شیعوں کی سوچ سیدنا علیؓ سے مختلف ہے (آغا میری) - دفاعِ اہلِ…

شیعوں کی سوچ سیدنا علیؓ سے مختلف ہے (آغا میری)

  مولانا اقبال رنگونی

ایران کے ایک شیعہ حسین آغا میری کا ایک ویڈیو کلپ اس وقت ہمارے سامنے ہے جس میں وہ مجمع عام سے خطاب کرتے ہوئے کہتا ہے۔

ترجمہ: ہمارا مزاج دراصل اہلِ بیت کے مطابق نہیں ہے کیونکہ ہماری سوچ ان سے مختلف ہے ہمیں وہ نام جو علی ابن طالب علیہ السلام نے اپنے بچوں کے رکھے ہیں وہ قابلِ قبول نہیں ہیں اس لیے ہم ان کے نام کو سنسر (نہ بتلانا، چپھادینا، نکال دینا) کردیتے ہیں اس لیے کوئی بھی (ملا اور ذاکر) اپنی مجالس میں عثمان بن علیؓ کے مصائب نہیں پڑھتے، ابوبکر بن علیؓ کے مصائب نہیں پڑھتے، ابوبکر بن حسنؓ کے مصائب نہیں پڑھتے عمر بن علیؓ کے مصائب نہیں پڑھتے یہ سب بھی شہدائے کربلاء کے نام ہیں ان کے متعلق شیعہ (شعر نوحہ) نہیں پڑھتے نہ ان کی بہادری کا تذکرہ کرتے ہیں، قاسم کے متعلق، عبداللہ کے متعلق (نوحہ یا مصائب) تو پڑھتے ہیں ابوبکر بن علی یا ان کے بیٹے کا کوئی تذکرہ نہیں کرتے ہیں۔

نوٹ:یاد رہے کہ مذکورہ شیعہ عالم چونکہ شیعہ علماء کی اس قسم کی باتوں پر تنقید کرتے تھے اس لیے انہیں ایران چھوڑ کر جانا پڑا تھا۔