سیدنا علی رضی اللہ عنہ سے منقول چند آیات کی تفسیریں
علی محمد محمد الصلابی1) الذاریات (1-3):
امام ثوری حبیب بن ابی صامت سے اور وہ ابوطفیل سے روایت کرتے ہیں کہ میں نے ابن الکواء کو حضرت علیؓ سے پوچھتے ہوئے سنا کہ اللہ کے ارشاد: وَالذٰارِيٰتِ ذَرْوًا سے کیا مراد ہے؟ آپ نے فرمایا: ہوائیں۔ پھر فَالْحٰمِلٰتِ وِقْرًا 2 کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: کشتیاں اور فَالْجٰرِيٰتِ يُسْرًا 3 کے بارے میں پوچھا تو فرمایا: اس سے فرشتے مراد ہیں۔
(الخلافۃ الراشدۃ: یحییٰ الیحیی: صفحہ 486)
امام حاکم رحمۃاللہ علیہ نے ایک دوسری سند ذکر کرکے ابوالطفیل سے اس روایت کی تصحیح کی ہے۔ نیز امام طبری رحمۃاللہ علیہ نے حضرت علیؓ تک پہنچنے والی اس روایت کی تمام اسناد کو تفصیل سے ذکر کیا ہے۔
(الدر المنثور: جلد 7 صفحہ 14، المستدرک: جلد 2 صفحہ 467، تفسیر طبری: جلد 26 صفحہ 185۔188)۔
جب کہ امام عبدالرزاق نے ایک دوسری سند کے حوالہ سے یہ واقعہ اس طرح لکھا ہے کہ میں حضرت علیؓ کے پاس آیا، آپؓ خطبہ دے رہے تھے، اور فرما رہے تھے، مجھ سے پوچھ لو، قرآن کے بارے میں مجھ سے پوچھ لو، یقیناً میں تمام قرآنی آیات کے بارے میں جانتا ہوں کہ کون سی آیت رات میں نازل ہوئی اور کون سی دن میں، کون سی پہاڑ پر نازل ہوئی اور کون سی عام جگہ پر۔ چانچہ ابن الکواء نے پوچھا اور میں ان دونوں کے درمیان تھا، انھوں نے پوچھا کہ وَالذّٰرِيٰتِ ذَرْوًا ﴿١﴾ سے کیا مراد ہے؟ پھر مذکورہ روایت کی ساری باتیں ہوئی اور اس روایت میں ہے کہ ابن الکواء کے سوالوں کے جواب دیتے ہوئے یہ بھی کہا: تمھارا ستیاناس ہو، علم حاصل کرنے کے لیے پوچھو، کریدو اور امتحان کی غرض نہ پوچھو۔
(الخلافۃ الراشدۃ: الیحیی: صفحہ 486)
2: فرمان الہٰی: فَلَا أُقْسِمُ بِالْخُنَّسِ (سورۃ التکویر آیت 15)
’’پس نہیں، میں قسم کھاتا ہوں ان (ستاروں) کی جو پیچھے ہٹنے والے ہیں !‘‘
سعید بن منصور نے بسند حسن علی رضی اللہ عنہما سے روایت کیا ہے کہ آپ نے فرمایا: اس سے وہ ستارے مراد ہیں، جو رات میں چھپ جاتے ہیں اور دن میں پیچھے ہٹ جاتے ہیں، پھر نظر نہیں آتے۔
(الخلافۃ الراشدۃ: الحیی: صفحہ 487 الفتح: جلد 8 صفحہ 563)۔
3) بندۂ صالح کی وفات پر زمین کا رونا:
سیدنا علیؓ کا ارشاد ہے کہ جب کوئی نیک بندہ مر جاتا ہے تو اس کی سجدہ گاہ اور زمین و آسمان میں اس کے عمل اٹھائے جانے کی جگہیں اس کے لیے روتی ہیں۔ پھر آپ نے یہ آیت کریمہ تلاوت فرمائی:
فَمَا بَكَتۡ عَلَيۡهِمُ السَّمَآءُ وَالۡاَرۡضُ وَمَا كَانُوۡا مُنۡظَرِيۡنَ۞ (سورۃ الدخان آیت 29)
ترجمہ: پھر نہ ان پر آسمان رویا نہ زمین، اور نہ ان کو کچھ مہلت دی گئی۔
4) قلبی خشوع اور مسلمانوں کے لیے دل میں نرم گوشہ رکھنا:
سیدنا علیؓ سے پوچھا گیا کہ اللہ کے اس فرمان کی کیا تفسیر ہے:
الَّذِيۡنَ هُمۡ فِىۡ صَلَاتِهِمۡ خَاشِعُوۡنَ۞ (سورۃ المؤمنون آیت 2)
ترجمہ: جو اپنی نماز میں دل سے جھکنے والے ہیں۔
آپ نے فرمایا: خشوع دل میں ہوتا ہے، تم اپنے دل میں مسلمان بھائی کے لیے نرم گوشہ رکھو اور نماز میں ادھر ادھر متوجہ نہ ہو۔
