سیدنا حسینؓ کا یزید کی بیعت سے انکار کرنا
مولانا اقبال رنگونیماہِ رجب سن 60ھ میں سیدنا امیرِ معاویہؓ کے انتقال کے بعد جب یزید نے تخت سنبھال لیا تو اسے بخوبی معلوم تھا کہ اس معاملے میں سب سے زیادہ مخالفت کی آواز سیدنا حسینؓ کی جانب سے اٹھے گی اس نے چاہا کہ سیدنا حسینؓ اس کی بیعت کر لیں مگر وہ اپنی کوشش میں ناکام رہا اس دوران سیدنا عبداللہ بن زبیرؓ مدینہ سے مکہ چلے آئے جب سیدنا حسینؓ کے سوتیلے بھائی سیدنا محمد بن حنفیہ کو معلوم ہوا کہ سیدنا حسینؓ مدینے سے نکل کر جا رہے ہیں تو انہوں نے آپؓ سے کہا کہ آپؓ میرے نزدیک روئے زمین کے تمام انسانوں سے زیادہ محبوب ہیں۔ آپؓ سے گزارش ہے کہ آپؓ کسی دوسرے شہر جانے کے بجائے دیہات یا کسی ویران علاقے چلے جائیں اور وہیں قیام کریں اور پھر وہاں سے حالات کا جائزہ لیں۔ اگر حالات آپؓ کے موافق ہوں تو پھر کسی شہر چلے جائیں اور اگر کسی شہر جانے کی ہی خواہش رکھتے ہیں تو پھر مکہ مکرمہ تشریف لے جائیں۔ (البدایہ)
چنانچہ دوسرے دن آپؓ اپنے اہل و عیال کو لے کر مدینے سے باہر نکلے اور اپنے بھائی حضرت محمد بن حنفیہ کے مشورے پر مکہ مکرمہ روانہ ہوئے آپؓ نے ان کی رائے کی تصویب فرمائی اور ان کا شکریہ ادا کیا۔
(الارشاد: صفحہ 258 للمفید الشیعی)
راستے میں حضرت عبداللہ بن مطیعؓ ملے تو انہوں نے کہا کہ آپؓ بے شک مکہ تو جائیں مگر کوفہ کبھی نہ جائیں وہاں کے لوگ غدار ہیں وہاں کے لوگوں نے آپؓ کے والد کو شہید کیا ہے، پھر انہوں نے آپؓ کے بھائی کے ساتھ بھی اچھا سلوک نہیں کیا تھا وہ آپؓ کے ساتھ بھی بے وفائی کریں گے آپؓ عرب کے سردار ہیں، سو حرمِ مکہ میں قیام کریں۔
(تاریخِ طبری: جلد 4 صفحہ 177)
چنانچہ آپؓ کے مکہ پہنچنے پر عقیدت مند لوگ دیوانہ وار آپؓ کے پاس آنے لگے اور دوسری طرف کوفہ سے بھی آپؓ پر خطوط کا تانتا بندھ گیا اور بار بار مطالبہ کیا جانے لگا کہ آپؓ جلد کوفہ آئیں ہم آپؓ کے ساتھ ہیں اور آپؓ کے لیے ہماری گردنیں حاضر ہیں آپؓ آئیں اور ہمیں سنبھالیں اہلِ کوفہ نے صرف ڈیڑھ سو خطوط تو عبداللہ بن مسمع اور عبداللہ بن وال کے ہاتھ سیدنا حسینؓ کے پاس بھیجے تھے۔
(جلاء العیون: جلد 2 صفحہ 189)
پھر ان کی تعداد 600 سے زیادہ بڑھ گئی تھی۔
(اعلام الوریٰ: صفحہ 190)
پھر یہ 12 ہزار خط آپؓ کے پاس جمع ہوگئے۔
(ایضاً)
معروف شیعی مجتہد شیخ مفید (محمد بن محمد بن نعمان 413ھ) بھی لکھتا ہے کہ جب آپؓ کوفہ پہنچے تو دیکھا کہ آپ کے بلانے والے ایک ایک کر کے پیچھے ہٹ گئے تو آپؓ نے ان کو مخاطب کرتے ہوئے فرمایا کہ:
