قاتلان حسینؓ میں سے کوئی بھی سزا سے نہ بچ سکا - دفاعِ اہلِ…

قاتلان حسینؓ میں سے کوئی بھی سزا سے نہ بچ سکا

  مولانا اقبال رنگونی

صفحہ 1 از 2

جو لوگ اللہ کے مقبول بندوں کو ستاتے اور تکلیف دیتے ہیں یا ان کے بارے میں دل میں کینہ اور عداوت رکھتے ہیں یا ان کے ساتھ بدسلوکی اور بدتمیزی کرتے ہیں وہ یہ سمجھتے ہیں کہ اس سے ہمیں کچھ نہیں ہوگا جب کہ وہ در حقیقت اللہ کے غضب کو دعوت دیتے ہیں اور کبھی وہ اسی وقت غضب الٰہی کا شکار ہو جاتے ہیں اور کبھی سزا میں تاخیر کر دی جاتی ہے لیکن ان کی ان بداعمالیوں اور بد تمیزیوں کی سزا بہرحال اس دنیا میں بھی مل کر رہتی ہے اور وہ موت سے پہلے اپنے برے انجام سے دو چار ہو جاتے ہیں یا ان کی عبرتناک موت کا منظر دنیا والے دیکھتے ہیں۔ قرآن کریم، احادیث اور تاریخ اس پر گواہ ہے کہ جس جس نے اللہ کے نیک بندوں کی عزت پر ہاتھ ڈالا اور ان کے خون کے درپے ہوئے ہیں وہ آخر کار ذلت ورسوائی کا داغ لے کر ہی گئے ہیں، سیدنا حسینؓ کی شہادت پر خدا کی تلوار اسی طرح بے نیام ہوئی جس طرح سیدنا حسینؓ کے خالو سیدنا عثمان غنیؓ کے قاتلوں پر بے نیام ہوئی تھی اور جن جن کے ہاتھ سیدنا عثمانؓ کے گریبان تک گئے تھے ان سب کو اس کی سزا اسی دنیا قتل، جنون وغیرہ کی صورت میں ملی تھی، یہی صورت سیدنا حسینؓ کے قاتلوں کے ساتھ بھی پیش آئی اور ان میں سے کوئی بھی خدا کی پکڑ سے بچ نہ سکا جن کے ہاتھوں پر آپؓ اور آپؓ کے گھرانے کا خون تھا۔ (العیاذباللہ تعالیٰ) ان میں سے کوئی قتل کیا گیا، کسی کا چہرہ کالا ہو گیا یا چہرہ مسخ ہو گیا ان میں سے بعض انتہائی خطرناک قسم کے امراض میں مبتلا ہو گئے کسی کو فقر و تنگ دستی نے اپنی لپیٹ میں لے لیا تھا۔

حضرت امام زہریؒ یہ فرماتے ہیں کہ:

لم يبق مِمَّن قَتَلَهُ إِلَّا مِن عُوقِبَ فِي الدُّنْيَا إِمَّا بقتل أو عمى أَوْ سَوادِ الْوَجْه أَو زوال الملك في مدة يسيرة

 (الصواعق المحرقہ: جلد 2 صفحہ 572)

سیدنا حسینؓ کے قاتلوں میں سے کوئی ایک شخص بھی نہ بچا جسے اس دنیا میں اس کی سزا نہیں دی گئی ہو ان میں سے بعض قتل ہوئے بعض اندھے ہوئے بعض کے چہرے سیاہ پڑ گئے اور بعض تھوڑے ہی عرصہ میں اقتدار سے ہاتھ دھو بیٹھے۔

حافظ ابن کثیرؒ (774 ھ) لکھتے ہیں:

فإنه قل من نجا من أولئك الذين قتلوه من آفة وعاهة في الدنيا، فلم يخرج منها حتى أصيب بمرض وأكثرهم أصابهم الجنون . (البدايہ: جلد 8 صفحہ 202)

جن لوگوں نے سیدنا حسینؓ کے قتل میں کسی طرح کا بھی کوئی حصہ لیا ان میں سے بہت کم لوگ ایسے تھے جو کسی نہ کسی ناگہانی مصیبت اور آفت میں گرفتار نہ ہوئے ہوں دنیا سے جانے سے پہلے ان میں سے ہر ایک کو کوئی نہ کوئی بیماری نے آپکڑا اور ان میں سے اکثر تو پاگل ہو گئے۔

حافظ ابن کثیرؒ نقل کرتے ہیں کہ جب سیدنا حسینؓ کو سخت پیاس لگی تو آپؓ نہر فرات کے پاس پانی کے لیے جا رہے تھے اور پانی پی رہے تھے کہ حصین بن تمیم نے ایک تیر مارا جو آپؓ کے تالو میں پیوست ہوگیا جب آپؓ نے اسے اپنے تالو سے کھینچا تو خون بہہ نکلا تو آپؓ نے اسے اپنے ہاتھوں میں لیا اور آسمان کی طرف ہاتھ اٹھا کر دعا فرمائی کہ

اللَّهم أَحْصِهِمْ عَدَدًا وَ اقْتُلْهُمْ بِدَدًا، وَلَا تَذَرُ عَلَى الْأَرْضِ مِنْهُمْ أَحدا.

