Difa e Islam | الدفاع عن الإسلام | دفاع الإسلام

اے ابوعبیدہ تمہارے علاوہ ہم سب کو دنیا نے بدل دیا

  علی محمد الصلابی

جب سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ شام پہنچے تو سیدنا ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ سے کہا: مجھے اپنے گھر لے چلو، انہوں نے کہا: آپؓ میرے پاس کیا کریں گے؟ شاید سیدنا فاروق اعظم رضی اللہ عنہ بہت گہری نگاہ سے میرا جائزہ لینا چاہتے ہیں۔ چنانچہ سیدنا عمرؓ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے گھر میں داخل ہوئے، سیدنا عمرؓ کو کوئی قابل اعتراض چیز نظر نہ آئی۔ سیدنا عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ نے پوچھا: تم مسلمانوں کے امیر ہو اور تمہارے پاس ایک زین، پرانے مشکیزے اور چند برتنوں کے علاوہ کچھ دیکھ نہیں رہا ہوں، تمہارا اور سامان کہاں ہے؟ کیا تمہارا کھانا تیار ہے؟ حضرت ابوعبیدہؓ اٹھ کر ٹوکری کے پاس گئے اور روٹی کے چند ٹکڑے نکال لائے۔ سیدنا عمر فاروق رضی اللہ عنہ یہ دیکھ کر رونے لگے۔ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ نے کہا: میں نے پہلے ہی آپ سے کہہ دیا تھا کہ آپ بڑی گہری نگاہ سے میرے طرز رہائش کا جائزہ لینا چاہتے ہیں، امیرالمؤمنین! میرے متعلق آپؓ تک جو شکایات پہنچی ہیں بس وہی کافی ہیں۔ اس وقت سیدنا عمر فاروقؓ نے فرمایا: اے ابوعبیدہ! تمہارے علاوہ ہم سب کو دنیا نے بدل دیا ہے۔

(سیر أعلام النبلاء: جلد 1 صفحہ 17)

امام ذہبی رحمہ اللہ یہ واقعہ لکھنے کے بعد فرماتے ہیں: یہ ہے حقیقی زہد و تقویٰ کی مثال اور جو شخص فقر و ناداری کی وجہ سے اسراف سے بچا رہے اس میں زہد کا کیا مطلب؟(سیر أعلام النبلاء: جلد 1 صفحہ 17)

ہشام بن عروہ اپنے باپ سے روایت کرتے ہیں کہ جب عمر رضی اللہ عنہ شام آئے تو تمام امرائے لشکر اور بڑوں بزرگوں نے سیدنا ابوعبیدہؓ کا استقبال کیا، اس وقت سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے پوچھا کہ میرا بھائی کہاں ہے؟ لوگوں نے پوچھا: کون؟ سیدنا عمرؓ نے فرمایا: ابوعبیدہ بن جراح۔ لوگوں نے بتایا کہ وہ ابھی آپؓ کے پاس آرہے ہیں۔ اتنے میں حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ رسی سے نکیل زدہ اونٹنی پر سوار ہو کر آپہنچے۔ السلام علیکم کہا، سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے ان سے خیریت معلوم کی پھر لوگوں سے کہا: آپ لوگ جائیں اور سیدنا عمرؓ حضرت ابوعبیدہ رضی اللہ عنہ کے ساتھ چل کر ان کے گھر آئے، اندر گئے، گھر میں تلوار، ڈھال اور کجاوے کے علاوہ کچھ نہ ملا۔

(محض الصواب: جلد 2 صفحہ 689، 590۔ عروہ تک سند صحیح ہے۔)