سیدنا حسن بن علی رضی اللہ عنہما کا موجودہ حالات اور اپنی قائدانہ صلاحیتوں کا صحیح جائزہ
علی محمد الصلابینفیر بن حضرمیؓ نے جب سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے کہا: لوگوں کا خیال ہے کہ آپ کو خلافت کی خواہش ہے تو سیدنا حسنؓ نے فرمایا: عرب کے لوگ میری مٹھی میں تھے، جن سے میں صلح کرتا ان سے وہ بھی صلح کرتے، جن سے میں جنگ کرتا ان سے وہ بھی جنگ کرتے لیکن میں نے اللہ کی رضا کی خاطر اسے چھوڑ دیا ہے۔
(البدایۃ والنہایۃ: جلد 11 صفحہ 206)
یہ سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی جانب سے اس بات کی شہادت ہے کہ وہ مضبوط حالت میں تھے، ان کے متبعین جنگ یا صلح جو آپ رضی اللہ عنہ چاہتے اس کے لیے تیار تھے، ساتھ ہی ساتھ سیدنا حسنؓ شعلہ بیانی، طلاقت لسانی، جذبۂ صادق، قوتِ تاثیر اور قرابتِ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مالک تھے، یہ چیزیں سیدنا حسنؓ کی قوت و طاقت میں اضافہ کر رہی تھیں، مذکورہ باتوں کی دلیل یہ ہے کہ سیدنا حسنؓ اپنے والد کا ساتھ دینے کے لیے اہل کوفہ کو آمادہ کرنے میں کامیاب رہے، ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ انھیں خروج، جنگ اور فتنے سے روک رہے تھے، فتنے میں ملوث ہونے سے متعلق رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی جو تحذیر وہ سن چکے تھے اسے لوگوں کو سنا رہے تھے۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 514 مصنف ابن أبی شیبۃ: جلد 15 صفحہ 12، اس کی سند حسن ہے۔)
سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے سیدنا حسن رضی اللہ عنہ سے پہلے محمد بن ابوبکر اور محمد بن جعفر کو بھیجا، دونوں اپنی مہم میں کامیاب نہیں ہوئے، اس کے بعد ہاشم بن عتبہ بن ابی وقاص کو بھیجا، لیکن وہ بھی ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کے ان پر اثر انداز ہونے کے باعث اپنی مہم میں ناکام رہے۔
(خلافۃ علی بن أبی طالب: عبدالحمید علی: صفحہ 144، سیر أعلام النبلاء: جلد 3 صفحہ 486)
ان کے بعد سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما کو بھیجا، ان کی دعوت پر بھی ٹال مٹول کر رہے تھے، ان کے بعد عمار بن یاسر اور سیدنا حسن رضی اللہ عنہما کو بھیجا۔
(علی بن أبی طالب للصلابی: جلد 2 صفحہ 60، فتح الباری: جلد 13 صفحہ 53)
سیدنا حسن رضی اللہ عنہ کی بہت واضح تاثیر تھی، لوگوں میں کھڑے ہو کر تقریر کرتے ہوئے آپ نے فرمایا: لوگو! اپنے امیر کی دعوت پر لبیک کہو، اپنے بھائیوں کی جانب چل پڑو، اس مقصد کے لیے کوچ کرنے والے مل جائیں گے، لیکن اللہ کی قسم اگر اس کام کو عقلمند لوگ انجام دیں، تو فوری طور پر اس کا اثر اچھا ہوگا اور انجام بہتر ہوگا، اس لیے ہماری دعوت پر لبیک کہو اور جس مصیبت میں ہم پھنسے ہیں اس میں ہماری مدد کرو۔
(تاریخ الطبری: جلد 5 صفحہ 516)
چنانچہ بہت سارے اہل کوفہ نے اس دعوت پر لبیک کہا اور عمار و حسن رضی اللہ عنہما کے ساتھ چھ سے سات ہزار تک سیدنا علی رضی اللہ عنہ کی جانب نکل پڑے۔
(مصنف عبدالرزاق: جلد 5 صفحہ 456، 457)
ہمیں یہ نہیں بھولنا چاہیے کہ ابوموسیٰ اشعری رضی اللہ عنہ کوفہ کے گورنر تھے، سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ کے زمانہ ہی سے وہ عراق کے محبوب قائدین میں سے تھے، علم و زہد میں آپ کا بڑا اونچا درجہ تھا، لوگوں کے نزدیک آپ کامقام و مرتبہ نہایت اعلیٰ تھا، ان سب چیزوں کے باوجود سیدنا حسن رضی اللہ عنہ اہل کوفہ کو اپنی جانب مائل کرنے میں کامیاب رہے اور وہ سب کے ساتھ نکل کھڑے ہوئے۔