(الزہد: ابن المبارک: صفحہ 403، اثر نمبر 1148)۔
5) دو مومن جگری دوست، دو کافر جگری دوست:
امیر المؤمنین سیدنا علیؓ سے دریافت کیا گیا کہ اس فرمان الہٰی کی کیا تفسیر ہے:
اَلۡاَخِلَّاۤءُ يَوۡمَئِذٍ بَعۡضُهُمۡ لِبَعۡضٍ عَدُوٌّ اِلَّا الۡمُتَّقِيۡنَ۞ (سورۃ الزخرف آیت 67)
ترجمہ: اس دن تمام دوست ایک دوسرے کے دشمن ہوں گے، سوائے متقی لوگوں کے۔
حضرت علیؓ نے فرمایا: دو مومن گہرے دوست ہیں اور دو کافر گہرے دوست، جب دو مومن دوستوں میں سے ایک فوت ہو جاتا ہے تو اسے جنت کی بشارت دی جاتی ہے، اس وقت وہ اپنے جگری مومن دوست کو یاد کرتا ہے اور کہتا ہے: اے میرے رب! فلاں میرا گہرا دوست تھا، مجھے بھلائی کا حکم دیتا اور برائی سے روکتا تھا، مجھے تیری اور تیرے رسول کی اطاعت پر ابھارتا تھا اور مجھے بتاتا تھا کہ میں ایک دن آپ سے ملوں گا۔ لہٰذا اے پروردگار اب میری وفات کے بعد اسے گمراہ نہ کرنا اور میری طرح اسے بھی ہدایت دینا اور جیسے تو نے مجھے اعزاز سے نوازا ہے، اسے بھی نوازنا، چنانچہ جب وہ مرے گا تو اللہ تعالیٰ دونوں کو جنت میں اکٹھا کرے گا، اور دونوں سے کہا جائے گا، تم دونوں ایک دوسرے کے بارے میں کیا کہتے ہو۔ پھر پہلے فوت ہونے والا دوست کہے گا: اے اللہ میرا دوست مجھے خیر کا حکم دیتا تھا، برائیوں سے روکتا تھا، اس نے مجھے آپ کی اور آپ کے رسول کی اطاعت پر ابھارا، اور مجھے بتایا کہ میں آپ سے ملاقات کرنے والا ہوں، میرا دوست بہت اچھا، جگری اور بہترین دوست ہے اور جب دو کافر دوستوں میں سے ایک مرتا ہے تو اسے جہنم کا انجام سنایا جاتا ہے، وہ اس وقت اپنے دوست کو یاد کرتاہے اور کہتا ہے: اے اللہ فلاں! میرا جگری دوست تھا، وہ مجھے برائی کا حکم دیتا تھا، بھلائیوں سے روکتا تھا، آپ اور آپ کے رسول کی نافرمانی پر ابھارتا تھا اور مجھے بتاتا تھا کہ آپ سے ملنے کا عقیدہ باطل ہے، لہٰذا جس طرح اس نے مجھے گمراہ کیا تو اسے گمراہ کر۔دے، چنانچہ جب اس کا ساتھی مرے گا تو دونوں جہنم میں اکٹھے کیے جائیں گے اور کہا جائے گا، تم دونوں ایک دوسرے کے بارے میں کیا کہتے ہو، پھر پہلے مرنے والا کہے گا: اے اللہ یہ مجھے برائی کا حکم دیتا تھا، بھلائیوں سے روکتا تھا، اسی نے آپ اور آپ کے رسول کی نافرمانی پر مجھے ابھارا اور کہا کہ آپ سے ملنے کا عقیدہ غلط و باطل ہے، میرا دوست بہت برا اور غدار دوست ہے۔
(الزہد: ابن المبارک: صفحہ 368)
6) زہد قرآن کے دو کلمات کے درمیان ہے:
سیدنا علیؓ نے فرمایا: زہد، قرآن کریم کے دو کلمات کے درمیان پوشیدہ ہے، پھر آپ نے یہ آیت تلاوت فرمائی:
لِّـكَيۡلَا تَاۡسَوۡا عَلٰى مَا فَاتَكُمۡ وَلَا تَفۡرَحُوۡا بِمَاۤ اٰتٰٮكُمۡ۞ (سورۃ الحديد آیت 23)
ترجمہ: یہ اس لیے تاکہ جو چیز تم سے جاتی رہے، اس پر تم غم میں نہ پڑو، اور جو چیز اللہ تمہیں عطا فرمادے، اس پر تم اتراؤ نہیں۔
آپ نے فرمایا: جو ماضی پر رنجیدہ نہ ہوا، اور مستقبل پر فخر نہ کیا، یقیناً اس نے زہد دونوں ہاتھوں سے بٹور لیا۔
(رسالۃ المسترشدین: صفحہ 224، فرائد الکلام: صفحہ 376)۔
