Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا زہد و صبر

  علی محمد الصلابی

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی والدہ کی زندگی بڑی ہی سادہ تھی، اس میں خوشحالی کے بجائے تنگ دستی نمایاں تھی،

(معین السیرۃ للشامی: صفحہ 255)

آنے والا واقعہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کی پریشانی اور ان کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے طرز عمل کی تصویر کشی کرتا ہے جب آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے انھوں نے لونڈیوں میں سے ایک لونڈی کو طلب کیا تھا۔

ایک دن سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا سے کہا: اللہ کی قسم پانی مہیا کرتے کرتے میرا سینہ درد کرنے لگا ہے، فرمایا: اور اللہ نے آپﷺ کے والد کے پاس لونڈیاں فراہم کر دی ہیں، جاؤ اور آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے خادمہ کا مطالبہ کرو، وہ کہتی ہیں، چکی پیستے پیستے میرے ہاتھوں میں گٹے پڑ گئے ہیں۔ چنانچہ میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس آئی، آپﷺ نے فرمایا: اے میری لاڈلی بچی کس لیے آئی ہو؟ انھوں نے کہا: میں آپﷺ سے سلام کرنے آئی ہوں، اور شرم کے مارے مطالبہ نہیں کیا، لوٹ گئیں، سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے کہا: تم نے کیا کیا؟ انھوں نے کہا: مارے شرم کے میں مطالبہ نہ کرسکی، چنانچہ ہم دونوں آئے، سیدنا علیؓ نے کہا: اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اللہ کی قسم پانی مہیا کرتے کرتے میرا سینہ درد کرنے لگا ہے، سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا نے کہا: چکی پیستے پیستے میرے ہاتھوں میں گٹے پڑ گئے ہیں، اللہ تعالیٰ نے آپﷺ تک غلام اور لونڈیوں کو پہنچایا ہے اور فراخی عطا کی ہے، اس لیے آپﷺ ہمیں ایک خادمہ دے دیں، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اصحاب صفہ کو بھوکا چھوڑ کر میں تمھیں خادمہ نہیں دے سکتا، میرے پاس ان کے لیے اخراجات نہیں ہیں، میں انھیں بیچوں گا اور ان کی قیمت ان پر خرچ کروں گا، دونوں لوٹ آئے، پھر ان دونوں کے پاس نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف لائے، دونوں اپنی چادر میں تھے، جب سر ڈھانپتے تو پاؤں کھل جاتے، پاؤں ڈھانپتے تو سر کھل جاتا، آپ کی تشریف آوری کے باعث تیزی سے نکل جانے کے لیے کھڑے ہوئے، آپﷺ نے فرمایا: ٹھہرو، پھر فرمایا: کیا میں تمھیں اس سے اچھی چیز نہ بتلا دوں جس کا تم نے مطالبہ کیا ہے، دونوں نے کہا: ضرور بتلائیے آپﷺ نے فرمایا: چند کلمات ہیں جنھیں جبریل علیہ السلام نے مجھے سکھلایا، تم دونوں ہر نماز کے بعد دس مرتبہ سبحان اللّٰہ ، دس مرتبہ الحمد للّٰہ، دس مرتبہ اللّٰہ اکبر کہو، اور جب اپنے بستر پر لیٹو تو تینتیس مرتبہ سبحان اللّٰہ، تینتیس مرتبہ الحمد للّٰہ، چونتیس مرتبہ اللّٰہ اکبر کہو۔

(صحیح البخاری: رقم: 3705، صحیح مسلم: رقم: 2727۔ السیرۃ النبویۃ لصلابی: جلد 2 صفحہ 99)

اس واقعے میں اخلاقی قدروں کا نمایا ں پہلو یہ ہے کہ یہ واقعہ بتلاتا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مدینہ میں اپنی حکومت کو لاحق اقتصادی مشکل کو کس طرح حل کیا، آپﷺ نے امور کی ترتیب اولویت کی بنیاد پر دی۔ اصحاب صفہ کی بھوک دور کرنا سخت ضروری تھا، سیدنا علی و فاطمہ رضی اللہ عنہما کے لیے خادمہ کی ضرورت اصحاب صفہ کی ضرورت جیسی نہیں تھی، بنا بریں آپﷺ نے اصحاب صفہ کو ترجیح دی، اقتصادی مشکلات کو حل کرنے کے لیے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس بہت سارے وسائل تھے۔ سیدنا علی رضی اللہ عنہ پر اس نبوی تربیت کا اچھا خاصا اثر تھا، ایک زمانہ گزرنے کے بعد آپ خلیفۃ المسلمین ہوگئے، چنانچہ اسی نبوی تربیت کا نتیجہ تھا کہ زمین کے تمام خزانے آپ کے ہاتھ میں تھے، پھر بھی سیدنا علیؓ کو دنیا اور اس کی چمک دمک سے کوئی رغبت نہیں تھی، وجہ یہ تھی کہ سیدنا علیؓ کا دل و دماغ ذکر الہٰی سے معمور تھا۔ آپ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی مذکورہ تعلیم پر برابر عمل کیا، اس کے بارے میں بتاتے ہوئے کہتے ہیں:

’’اللہ کی قسم میں نے ان کلمات کو اس وقت سے ترک نہیں کیا جب سے آپﷺ نے مجھے سکھایا، سیدنا علیؓ کے ساتھیوں میں سے ایک نے پوچھا: صفین کی رات بھی ترک نہیں کیا، سیدنا علیؓ نے فرمایا: صفین کی رات بھی نہیں۔‘‘

(صحیح مسلم: جلد 4 صفحہ 2092)