سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 8 از 9

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے اپنے نہایت معتمد ساتھی سیدنا عمر فاروقؓ کے خلاف ایک مقدمہ میں فیصلہ دیا تھا۔ آئیے اس واقعہ کے بارے میں ان کا موقف پڑھتے ہیں ہوا کچھ یوں کہ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ نے اپنی ایک انصاری اہلیہ کو طلاق دے دی تھی اس خاتون سے ان کا بیٹا عاصم تھا کچھ عرصہ بعد سیدنا عمرؓ نے دیکھا کہ وہ انصاریٰ خاتون اپنے بیٹے کو اٹھائے تھی اور بچہ دودھ پینا چھوڑ چکا تھا اور اب چلنے پھرنے کےقابل ہو گیا تھا سیدنا عمرؓ نے بیٹے کا ہاتھ پکڑ کر ماں سے چھیننا چاہا اور تھوڑی سختی بھی کی کہ بچہ رونے لگا سیدنا عمرؓ کہنے لگے میں اپنے بیٹے کا تمہاری نسبت زیادہ حقدار ہوں یہ جھگڑا سیدنا صدیقؓ تک پہنچا تو سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ نے ماں کے حق میں فیصلہ دے دیا اور فرمایا اس بچے کے لیے ماں کی محبت و شفقت، اس کی گود اور بستر تمہاری نسبت زیادہ بہتر ہے حتیٰ کہ بچہ جوان نہ ہو جائے اور اپنا فیصلہ خود نہ کرے کہ وہ کس کے پاس رہنا چاہتا ہے اور ایک روایت میں یہ الفاظ ہیں ماں زیادہ مشفق و مہربان زیادہ رحم دل زیادہ محبت کرنے والی اور زیادہ نرم مزاج ہےجب تک وہ عورت دوسری شادی نہ کرے تب تک وہ بچے کی زیادہ حقدار ہے۔

(مصنف عبد الرزاق 54/7 حدیث 2600)

صدیقؓ بطور خطیب:

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے لشکر اسامہ کے فوجیوں سے خطاب کرتے ہوئے فرمایا اے لوگو! ٹھہرو میں تمہیں کچھ ہدایات دینا چاہتا ہوں۔ انہیں اچھی طرح یاد کر لو، نہ خیانت کرنا، نہ مال غنیمت چرانا، نہ بد عہدی کرنا، نہ لاشوں کی بے حرمتی کرنا، نہ پھل دار درخت کاٹنا، نہ بلا ضرورت بکری، گائے اور اونٹ ذبح کرنا۔ (اب ذرا سوچئے جتنے کاموں سے سیدنا صدیقؓ نے منع کیا ہے ان میں سے وہ کونسا ایسا کام ہے جو ہم اور ہمارے حکمران نہیں کرتے؟ پھر فرق صرف اتنا پڑتا ہے کہ وہ ان سب امور کی پابندی کر کے فتح، عزت، عظمت و کامیابی ان کا ثمرہ بنتی تھی اور ہم ان سب کاموں میں مخالفت کرتے ہیں تو ذلت و رسوائی آج ہمارا مقدر بن چکی ہے) عنقریب تم ایسے لوگوں کے پاس سے گزرو گے جو گرجا گھروں میں عبادت میں مصروف ہوں گے۔ ان سے تعرض نہ کرنا، تم ایسے لوگوں کے پاس جا رہے ہو جو تمہارے لیے رنگ برنگے کھانے لائیں گے تم ہر کھانے سے پہلے بسم اللہ پڑھنا تمہارا ایسے لوگوں سے مقابلہ ہو گا جنہوں نے اپنے سر درمیان سے مونڈ رکھے ہوں گے اور بقیہ بالوں کو پٹیوں کی مانند چھوڑ دیا ہو گا ایسے لوگوں کو تہ تیغ کر دینا، اب اللہ کا نام لیکر روانہ ہو جاؤ۔ پھر سیدنا ابوبکرؓ نے سیدنا اسامہؓ کو نصیحت کرتے ہوئے فرمایا

اصنع ما أمرك به نبي الله صلی الله عليه و سلم ابدأ ببلاد قضاعة ثم إيت آبل ولا تقصرن في شيء من أمر رسول الله صلى الله عليه و سلم ولا تعجلن لما خلفت عن عهده۔

رسولﷺ کے حکم کی تعمیل کرنا جنگ کی ابتداء بلاد قضاعہ سے کرنا پھر آبل (موجودہ اردن کے جنوب میں واقع ایک شہر ہے) پر حملہ آور ہونا لیکن رسولﷺ کے کسی حکم میں ذرہ بھر بھی کوتاہی نہ کرنا اور رسولﷺ کے عہد سے پیچھے مت ہٹنا۔

