زہد - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

زہد

  علی محمد الصلابی

صفحہ 2 از 2

ایک مرتبہ سیدنا عمرؓ خانہ کعبہ کا طواف کر رہے تھے اور آپؓ کی لنگی میں بارہ 12 پیوند لگے تھے، ان میں ایک سرخ رنگ کے چمڑے کا تھا۔ 

(الطبقات الکبریٰ: جلد 3 صفحہ 328 اس کی سند صحیح ہے۔)

ایک مرتبہ جمعہ کے موقع پر آپؓ گھر سے دیر سے نکلے اور اپنی تاخیر کا عذر بیان کرتے ہوئے کہا: میں اپنے یہ کپڑے دھو رہا تھا اور میرے پاس اس کے علاوہ دوسرے کپڑے نہ تھے۔

(محض الصواب فی فضائل الأمیر المومنین الخطاب: جلد 2 صفحہ 566)

عبد اللہ بن عامر بن ربیعہؓ سے روایت ہے کہ ایک مرتبہ حج کے دوران مدینہ سے مکہ تک میں حضرت عمر بن خطابؓ کے ساتھ رہا، ہم حج سے واپس بھی آ گئے، لیکن راستے میں آپؓ کے لیے کہیں کوئی شامیانہ یا خیمہ نہیں لگایا گیا، بلکہ چادر اور چٹائی وغیرہ درخت پر ڈال دیتے اور آپؓ اس کے نیچے بیٹھ کر سایہ حاصل کر لیتے۔ 

(الطبقات، ابن سعد: جلد 3 صفحہ 279 اس کی سند صحیح ہے۔)

یہ ہیں امیر المؤمنین سیّدنا عمرفاروق رضی اللہ عنہ جو مشرق سے مغرب تک اپنی رعایا پر حکومت کرتے ہیں اور زمین پر ایک عام آدمی کی طرح بیٹھتے ہیں۔

ایک مرتبہ امّ المؤمنین سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا آپؓ کے پاس آئیں، دیکھا کہ آپؓ تنگی اور دنیا سے بے تعلقی کی زندگی گزار رہے ہیں، جس کی علامتیں آپؓ کے جسم پر ظاہر ہیں، تو کہا: اللہ تعالیٰ نے بڑے احسانات کیے ہیں اور روزی آپ کے لیے کشادہ کر دی ہے، اگر آپؓ عمدہ کھانا اور نرم کپڑا پہنتے تو کتنا اچھا ہوتا۔ آپؓ نے فرمایا: معاملہ تمہارے سپرد کرتا ہوں تم خود فیصلہ کر لو، پھر آپؓ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تنگ گزر بسر کا حوالہ دیا اور برابر رسول اللہﷺ کے نامساعد حالات اور آپؓ کے ساتھ سیدہ حفصہ رضی اللہ عنہا کی تنگ دستی کا ذکر کرتے رہے، یہاں تک کہ ان کو رلا دیا، پھر فرمایا: میرے دو ساتھی تھے، وہ ایک ہی راستہ پر چلے، اگر میں بھی ان ہی کی طرح تنگ دستی کی زندگی گزار لوں تو شاید فارغ البالی اور کشادہ دستی کے وقت ان دونوں کے ساتھ رہ سکوں۔ 

(الزہد: لإمام أحمد: صفحہ 125، الطبقات: جلد 3 صفحہ 277)

دنیا آپؓ کی نگاہوں کے سامنے اور قدموں کے نیچے آ چکی تھی۔ آپؓ کے عہدِ خلافت میں اس کی بیشتر سلطنتیں فتح ہو چکی تھیں اور دُنیا ذلیل وخوار ہو کر آپؓ کے قدموں پر گر رہی تھی۔ لیکن کبھی آپؓ نے اس کی طرف نگاہ اٹھا کر دیکھا بھی نہیں اور نہ کبھی دل میں اس کی خواہش پیدا ہوئی۔ بلکہ دین الہٰی کو قوت دینے اور مشرکوں کی شان و شوکت توڑنے میں ہی آپؓ نے پوری بھلائی اور سعادت سمجھی، گویا آپؓ کی شخصیت میں زہد و تقویٰ ایک نمایاں صفت تھی۔ 

(الفاروق أمیر المؤمنین: دیکھئے لماضۃ: صفحہ 11)

حضرت سعد بن ابی وقاص رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں: اللہ کی قسم! حضرت عمر بن خطابؓ رضی اللہ عنہ ہم سے ہجرت میں مقدم نہ تھے، میں جانتا ہوں کہ آپؓ کس چیز میں ہم سے افضل تھے، آپؓ ہمارے مقابلہ میں سب سے زیادہ زاہد اور دنیا سے بے زار شخص تھے۔ 

(مصنف ابن ابی شیبۃ: أخرجہ ابن ابی شیبۃ: جلد 8 صفحہ 149 اس کی سند جید ہے۔ ابن عساکر: جلد 52 صفحہ 244)


صفحہ 2 از 2