شیعہ ذاکرین سیدنا علیؓ کے شہداء بیٹوں کا نام لینے سے کیوں…

شیعہ ذاکرین سیدنا علیؓ کے شہداء بیٹوں کا نام لینے سے کیوں ڈرتے ہیں

  مولانا اقبال رنگونی

سیدنا حسینؓ کے ساتھ آپ کے سوتیلے بھائی جناب ابوبکر جناب عمر اور جناب عثمان رضی اللہ عنہم بھی کربلا میں سب شہید ہونے والوں میں سے تھے شیعہ باقر مجلسی نے (شیعہ کتاب جلاء العیون جلد 2 صفحہ 244) میں، ابن شیر آشوب نے مناقب ابی طالب (صفحہ 259) میں، قاضی نعمان المغربی نے اپنی کتاب الاخبار فی فضائل ائمۃ الاطہار میں، اس کا کھلا اقرار کیا ہے مگر آپ نے شیعہ ذاکر کو ماتمی مجالس اور شام غریباں میں سیدنا حسینؓ کے ان بھائیوں اور بھتیجوں کا نام لیتے کبھی نہیں سنا جن کے نام سیدنا علیؓ نے حضرات خلفائے ثلاثہؓ (سیدنا ابوبکر، سیدنا عمر، سیدنا عثمان رضی اللہ عنھم) کے نام پر یکے بعد دیگر رکھے تھے۔

حضرات شیخین کریمینؓ اور ان کے ناموں کے ساتھ کینہ اور بغض کی اس سے بری اور بدترین مثال اور کیا ہوگی کہ سیدنا علیؓ تو اپنے بچوں کے نام ان کے نام پر رکھیں اور شیعہ علماء سیدنا علیؓ کے رکھے ہوئے ناموں پر زبان درازی کرتے کوئی حیا نا کریں شیعہ علماء ان ناموں کا ذکر کرنے سے اس لیے ڈرتے ہیں کہ کہیں ان کی بنی بنائی عمارت دھڑام سے نیچے نا آ جائے اور شیعہ عوام کو پتہ لگ جائے کہ ان کے یہ ذاکر سیدنا ابوبکرؓ، سیدنا عمرؓ اور سیدنا عثمانؓ کو سرِ بازار بُرا بتاتے ہیں اور کھلے عام ان کی توہین و تنقیص کرتے ہیں اگر یہ لوگ واقعی اتنے برے ہیں تو سیدنا علی المرتضیٰؓ کو اپنے بچوں کا نام ان کے ناموں پر رکھنے کی کیا ضرورت پیش آگئی تھی؟ سیدنا علی المرتضیٰؓ کا اپنے پیش رو عظیم القدر خلفاء کے ناموں پر نام رکھنا ان سے اظہار محبت و عقیدت ہے ہی، تاہم یہ دراصل تکوینی فیصلہ بھی ہے اور اللہ تعالیٰ نے قیامت تک کے لیے یہ بات کھول دی جو لوگ سیدنا علی المرتضیٰؓ کے نام پر خلفائے ثلاثہؓ کی بے حرمتی کرتے ہیں یا ان پر طرح طرح کے گھٹیا اور بے ہودہ الزام لگاتے ہیں وہ سب کا سب جھوٹ کا پلندہ ہے جو ایک یہودی ابن سباء کے خبیث دل ودماغ کی پیداوار ہے۔