تلوار ہم پر چلائی۔
(ایضاً: صفحہ 391)
اے اللہ! شیعانِ کوفہ نے مجھے اپنی مدد کے لیے بلایا، پھر وہ ہمیں قتل کرنے کے درپے ہیں۔ اے اللہ! ان سے میرا انتقام لے اور حاکموں کو کبھی ان سے خوش نہ رکھ۔ (جلاء العیون: صفحہ 405، الارشاد: 24 للفید)
آپ نے یہ بھی کہا: تم پر تباہی ہو! حق تعالیٰ دونوں جہانوں میں میرا تم سے بدلہ لے گا خود اپنی تلواریں ایک دوسرے کے منہ پر چلاؤ گے اور اپنا خون خود بہاؤ گے اور دنیا سے نفع نہ پاؤ گے اور اپنی امیدوں کو نہ پہنچو گے اور آخرت میں تو بدترین عذاب تمہارے لیے تیار ہے۔ (ایضاً: صفحہ 409)
آپ نے بلانے والوں کو مخاطب کر کے فرمایا: تم پر اور تمہارے ان ارادوں پر خدا کی مار ہو! تم بڑے بے وفا نکلے تم نے دھوکہ سے ہمیں یہاں بلا کر اکیلا چھوڑ دیا اور ہمیں دشمنوں کے حوالے کر دیا۔
(جلاء العیون: صفحہ 391)
تم پر اور تمہارے ارادے پر لعنت ہو اے بے وفایان! جفاکارانِ خدا! تم پر وائے ہو! تم نے ہنگامِ اضطراب و اضطرار میں اپنی مدد کے لیے بلایا اور جب میں نے تمہارا کہنا قبول کیا اور تمہاری نصرت و ہدایت کے لیے آ گیا، تو اس وقت تم نے شمشیر کینہ مجھ پر کھینچ دی اپنے دشمنوں کی تم نے مدد کی اور اپنے دوستوں سے دست برادری کر کے دشمنوں سے مل گئے، بغیر اس کے کہ تم نے کوئی عدالت ظاہر کی ہو تم پر وائے ہو! بے عداوت و کینہ و نزاع، تم کیوں کر شمشیر کی نیام انتقام کھینچ سکے اور بے سبب قتل اہل بیت رسولﷺ پر کمر باندھ سکے؟ ان ظالموں پر لعنت ہو جو اپنے عہد و پیمان کو بعد از موکد بقسم کر چکے اور اب فسخ کرتے ہیں میں جانتا ہوں کہ شہید ہو جاؤں گا، لیکن مجھے خبر دی گئی ہے کہ میری شہادت کے بعد تھوڑے ہی دنوں میں تم اشقیاء تنغ انتقام سے قتل ہو گے اور تمہاری آرزوئیں حاصل نہ ہوں گی اے خدا! ان سے بارانِ رحمت کو حبس کر دے اور ان کو قحط میں مبتلا کر دے اور فرزندِ ثقیف یعنی مختار کو ان پر مسلط کر دے کہ کاسہ زہر آلود مرگ ان کو پلائے، اس لیے کہ انہوں نے مجھے فریب دیا، جھوٹ بولا اور میرے دشمنوں کا ساتھ دیا ان کی مدد کی۔
(جلاء العیون: جلد 2 صفحہ 233)
