اگر یہ کہانی صحیح ہے؟ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

اگر یہ کہانی صحیح ہے؟

  مولانا اقبال رنگونی

شیعہ علماء اور ان کے ذاکرین ٹی وی پر سجائی جانے والی مجالس میں نہایت ہی جذباتی انداز میں دعویٰ کرتے ہیں کہ سیدنا حسینؓ اور آپ کے رفقاء کی لاشوں کی بڑی ہی بے حرمتی کی گئی اور ان کی لاشوں پر گھوڑے دوڑائے گئے تھے یہ سن کر شیعہ عوام دھاڑیں مار کر رونا شروع کر دیتے ہیں۔ 

سوال یہ ہے کہ کیا واقعی ایسا ہوا تھا؟ شیعہ کی مرکزی کتاب اصولِ کافی سے پتہ چلتا ہے کہ ایسا کچھ بھی نہیں ہوا تھا۔ شیعہ راوی بیان کرتا ہے کہ جب سیدنا حسینؓ شہید کر دیے گئے تو دشمنوں نے چاہا کہ ان کے جسم کو گھوڑوں سے روندیں۔ اتنے میں اچانک ایک شیر نکل آیا۔ وہاں جنابِ فضہ کھڑی تھیں تو فضہ نے شیر سے کہا:  

فَقَالَتْ: يَا أَبَا الْحَارِثِ فَرَفَعَ رَأْسَهُ، ثُمَّ قَالَتْ: أَتَدْرِی مَا يُرِيدُونَ أَنْ يَعْمَلُوا غَدًا بِأَبِی عَبْدِ اللَّهِ عَلَيْهِ السَّلَامُ؟ يُرِيدُونَ أَنْ يُوَطِّئُوا الْخَيْلَ ظَهْرَهُ، قَالَ: فَمَشَى حَتَّى وَضَعَ يَدَيْهِ عَلَى جَسَدِ الْحُسَيْنِ عَلَيْهِ السَّلَامُ، فَأَقْبَلَتِ الْخَيْلُ فَلَمَّا نَظَرُوا إِلَيْهِ قَالَ لَهُمْ عُمَرُ بْنُ سَعْدٍ لَعَنَهُ اللَّهُ: فِتْنَةٌ لَا تُثِيرُوهَا انْصَرِفُوا، فَانْصَرَفُوا۔  

(اصولِ کافی: صفحہ 295)

ترجمہ: اے ابو الحارث! (شیر کی کنیت ہے) شیر نے اپنا سر اٹھایا، پھر فضہ نے کہا تجھے معلوم ہے کہ دشمنوں کا کیا ارادہ ہے؟ وہ چاہتے ہیں کہ کل سیدنا حسینؓ کے جسم پر گھوڑے دوڑائیں۔ راوی کہتا ہے کہ شیر آگے بڑھا اور اس نے سیدنا حسینؓ کے جسم پر اپنا ہاتھ رکھ دیا۔ جب گھوڑوں پر سوار لوگ آئے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک شیر ہے۔ عمر بن سعد نے کہا یہ ایک فتنہ ہے، اس کو مت چھیڑو اور یہاں سے نکل چلو چنانچہ سب واپس چلے گئے (اور آپ کا جسم محفوظ رہا) 

اس سے پتہ چلتا ہے کہ کربلا کے میدان میں مرنے والوں کے اجسامِ مبارکہ کی بے حرمتی اور ان کے بدنوں کے ساتھ اس طرح کے نازیبا سلوک کے واقعات درست نہیں معلوم ہوتے یہ مجلسوں میں رلانے کے لیے تو ہو سکتے ہیں، لیکن ان کی سند کا صحیح کوئی ثبوت نہیں ملتا۔

شیعہ ممتاز مؤرخِ اعظم نے سیدنا حسینؓ پر جو کتاب مجاہدِ اعظم کے نام سے لکھی ہے، شیعہ دوستوں کو اس کا مطالعہ کرنا چاہیے تاکہ وہ جان سکیں کہ کربلا کے سانحے کو کتنا افسانوی قصہ بنا دیا گیا ہے شاکر حسین امروہی لکھتا ہے: 

صدہا باتیں طبع ذات تراشی گئیں ہیں واقعات کی تدوین عرصہ دراز کے بعد ہوئی رفتہ رفتہ اس کی اس قدر کثرت ہو گئی کہ سچ کو جھوٹ سے اور جھوٹ کو سچ سے علیحدہ کرنا مشکل ہو گیا ابو مخنف لوط بن یحییٰ ازدی کربلا میں خود موجود نہ تھا، اس لیے یہ سب واقعات انہوں نے بھی سماعی یعنی (دوسروں سے سن کر) لکھے ہیں لہٰذا مقتلِ ابی مخنف پر بھی پورا وثوق نہیں پھر لطف یہ ہے کہ ابو مخنف کے متعدد نسخے پائے جاتے ہیں، جو ایک دوسرے سے مختلف البیان ہیں اور ان سے صاف پایا جاتا ہے کہ خود ابو مخنف اس کے جامع نہیں، بلکہ کسی اور ہی شخص نے ان کے بیان کردہ سماعی واقعات کو قلم بند کر دیا ہے مختصر یہ کہ شہادتِ سیدنا حسینؓ کے تعلق سے تمام واقعات ابتداء سے انتہاء تک اس قدر اختلافات سے پر ہیں کہ اگر ان کو فرداً فرداً بیان کیا جائے تو کئی ضخیم دفتر فراہم ہو جائیں اکثر واقعات مظالمِ اہلِ بیتؓ، مثلاً تین شبانہ روز کا پانی بند رہنا، فوجِ مخالف کی لاکھوں کی تعداد میں ہونا، شمر کا سینہِ مطہر پر بیٹھ کر سر جدا کرنا، آپ کی لاشِ مقدس سے کپڑوں تک اتار لینا وغیرہ وغیرہ نہایت مشہور اور زبان زدِ خاص و عام ہیں، حالانکہ ان میں سے بعض سرے سے غلط، بعض مشکوک، بعض ضعیف، بعض مبالغہ آمیز اور بعض من گھڑت ہیں۔  

(مجاہدِ اعظم: صفحہ 178)