سیدنا علی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کی معیشت
علی محمد محمد الصلابی4۔ سیدنا علی اور سیدہ فاطمہ رضی اللہ عنہما کی معیشت:
سیدنا علی اور فاطمہ رضی اللہ عنہما کافی زہد و تنگی کی زندگی گزارتے تھے، حالانکہ وہ رسول اللہﷺ کے نزدیک بڑے محبوب تھے، چنانچہ ہناد، عطاء سے روایت کرتے ہیں کہ مجھے بتایا گیا کہ سیدنا علیؓ کہا کرتے تھے: ہم نے کئی کئی روز فاقہ کشی کی ہے، ہمارے اور نبی کریمﷺ کے گھر میں کچھ نہ ہوتا تھا، ایک مرتبہ میں گھر سے باہر گیا، راستہ میں مجھے ایک دینار پڑا ہوا ملا، میں تھوڑی دیر وہاں تردد میں ٹھہرا رہا کہ اسے اٹھاؤں یا چھوڑ دوں، لیکن افلاس کی شدت تھی، اس لیے میں نے اسے لے لیا اور ان شتر بانوں کو دیا جو باہر سے غلہ لائے تھے، ان سے آٹا خرید لیا، پھر اسے لے کر فاطمہؓ کے پاس آیا اور ان سے کہا: اسے گوندھو اور روٹی پکاؤ، وہ آٹا گوندھنے لگیں، مگر فاقہ کی وجہ سے اتنی کمزور تھیں کہ آٹا گوندھنے میں ہاتھ بار بار برتن پر گر جاتا اور چوٹ لگتی، بہرحال کسی طرح انھو ں نے آٹا گوندھ کر روٹی پکائی اور میں رسول اللہﷺ کی خدمت میں آ کر آپ کو یہ واقعہ سنایا، آپﷺ نے فرمایا:
کُلُوہ فَاِنَّہُ رِزْقٌ رَزَقَکُمُوہُ اللّٰہُ عَزَّوَجَلَّ۔
(کنزالعمال: جلد 7 صفحہ 328، المرتضیٰ صفحہ 41)۔
’’اس کو کھا لو، اللہ نے تمھیں یہ رزق بہم پہنچایا ہے۔‘‘
شعبی سے روایت ہے کہ حضرت علیؓ نے فرمایا: میں نے فاطمہ بنت محمدﷺ سے نکاح کیا تو میرے یا ان کے پاس ایک مینڈھے کی کھال کے سوا کوئی بستر نہ تھا، اسی پر رات کو سوتے اور اسی میں دن کو اپنی پانی لانے والی اونٹنی کو چارہ دیتے اس کے علاوہ اور ہمارے یہاں کوئی خادم نہ تھا۔
(کنزل العمال: جلد 7 صفحہ 133، المرتضیٰ: صفحہ 41)۔
مجاہد سے روایت ہے کہ سیدنا علیؓ نے فرمایا: ایک مرتبہ مدینہ میں مجھے سخت بھوک لگی، میں کام کی تلاش میں عوالی مدینہ کی طرف گیا، وہاں مجھے ایک عورت ملی، جو کچھ خشک مٹی اکٹھا کیے ہوئے تھی، میں نے سوچا کہ شاید وہ اسے بھگونا چاہتی ہے، چنانچہ میں اس کے پاس آیا اور مزدوری طے کر لی کہ وہ مجھے ہر ڈول کے بدلے ایک کھجور اجرت دے گی۔ چنانچہ میں نے سولہ (16) ڈول پانی وہاں پہنچایا، جس سے میرے دونوں ہاتھوں میں چھالے پڑ گئے، پھر میں چشمہ پر آیا اور پانی پیا، پھر اس عورت کے پاس گیا، اجرت لینے کے لیے اس کے سامنے اس طرح ہاتھ بڑھایا، اس نے مجھے سولہ (16) کھجوریں عطا کیں، پھر میں رسول اللہﷺ کے پاس آیا اور واقعہ کی روداد سنائی، پھر آپﷺ نے بھی میرے ساتھ اس میں سے کھایا۔
(صفۃ الصفوۃ: جلد 1 صفحہ 320، مسند أحمد: الموسوعۃ الحدیثیۃ: حدیث نمبر 1153، اس کی سند ضعیف ہے کیو ں کہ اس میں انقطاع ہے۔)
• اس واقعہ میں اس تنگ دستی و افلاس کی تصویر کشی ہے جس سے سیدنا علیؓ مدینہ میں گزر رہے تھے، اس میں ہمارے لیے عبرت ہے کہ مشکلات و مصائب کے وقت بھی جائز راستہ ہی اختیار کرنا چاہیے، جیسا کہ حضرت علیؓ جائز کمائی کی خاطر اپنے دونوں ہاتھوں سے کام کرنے کے لیے گھر سے باہر گئے، حضرت علیؓ اس انتظار میں نہیں بیٹھے رہے کہ کوئی خیرات دینے والا آئے گا اور اس سے میرا کام چل جائے گا۔
• دوسری بات یہ کہ حضرت علیؓ نے متحمل مزاجی کا ثبوت دیا، بایں طور کہ آپؓ سخت بھوک سے دوچار ہیں، جس سے جسم لاغر ہوا جا رہا ہے، پھر بھی پُرمشقت کام کو خود ہی کرنے کے لیے تیار ہیں۔
• تیسری بات یہ کہ اپنے احباب و اقرباء کے لیے بڑے ایثار و قربانی اور وفاداری کا ثبوت دیا، چنانچہ باوجود اس کے آپؓ کو سخت بھوک لگی تھی اور اس پر مزید یہ کہ ایک پُرمشقت کام کیا تھا، پھر بھی حضرت علیؓ نے کھجور کی شکل میں اجرت پانے کے بعد اسے محفوظ رکھا اور لے کر رسول اللہﷺ کے پاس آئے اور آپ کے ساتھ اسے کھایا۔
(التاریخ الإسلامی: الحمیدی: جلد 19 صفحہ 49۔50)۔