سیدنا اسامہ رضی اللہ عنہ کا لشکر چلا گیا اہلِ لشکر رسولﷺ کے حکم کے مطابق قضاعہ کے قبائل پر حملہ آور ہوئے آبل فتح کیا اور مال غنیمت اور فتح کے ساتھ سرخرو ہو کر لوٹے۔ ان کا یہ پورا مشن چالیس روزہ تھا اور چالیس ہی دن میں مکمل کامیابی مل گئی۔

(تاریخ الطبری: جلد، 4 صفحہ، 45/46 والسیرہ النبویۃ الصحیحہ للدکتور العمری: جلد، 2 صفحہ، 467/47/)

سیدنا صدیقؓ کی اولو العزمی:

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نہایت درجہ اولوالعزم اور صمیم القلب خلیفہ تھے۔ ان کی اولوالعزمی کے واقعات تو بہت ہیں لیکن یہاں ہم چند ایک ذکر کرتے ہیں۔

  1.  مرتدین اور مانعین زکوٰۃ کا فتنہ بپا ہوا تو سیدنا صدیقؓ نے فتنہ بپا کرنے والوں کے خلاف جنگ کرنے کا اعلان فرمایا۔ زیادہ تر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین نے اس بات سے اختلاف کیا جن میں سیدنا عمرؓ بھی شامل تھے لیکن سیدنا صدیقؓ اپنے ارادے پر قائم رہے اور بہ درجہ غایت اولوالعزمی کا مظاہرہ کرتے ہوئے صاف لفظوں میں فرمایا کہ جو لوگ نماز اور زکوٰۃ میں فرق کریں گے میں ان سے ضرور جنگ کروں گا چاہے مجھے اکیلا ہی کیوں نہ مقابلہ کرنا پڑے۔
  2. عراق میں مثنیٰ بن حارثہ شیبانی جب برسرِ پیکار تھے تو انہوں نے دربار خلافت سے مزید فوج کا مطالبہ کیا تو سیدنا صدیقؓ نے ان کی امداد کے لیے خالد بن ولیدؓ کو اچھی خاصی فوج دے کر عراق روانہ کیا۔
  3.  شام کے محاذ پر فوج بھیجنے کی ضرورت پڑی تو تمام عرب سے فوجیں جمع کیں پھر سیدنا ابو عبیدہ بن جراحؓ اور اسلامی فوج کے سربراہوں کی طرف سے جو شام میں مقیم تھے دشمن پر حملہ کرنے میں کچھ ہچکچاہٹ سی ہوئی تو سیدنا خالد بن ولید رضی اللہ عنہ کو وہاں پہنچنے اور حملہ کرنے کا حکم دیا۔

(الصدیق ابو بکر لمحمد حسین ہیکل: صفحہ، 41/42)

سیدنا صدیقؓ کا وقت رحلت:

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ سیدنا ابوبکرؓ کی بیماری کی ابتداء اس طرح ہوئی کہ انہوں نے سخت سردی والے دن غسل کیا تو انہیں بخار ہو گیا جو پندرہ دن تک جاری رہا بیماری کی شدت کے باعث آپ ان دنوں مسجد نہ جا سکتے تھے اس لیے سیدنا عمر رضی اللہ عنہ کو نماز پڑھانے کا حکم دیتے تھے۔ صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین آپ کی تیمارداری کرنے آتے تھے سب سے زیادہ خبر گیری سیدنا عثمانؓ کرتے تھے۔

(اصحاب الرسولﷺ لمحمود المصری)

جب انکی بیماری شدید ہو گئی تو ان سے عرض کیا گیا ہم آپ کے لیے طبیب بلائیں؟ تو فرمایا قدْ راني فقال إِنّی فعّال لِما أُريدُ

(ترتیب و تہذیب البدیہ والنہایہ للدکتور السلمی: صفحہ، 33)

طبیب نے مجھے دیکھ لیا ہے اور وہ کہتا ہے بیشک میں جو چاہتا ہوں کرتا ہوں۔

سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں سیدنا ابوبکرؓ نے فرمایا:

انظروا ماذا زاد في مالي منذ دخلت في الإمارة فابعثوا به إلى الخليفة بعدي

(صفۃ الصفوۃ لابن الجوزی: جلد، 1 صفحہ، 265)

جب سے میں خلیفہ بنا ہوں اس دوران جتنا مال بڑھا ہے وہ میرے بعد والے خلیفہ کو پہنچا دینا۔

صفحہ 8 از 9