Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

ام سلیط زیادہ حق دار ہیں

  علی محمد الصلابی

ثعلبہ بن ابی مالک سے روایت ہے کہ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے مدینہ کی خواتین میں چادریں تقسیم کیں، ایک بہت اچھی چادر بچ گئی، آپؓ کے پاس جو لوگ بیٹھے ہوئے تھے ان میں سے کسی نے کہا: اے امیر المؤمنین! بہتر ہے کہ آپؓ اسے نواسیٔ رسولﷺ یعنی اپنی بیوی ام کلثوم بنت علیؓ کو دے دیں سیدنا عمرؓ نے فرمایا: ام سلیط اس کی زیادہ حق دار ہیں، وہ ان انصاری خواتین میں سے ہیں جنہوں نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم سے بیعت کی تھی اور ان کو یہ مرتبہ حاصل ہے کہ وہ غزوۂ احد کے موقع پر ہمارے لیے پانی کے مشکیزے پیش کرتی تھیں۔ 

(البخاری: 4071، فتح الباری: جلد 7 صفحہ 424، جلد 6 صفحہ 93، الخلافۃ الراشدۃ: صفحہ 273)

تم اپنے باپ کو دھوکا دیتي ہو اور قرابت داروں کی خیر خواہ بنتی ہو:

سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے پاس کہیں سے زیادہ مال آیا، ام المؤمنین حفصہ رضی اللہ عنہا کو اس کی خبر ملی تو کہا: اے امیر المؤمنین! اس مال میں آپ کے رشتہ داروں کا بھی حق ہے، اللہ تعالیٰ نے اس مال سے رشتہ داروں کو بھی دینے کا حکم دیا ہے سیدنا عمرؓ نے فرمایا: اے میری بیٹی، میرے رشتہ داروں کا حق میرے مال میں ہے، اور یہ مال مسلمانوں کا ہے، تم اپنے باپ کو دھوکا دیتی ہو اور رشتہ داروں کی خیر خواہ بنتی ہو، جاؤ چلی جاؤ۔ 

(الزہد: إمام أحمد بن حنبل: صفحہ 17 فرائد الکلام: صفحہ 139)