(البدايہ: جلد 8، صفحہ 187)

اے اللہ! ان سب کو گن گن کر اور ایک ایک کر کے ہلاک کر دے اور ان میں سے کسی کو روئے زمین پر باقی نہ رکھنا اور آپؓ نے ان کے خلاف سخت بددعا فرمائی۔

راوی کا بیان ہے کہ آپؓ کی اس بددعا پر کچھ وقت ہی گزرا تھا کہ اللہ تعالیٰ نے اس تیر پھینکنے والے کو سخت پیاس میں مبتلا کر دیا اور اسے ٹھنڈا پانی پلایا جاتا تو بھی اس کی پیاس ختم نا ہوتی پھر اسے دودھ اور لسی پلائی جاتی تو بھی اس کی پیاس نہ بجھتی، اور وہ کہتا کہ تمہارا ناس ہو، اور پلاؤ، میں پیاسا ہوں اور پلاؤ مجھے پیاس نے مار ڈالا ہے، ویلکم اسقونی قتلنی الظمأ، اسی طرح وہ چیختا چلاتا رہا یہاں تک کہ تھوڑی دیر نہ گزری تھی کہ اس کا پیٹ پھول کر اونٹ کی طرح ہو گیا حتی أنفد بطنه انفداد بطن البعير۔

(ايضاً: جلد 8 صفحہ 1081)

ایک مجلس میں کسی نے کہا کہ جس جس نے بھی سیدنا حسینؓ کے قتل میں مدد کی اور اس میں شریک رہا اسے مرنے سے پہلے کسی نہ کسی مصیبت سے دو چار ہونا ہی پڑا ہے تو اس مجلس میں سے ایک بوڑھے نے کہا کہ میں تو اس میں شریک رہا ہوں مگر مجھے تو اب کوئی مصیبت نہیں پہنچی، اتنے میں وہ چرا کو درست کرنے کے لیے اٹھا ہی تھا کہ اسے آگ نے پکڑ لیا اور وہ آگ، آگ کہتا ہوا نہر فرات میں داخل ہوگیا مگر آگ نے اس کا پیچھا نہ چھوڑا یہاں تک کہ وہ مر گیا۔

فجعل ينادي النار النار وانغمس في الفُرَاتِ وَمَعَ ذَلِكَ فَلَم يَزلَ بِهِ حَتَّى مات (الصواعق المحرقہ: صفحہ 571)

حافظ بن حجر مکیؒ اور دیگر علماء نے ایسے دیگر عبرتناک واقعات نقل کیے ہیں جو اس بات کا سبق دیتے ہیں کہ مظلوم کی آہ سے بچو، طاقت کا نشہ جب اتارا جاتا ہے تو وہ بہت خوفناک اور عبرتناک منظر ہوا کرتا ہے۔

یہ عبرتناک سزا ہے ان تمام لوگوں کے لیے جو اللہ تعالیٰ کے نیک بندوں کے ساتھ گستاخی سے پیش آتے ہیں اور آخرت کا عذاب تو اس سے کہیں زیادہ اشد ہے جو اس قسم کے گستاخوں کو اپنی لپیٹ میں لے گا۔ (اعاذنا اللہ تعالیٰ)

أيها القاتلون ظلما حسينا                         

 أبشروا بالعذاب والتنكيل

كل أهل السماء يدعوا عليكم  

ونبي مرسل وقبيل                       

لقد لعنتم على لسان بن داود وموسىٰ وحامل الإنجيل

اے سیدنا حسینؓ کے ظالم قاتلو! تمہیں سخت عذاب اور ذلت کی بشارت ہے تمام آسمان والے تم پر بددعائیں بھیجتے ہیں خواہ ان میں نبی ہوں فرشتے ہوں یا دوسرے طبقے کے لوگ ہوں، تم لوگوں پر لعنت ہو ابنِ داؤد (حضرت سلیمان علیہ السلام) کی اور حضرت موسیٰ علیہ السلام کی اور صاحب انجیل (حضرت عیسیٰ علیہ السلام) کی روز قیامت شفاعت نبویﷺ سے محروم لوگ، اس میں شک نہیں کہ حضورﷺ سیدنا حسینؓ کو بہت پیار کرتے تھے اور ان کے بارے میں آنے والے حالات کی خبریں ملنے پر تڑپ جاتے تھے اور اس میں بھی شک نہیں کہ جس نے حضورﷺ کے محبوب کو تکلیف دی اور ان کے قتل سے بھی دریغ نا کیا ایسے لوگ روز قیامت کس طرح حضورﷺ کو اپنا منہ دکھا سکیں گے؟ اور کس طرح شفاعت کے حقدار بن سکیں گے۔

صفحہ 1 از 2