سیدنا زین العابدینؒ کا بیان - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیدنا زین العابدینؒ کا بیان

  مولانا اقبال رنگونی

سیدنا زین العابدینؒ نے کوفیوں کو مخاطب کر کے کہا: اے لوگو! تم کو خدا کی قسم، کیا جانتے ہو کہ تم نے میرے والد کو خط لکھا اور ان کو فریب دیا، ان کے ساتھ عہد و پیمان کیا اور پھر انہی سے جنگ کی اور ان کو بے یار و مددگار چھوڑ دیا؟ تمہارے لیے ہلاکت ہو! افسوس! افسوس! اے بے وفا، مکارو! تمہارے اور تمہارے نفسوں کے درمیان شہوت حائل ہے۔  

(شیعہ کتاب احتجاج طبرسی: جلد 2 صفحہ 17)

جب آپ کربلا سے کوفہ آئے اور دیکھا کہ مرد و عورتیں رو رہی ہیں، آپ نے انہیں اس طرح روتے دیکھ کر فرمایا:  

إِنَّ هَؤُلَاءِ يَبْكُونَ عَلَيْنَا فَمَنْ قَتَلَنَا غَيْرُهُمْ۔  

(الاحتجاج، ناسخ التواریخ: جلد 6 کتاب 2، صفحہ 156)  

اب یہ لوگ ہماری شہادت اور ہمارے حال پر ماتم کر رہے ہیں، پر یہ تو بتاؤ کہ ان کے علاوہ ہمیں کن لوگوں نے قتل کیا ہے؟ یعنی یہی وہ لوگ ہیں جو ہمارے قاتل ہیں اور اب دنیا کو دکھانے کے لیے ماتم کر رہے ہیں اور منافقانہ اداؤں سے دنیا کو دھوکہ دینا چاہتے ہیں۔

سیدنا زین العابدینؒ نے خطبہ دیتے ہوئے کہا کہ تم بخوبی جانتے ہو کہ تم لوگوں نے ہمارے ساتھ دھوکہ کیا ہے:  

أَيُّهَا النَّاسُ نَاشَدْتُكُمُ بِاللَّهِ هَلْ تَعْلَمُونَ أَنَّكُمْ كَتَبْتُمْ إِلَى أَبِی وَخَدَعْتُمُوهُ، وَأَعْطَيْتُمُوهُ مِنْ أَنْفُسِكُمُ الْعَهْدَ وَالْمِيثَاقَ وَالْبَيْعَةَ؟ قَاتَلْتُمُوهُ وَخَذَلْتُمُوهُ، فَتُبًّا لَكُمْ مَا قَدَّمْتُمْ لِأَنْفُسِكُمْ۔(شیعہ کتاب الاحتجاج: صفحہ 157)  

ترجمہ: اے لوگو! تمہیں یہ بات بخوبی معلوم ہے کہ تم نے میرے والدِ محترم کو خط لکھ کر بلایا، پھر تم نے ان کے ساتھ فریب کیا تم نے میرے والد کے ساتھ مدد کا پکا وعدہ کیا تھا اور بیعت کے عہد کیے تھے، لیکن تم نے ان سے قتال کیا، تو تم لوگوں نے انہیں رسوا اور ذلیل کیا سو تمہارے لیے بربادی ہو، جو کچھ تم نے اپنے لیے آگے بھیج رکھا ہے، (یعنی آخرت میں تم اس جرم عظیم کا پتہ چلے گا اور اس کی سزا بھگتو گے۔)

شیعہ طبرسی اور شیعہ باقر مجلسی لکھتا ہے کہ آپ نے کہا:

 اے لوگو! میں تم کو خدا کی قسم دیتا ہوں تم جانتے ہو کہ میرے پدر کو تم نے خطوط لکھے اور ان کو دھوکہ دیا، ان سے عہد و پیمان کیا اور ان سے بیعت کی، آخر کار ان سے جنگ کی اور دشمن کو ان پر مسلط کیا پس لعنت ہو تم پر! تم نے اپنے پاؤں سے جہنم کی راہ اختیار کی اور بری راہ اپنے واسطے پسند کی تم آنکھوں سے حضرتِ محمدﷺ کی طرف دیکھو گے، اس روز وہ تم سے فرمائیں گے کہ تم نے میری عترت کو قتل کیا اور میری ہتک حرمت کی کیا تم میری امت میں سے نہ تھے؟ (شیعہ کتب جلاء العیون: جلد 2 صفحہ 273، الاحتجاج: جلد 2 صفحہ 28)

سیدنا زین العابدینؒ کی بات سن کر جب سب پریشان ہوئے اور انہیں اندازہ ہو گیا کہ حقیقت کھل گئی، کہنے لگے ہم آپ کی بات مانیں گے اور جن لوگوں نے آپ کے ساتھ یہ ظلم کیا ہے ہم ان سے قصاص کا مطالبہ کریں گے سیدنا زین العابدینؒ نے اس کے جواب میں فرمایا: ہیہات، ہیہات! اے غدارو! اے مکارو! اب پھر دوبارہ تمہارے فریب میں نہ آؤں گا اور تمہارے جھوٹ کو باور نہ کروں گا تم چاہتے ہو کہ مجھ سے بھی وہی سلوک کرو جو میرے بزرگوں کے ساتھ تم نے کیا۔ میرے والد اور ان کے اہلِ بیتؓ کل کے دن تمہارے مکر سے قتل ہوئے۔  

(شیعہ کتاب جلاء العیون: جلد 2 صفحہ شیعہ باقر مجلسی)