عید غدیر کی ایجاد
حافظ صلاح الدین یوسفشیعی رسومات کی تاریخ ایجاد و آغاز
لعنت کا آغاز:
’’351ھ میں معزالدولہ(احمد بن بُویہ دیلمی)نے جامع مسجد بغداد کے دروازے پر نعوذباللہ "نقل کفر کفر نہ باشد" یہ عبارت لکھوا دی۔
لعن اللّٰه معاویۃ بن ابی سفیان ومن غصب فاطمۃ فدکا ومن منع من دفن الحسن عند جدہ ومن نفی ابا ذر ومن خرج العباس عن الشوری
عید غدیر کی ایجاد: معزالدولہ نے 18 ذوالحجہ 351ھ کو بغداد میں عید منانے کا حکم دیا اور اس عید کا نام ''عید خم غدیر'' رکھا، خوب ڈھول بجائے گئے اور خوشیاں منائی گئیں۔ اسی تاریخ کو یعنی 18 ذوالحجہ 35ھ کو حضرت عثمان غنیؓ چونکہ شہید ہوئے تھے لہٰذا اس روز شیعوں کے لیے ''خم غدیر'' کی عید منانے کا دن تجویز کیا گیا۔ احمد بن بویہ دیلمی یعنی معزالدولہ کی اس ایجاد کو جو 351ھ میں ہوئی، شیعوں نے یہاں تک رواج دیا کہ آج کل کے شیعوں کا یہ عقیدہ ہے کہ عید غدیر کا مرتبہ عیدالاضحیٰ سے زیادہ بلند ہے۔
کتاب کا نام: رسومات محرم الحرام اور سانحہ کربلا
مصنف: حافظ صلاح الدین یوسف