سیدنا حسینؓ کی ازواج و اولاد - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیدنا حسینؓ کی ازواج و اولاد

  مولانا اقبال رنگونی

 عبداللہ ابن قتیبہ (276ھ) لکھتے ہیں:

سیدنا حسینؓ کے ایک بیٹے علی (حضرت زین العابدینؒ) تھے جن کی والدہ مرہ بن عروہ بن مسعود ثقفی

(یہ خاتون حضرت زین العابدینؒ کی والدہ ہیں اور سیدنا معاویہؓ کی بھانجی ہیں جن کو لیلیٰ بنت مرہ کہا جاتا ہے۔ سیدنا معاویہؓ حضرت علی اکبر پر بڑا فخر کرتے تھے۔ (شہداء کربلا ذکر علی اکبر مطبوعہ امامیہ مشن لکھنؤ) کی بیٹی تھیں۔

اور علی اصغر ایک لونڈی سے تھے۔

اور سیدہ فاطمہ جن کی والدہ ام اسحاق بنت طلحہ بن عبیداللہ تھیں۔

اور سیدہ سکینہ، جن کی والدہ رباب بنت امرؤالقیس قبیلہ بنی کلب سے تھیں۔

نوٹ: شیعہ مؤرخین کی تحقیق کے مطابق سیدنا حسینؓ کی ایک بیوی شہر بانو بنت یزدجرد بھی تھی جو بقول ان کے حضرت زین العابدینؒ کی والدہ تھیں۔

یہ خاتون فتح خراسان کے غنائم میں آئیں تھیں ان کی ایک بہن بھی ان کے ساتھ قید ہو کر آئیں تھیں اس وقت سیدنا عثمان غنیؓ کا دورِ خلافت تھا۔

آپؓ نے خراسانی بادشاہ کی یہ دونوں بیٹیاں کس کس کو دیں اسے شیعہ عبداللہ مامقانی (1300ھ) لکھتا ہے:

سہل بن قاسم البوشنجانی کہتے ہیں کہ مجھے حضرت علی رضا نے خراسان کے علاقہ میں بتلایا کہ ہمارے اور تمہارے نسبی رشتہ ہے میں نے عرض کیا کہ وہ کیسے؟ تو حضرت علی رضا نے کہا کہ جب عبداللہ بن عامر نے (جو سیدنا عثمانؓ کی فوج کے کمانڈران چیف تھے) جب خراسان فتح کیا تو عجمیوں کے بادشاہ یزدجر بن شہریار کی دو لڑکیاں اس کو ہاتھ لگیں۔

اس نے دونوں کو سیدنا عثمانؓ کی خدمت میں بھیج دیا پھر سیدنا عثمانؓ نے ایک لڑکی سیدنا حسن بن علیؓ کو دی اور ایک سیدنا حسینؓ کو دی یہ دونوں لڑکیاں حضرت حسنؓ و حسینؓ کے ہاں صاحبِ اولاد ہوئیں اور جو لڑ کی سیدنا حسینؓ کی اہلیہ تھیں ان سے حضرت علی بن حسین پیدا ہوئے۔ 

(تنقیح المقال فی علم الرجال: جلد 3 صفحہ 80)

شیعہ کی بعض روایات میں اسے سیدنا عمر فاروقؓ کا دورِ خلافت بتلایا گیا ہے۔ ہم اس وقت اس بحث میں نہیں جاتے کہ شیعہ کی کون سی بات درست ہے اور کون سی نہیں۔

 شیعہ محمد بن محمد نعمان (413ھ) نے سیدنا حسینؓ کی اولاد میں جعفر بن حسین بھی بتلایا ہے اور یہ سیدنا حسینؓ کی حیات میں فوت ہو گئے تھے ان کی والدہ قضاعیہ تھیں۔ (الارشاد: صفحہ 338)