Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے اہم اوصاف اور آپ کی اجتماعی زندگی

  علی محمد الصلابی

اولاً: آپ کے اہم اوصاف

سیدنا حسن بن علی بن ابوطالب رضی اللہ عنہما کی شخصیت قائدانہ صلاحیت کی مالک تھی۔ آپ ربانی قائد کی صفات سے متصف تھے۔ ان اہم اوصاف میں سے بعض درج ذیل ہیں:

’’اللہ اور یوم آخرت پر پختہ ایمان، شرعی علم، اللہ پر بھروسا، دوسروں کے لیے نمونہ، سچائی، لیاقت و صلاحیت، بہادری، انسانیت، زہد، قربانی کا جذبہ، تواضع، نصیحت قبول کرنا، بردباری، صبر، بلند ہمتی، دور اندیشی، مضبوط نظم و نسق، عدل، مشکلات کے حل کی قدرت وغیرہ۔‘‘

اللہ کی عطا کردہ ربانی قیادت کی صلاحیتوں کے باعث راستے کی رکاوٹوں کو دور کرنے اور تنفیذ کی صلاحیت رکھنے کے باوجود آپ نے اپنا مصالحانہ منصوبہ پیش کیا، آپ کی انفرادی کوششیں امت کے اتحاد پر منتج ہوئیں، جن اہم صفات پر ہم روشنی ڈالیں گے وہ یہ ہیں:

1۔ علم

سیدنا حسن رضی اللہ عنہ نبوی گھرانے میں پلے بڑھے، چنانچہ بچپن میں سیدنا حسنؓ نے اپنے نانا صلی اللہ علیہ وسلم اور والدہ سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہا کا اثر قبول کیا، اپنے والد سے بہت سارا علم حاصل کیا، امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ لوگوں کو کتاب اللہ کی تعلیم دیتے تھے، ان میں سیدنا علیؓ کے بچے اور آپؓ کے بچوں میں امیر المؤمنین حسن و حسین رضی اللہ عنہما شامل تھے، چنانچہ ان لوگوں نے سیدنا علیؓ سے شرعی حکم بتانے کا منہج اور استنباط کا طریقہ سیکھا، جس کی خصوصیات یہ تھیں: ظاہر قرآن کا التزام، مطلق کو مقید پر محمول کرنا، مجمل کو مفسر پر محمول کرنا، ناسخ و منسوخ کا علم، لغتِ عرب پر عبور، ایک نص کو دوسرے نص کی مدد سے سمجھنا، مشکل چیز کے بارے میں استفسار، آیات کی مناسبت کا علم، عام کو خاص کرنا، عربوں کی عادات و حالات سے واقفیت، قوتِ فہم و وسعتِ ادراک وغیرہ۔ اسوۂ نبویﷺ کے ساتھ ساتھ قرآن مجید سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اور ان کے ہم عصروں کے لیے تربیتی منہج رہا، چنانچہ اپنے والد امیر المؤمنین علی رضی اللہ عنہ سے سنی ہوئی قرآنی آیات کا سیدنا حسنؓ کے علم اور آپ کی شخصیت سازی میں کافی اثر رہا، آپ کا دل پاک اور نفس صاف و ستھرا تھا اور آپ کی روح ان سے ہم آہنگ رہی۔ اس لیے سیدنا حسنؓ نے عالمِ وجود کی عظیم حقیقتوں کا ادراک کرلیا۔

سیدنا حسنؓ نے اپنے استاد عبداللہ بن حبیب بن ربیعہ اور ابو عبد الرحمٰن سلمی کے پاس قرآن حفظ کیا، جو کوفہ کے قاری تھے، اور ان کے والد صحابی تھے، انھوں نے علی، عبداللہ بن مسعود اور عثمان بن عفان رضی اللہ عنہم سے حدیثوں کو روایت کیا ہے، انھی سے عاصم، عطاء، حسن اور حسین نے علم قرأت حاصل کیا، یہ صبح و شام دس دس آیتیں پڑھاتے تھے، آپ فقیہ تھے، عبدالملک بن مروان کے زمانۂ خلافت میں آپ کی وفات ہوئی، آپ ثقہ اور کثیرالحدیث تھے۔‘‘

(تہذیب التہذیب: جلد 5 صفحہ 183، 184، الطبقات: جلد 2 صفحہ 173)

عبداللہ بن مبارکؒ، عطاء بن سائبؒ سے روایت کرتے ہوئے کہتے ہیں: ہم ابوعبدالرحمٰن سلمی کے پاس گئے، آپ جاں کنی کی حالت میں تھے، ہم نے ان سے کہا: آپ بستر پر چلے جائیں، وہ زیادہ نرم ہوگا۔ انھوں نے کہا: مجھ سے فلاں شخص نے بیان کیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایاہے:

لَا یَزَالُ أَحَدُکُمْ فِیْ صَلَاۃٍ مَا دَامَ فِیْ مُصَلَّاہُ یَنْتَظِرُ الصَّلَاۃَ۔

(کتاب الزہد: رقم: 420 صفحہ 141، 142)

’’جو بھی مصلیٰ پر بیٹھے نماز کا انتظار کرتا رہتا ہے وہ نماز کے حکم میں ہوتا ہے۔‘‘

ابن سعدؒ کی روایت میں ہے:

اَلْمَلَائِکَۃُ تَقُوْلُ: أللّٰہُمَّ اغْفِرْلَہٗ أللّٰہُمَّ ارْحَمْہُ۔

’’فرشتے کہتے ہیں اے اللہ! اس کی مغفرت کردے، اے اللہ! اس پر رحم فرما۔‘‘

ابوعبدالرحمٰن سلمی نے کہا: میں چاہتا ہوں کہ میں ایسی حالت میں وفات پاؤں کہ میں اپنی مسجد میں رہوں۔

(الطبقات الکبریٰ: جلد 6 صفحہ 174، 175)

قرآن کریم کی تعلیم میں آپ کا طریقہ وہی تھا جو صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کا تھا، ابوعبدالرحمٰن سلمی سے مروی ہے: کہتے ہیں کہ عثمان بن عفان، عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہما وغیرہ جیسے لوگ جو ہمیں قرآن پڑھاتے تھے، انھوں نے ہم سے بیان کیا ہے کہ وہ لوگ جب نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دس آیتیں سیکھ لیتے تو ان میں موجود علم و عمل کو جب تک حاصل نہ کرلیتے آگے نہ بڑھتے تھے، چنانچہ وہ کہتے تھے کہ ہم نے قرآن، علم اور عمل سب ایک ساتھ سیکھا، اسی لیے ایک سورت کے یاد کرنے میں ان کا لمبا وقت لگ جاتا تھا۔

(الفتاویٰ: جلد 13، 177)

اسی طرح سیدنا عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کے مشہور ترین شاگرد ابوعبدالرحمٰن سلمی قرآن کریم کے سلسلے میں سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کے استاد مانے جاتے ہیں۔

(تیسیر الکریم المنان فی سیرۃ عثمان بن عفان: صفحہ 25)

سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا بھی قرآن کے حفظ و فہم اور اس پر عمل سے متعلق یہی طریقہ رہا۔