اے کوفہ والو! میں تمہارے پاس خود تو نہیں آیا، تم نے مجھے خطوط اور قاصد بھیجے کہ آپ ہمارے پاس آئیں اس لیے یہاں ہمارا کوئی امام اور قائد نہیں آپ کے یہاں سے امید ہے کہ اللہ ہم سب کو ہدایت اور حق پر جمع کر دے گا۔ (الارشاد: جلد 2 صفحہ31)
سیدنا حسینؓ نے شہادت سے قبل ان کوفیوں کو بد دعا دیتے ہوئے کہا کہ:
اللَّهُمَّ احْكُمْ بَيْنَنَا وَبَيْنَ قَوْمٍ دَعَوْنَا لِيَنْصُرُونَا فَقَتَلُونَا۔
(تاریخِ طبری: جلد 5 صفحہ 389)
شیعہ مجتہد مفید لکھتا ہے کہ آپؓ نے ان کے حق میں بددعا کرتے ہوئے یہ بھی فرمایا کہ اے اللہ! ان کو فرقوں اور ٹکڑوں میں بدل دینا، ان کو مصیبتوں میں مبتلا کرنا، اور حکمرانوں کو کبھی ان سے خوش نہ رکھنا اے اللہ تو ہی ہمارے اور ان کے درمیان فیصلہ کر، کیونکہ انہوں نے ہمیں یہ کہہ کر بلایا کہ وہ ہماری مدد کریں گے مگر یہ ہمارے دشمن بن گئے اور ہماری جان لینے کے درپے ہو گئے ہیں۔
فَإِنَّهُمْ دَعَوْنَا لِيَنْصُرُونَا ثُمَّ عَدَوْا عَلَيْنَا فَقَتَلُونَا۔
(الارشاد: صفحہ 241 ، اعلام الوریٰ: صفحہ 949)
اس میں بھی اس بات کا اعتراف ہے کہ سیدنا حسینؓ کو دعوت دینے والے اور پھر آپؓ کا ساتھ چھوڑ کر آپؓ کی جان کے درپے ہونے والے اور یزیدیوں کے ساتھ مل جانے والے وہی تھے جو آپؓ کی محبت میں نعرے لگاتے تھے اور اپنے آپ کو شیعہ کہتے تھے ایک خط ملاحظہ کیجیے جو کوفیوں نے سیدنا حسینؓ کو لکھا تھا: باغات سرسبز ہو چکے ہیں، پھل تیار ہو چکے ہیں، اگر آپ چاہتے ہیں تو آپ مضبوط لشکر کی طرف آ جائیں۔ والسلام۔
(اعلام الوریٰ: صفحہ 223 از فضل بن حسن طبرسی: 548ھ)
شیعہ مفکر محمد ہادی بن مرزا لکھنوی لکھتا ہے: روایاتِ صحیحہ میں وارد ہے کہ جنابِ سیدنا حسینؓ جب قریبِ کربلا پہنچے تو عمر بن سعد پچاس ہزار برائے قتلِ شاہِ ابرار ہمراہ لے کر روانہ ہوا ان اشقیاء میں نہ شامی تھا نہ حجازی، بلکہ سب کے سب اہلِ کوفہ تھے اکثر وہی بے حیا تھے جنہوں نے نامہائے پر دغا جنابِ سیدنا حسینؓ کو لکھے تھے: یا حضرت، جلد آئیے کہ فوجِ کثیر آپؓ کی مدد کو موجود ہے۔
(خلاصۃ المصائب: صفحہ 213)
اسی طرح دیگر متعدد خطوط اور مطالبے پر جس میں آپؓ کی حمایت اور نصرت کا وعدہ کیا گیا تھا اور اسی طرح آپؓ کی خدمت میں پیغامات بھیجے گئے کہ آپؓ جیسے ہی آئیں گے وقت کی حکومت کا تختہ الٹ دیا جائے گا اور اس مہم میں یہ لوگ آپؓ کی حفاظت میں کوتاہی نہیں کریں گے (مگر افسوس کہ ایسا نہ ہو سکا اور آپؓ ایک پلان کے تحت تنہا کر کے شہید کر دیے گئے) اس پر آپؓ نے عراق جانے کا ارادہ کر لیا اور اہل و عیال سمیت مکہ مکرمہ سے روانہ ہو گئے آپؓ کے جانے کا مقصد بھی لڑائی اور جہاد نہ تھا اگر ایسا ہوتا تو آپؓ مکہ مکرمہ میں اس کا باقاعدہ اعلان کرتے اور لوگوں کو جہاد کی ترغیب دیتے۔