7) حالتِ نماز میں قرآنی آیات میں تدبر و انہماک:
امیر المؤمنین علیؓ نے صراحتاً فرمایا کہ نمازی کے لیے مستحب ہے کہ جب وہ رحمتِ الہٰی والی آیات سے گزرے تو اللہ سے اس کی رحمتوں کا سوال کرے اور جب عذاب والی آیات سے گزرے تو اس سے اللہ کی پناہ کا طالب ہو۔ چنانچہ عبد خیر الہمدانی سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علیؓ کو نماز میں یہ آیت پڑھتے ہوئے سنا: سَبِّحِ اسْمَ رَبِّكَ الْأَعْلَى ﴿١﴾ اس کے جواب میں آپ نے کہا: ((سُبْحَانَ رَبِّیَ الْاَعْلیٰ))
(المحلی: جلد 4 صفحہ 188 السنن الصغریٰ: جلد 1 صفحہ 146)۔
حجر بن قیس المدری سے روایت ہے کہ میں نے حضرت علیؓ کے پاس رات گزاری، آپ تہجد کی نماز میں قرآن کی تلاوت کرتے ہوئے جب اس آیت پر پہنچے:
اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا تُمۡنُوۡنَ۞ءَاَنۡتُمۡ تَخۡلُقُوۡنَهٗۤ اَمۡ نَحۡنُ الۡخٰلِقُوۡنَ۞ (سورۃ الواقعة آیت 58، 59)
ترجمہ: ذرا یہ بتلاؤ کہ جو نطفہ تم ٹپکاتے ہو۔کیا اسے تم پیدا کرتے ہو یا پیدا کرنے والے ہم ہیں؟
تو آپ ٹھہر گئے اور تین مرتبہ کہا: نہیں بلکہ اے میرے رب تو ہی یہ کرتا ہے، پھر آپ اگلی آیات کی تلاوت کی:
اَفَرَءَيۡتُمۡ مَّا تَحۡرُثُوۡنَ۞ءَاَنۡتُمۡ تَزۡرَعُوۡنَهٗۤ اَمۡ نَحۡنُ الزّٰرِعُوۡنَ۞(سورۃ الواقعة آیت 63، 64)
ترجمہ: اچھا یہ بتاؤ کہ جو کچھ تم زمین میں بوتے ہو، کیا اسے تم اگاتے ہو یا اگانے والے ہم ہیں؟
آپ ٹھہر گئے اور کہنے لگے: نہیں، بلکہ اے میرے رب تو ہی یہ کرتاہے، پھر اگلی آیات کی تلاوت شروع کیا:
اَفَرَءَيۡتُمُ الۡمَآءَ الَّذِىۡ تَشۡرَبُوۡنَ۞ ءَاَنۡـتُمۡ اَنۡزَلۡـتُمُوۡهُ مِنَ الۡمُزۡنِ اَمۡ نَحۡنُ الۡمُنۡزِلُوۡنَ۞ (سورۃ الواقعة آیت 68، 69)
ترجمہ: اچھا یہ بتاؤ کہ یہ پانی جو تم پیتے ہو۔ کیا اسے بادلوں سے تم نے اتارا ہے، یا اتارنے والے ہم ہیں ؟
حضرت علیؓ پھر ٹھہر گئے اور کہنے لگے: نہیں، بلکہ میرے رب! تو ہی یہ سب کرتا ہے۔ پھر آپ نے اگلی آیات کی تلاوت شروع کی:
اَفَرَءَيۡتُمُ النَّارَ الَّتِىۡ تُوۡرُوۡنَ۞ ءَاَنۡتُمۡ اَنۡشَاۡتُمۡ شَجَرَتَهَاۤ اَمۡ نَحۡنُ الۡمُنۡشِئُـوۡنَ۞ (سورۃ الواقعة آیت 72)
ترجمہ: اچھا یہ بتاؤ کہ یہ آگ جو تم سلگاتے ہو۔ کیا اس کا درخت تم نے پیدا کیا ہے، یا پیدا کرنے والے ہم ہیں؟
حضرت علیؓ یہاں بھی ٹھہرے اور کہنے لگے: نہیں، بلکہ اے میرے رب تو ہی یہ سب کرتا ہے۔‘‘
(الدر المنثور: السیوطی: جلد 8 صفحہ 22، 23)
8) فرمان الہٰی:
يَوۡمَ لَا يَنۡفَعُ مَالٌ وَّلَا بَنُوۡنَ۞ اِلَّا مَنۡ اَتَى اللّٰهَ بِقَلۡبٍ سَلِيۡمٍ۞(سورۃ الشعراء آیت 88، 89)
ترجمہ: جس دن نہ کوئی مال کام آئے گا، نہ اولاد۔ ہاں جو شخص اللہ کے پاس سلامتی والا دل لے کر آئے گا (اس کو نجات ملے گی)
مذکورہ آیت کی تفسیر میں سیدنا علیؓ نے فرمایا: مال اور اولاد دنیا کی کھیتی ہیں اور نیک اعمال آخرت کی کھیتی ہیں، اللہ تعالیٰ کبھی کبھی کچچ لوگوں کو دونوں کھیتیاں عطا کر دیتا ہے۔
(تفسیر أمیر المومنین علی بن أبی طالب: فہد بن عبدالعزیز الفاضل: جلد 32 صفحہ 661)۔