سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 7 از 9

جبکہ آج ہمارے حکمرانوں کی تیاریاں عروج پر ہیں غریب عوام کا خون چوسنے کے لیے ہر طرح کے جال بچھائے جا رہے ہیں اور کروڑوں روپے کا سرمایہ رائیگاں کیا جارہا ہے حالانکہ یہ منصبِ حکومت رسولﷺ اور صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کا تشکیل دیا ہوا ہے آج اس منصب پر مسلط ہونے کے لیے ہر دنیا دار آدمی تیار ہے جو کہ دین اسلام سے کورے نظر آتے ہیں۔ جیسے کہ امیدوارانِ الیکشن سے کچھ سوالات پوچھے جا رہے تھے اور سوالات بھی ایسے کہ جن کے جوابات ایک دینی گھرانے سے تعلق رکھنے والا بچہ بھی بآسانی دے سکتا ہے کسی سے فجر کی نماز کی رکعتیں پوچھی جا رہی ہیں اور کسی سے قرآن پاک کے پاروں کے متعلق پوچھا جا رہا ہے جو کہ انسانیت کے لیے اللہ نے ضابطہ حیات اتارا ہے تو ان کے سوالوں کے جواب بھی نہیں آرہے تھے یہاں تک کہ ایک نام نہاد مسلم بول پڑا کہ قرآنی سوالات کیوں کیے جا رہے ہیں؟ یہی وجہ ہے کہ قرآن و حدیث سے دوری نے انہیں جلاد بنا دیا ہے کہ غریبوں کے چھوٹے چھوٹے بچے بھوک پیاس سے ان کے سامنے تڑپتے رہیں اور انکے رونگٹے بھی کھڑے نہ ہوں اور انکی سیاست بھی ایک جھوٹ کا حال ہے آج اپنے مفاد کی سیاست کی جاتی ہے اور عوام کو جھوٹ پہ جھوٹ تحفۃ پیش کیا جاتا ہے۔

(الامان والحفیظ) اور ایک وہ بھی تو سیاسی لیڈر تھے۔

صدیقؓ اور سیاسی بصیرت:

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ بے پناہ سیاسی بصیرت کے حامل تھے اور حالات کے نشیب و فراز پر گہری نگاہ رکھتے تھے، اپنے دور کی حکومتوں اور ان کے قوانین سے بھی پوری طرح آگاہ تھے۔ اس وقت ایران اور روم کی دو مملکتوں کا تمام دنیا میں شہرہ تھا اور کسی معاصر حکومت کو ان کے سامنے سر اٹھانے کی جرأت نہ تھی اور جمہوریت کا اس زمانے میں کہیں نام و نشان نہ تھا تمام حکومتیں جبر و آمریت کی بنیاد پر قائم تھیں۔ آج کے حکمرانوں کی طرح رعایا ان کے ہاتھوں سخت تکلیف میں مبتلا تھی ہر باشندہِ ملک کو انہوں نے دبا کر رکھا ہواتھا اور لوگوں سے اچھوتوں کا سا برتاؤ رکھا جاتا تھا۔ سیدنا ابوبکرؓ کے عہد خلافت میں دنیا کی ان دو عظیم مملکتوں کے جو علاقے مسلمانوں کے ہاتھوں فتح ہوئے وہاں کامل مساوات کا قانون نافذ کیا گیا سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ نے فوج کے سربراہوں کے نام حکم جاری کیا کہ بلا امتیاز مذہب و ملت سب سے یکساں معاملہ کیا جائے کسی سے بے کار نہ لی جائے اور کسی کو محکوم اور مفتوح سمجھ کر مبتلائے اذیت نہ کیا جائے چھوٹے بڑے ہر طبقے کے لوگوں سے عدل و انصاف کیا جائے کسی قوم کی عبادت گاہوں کو منہدم نہ کیا جائے۔ مذہبی اور معاشرتی آزادی کا کھلے الفاظ میں اعلان کیا جائے حالانکہ مفتوحہ علاقے کے لوگوں نے مساوات کا کبھی نام تک بھی نہیں سنا تھا وہ مسلمانوں کے اس طرز عمل اور طریق گفتگو سے نہایت خوش ہوئے اور بہت سے لوگ صرف ان کے رویے سے متاثر ہو کر دائرہ اسلام میں داخل ہو گئے۔

(ابو بکر صدیقؓ محمد حسینؓ ہیکل: صفحہ، 25)

جیسے حکمران ویسی رعایا:

ایک بدوی خاتون نے سیدنا صدیقؓ سے پوچھا اے خلیفہ رسولﷺ جاہلیت کے بعد اللہ نے ہمیں اسلام کی وجہ سے جو نعمت عطا کی ہے ہم اس پر کب تک قائم رہیں گے صدیقؓ نے فرمایا بقاؤكم عليه ما استقامت بكمْ أئِمّتكم۔

تم لوگ اس پر اس وقت تک قائم رہو گے جب تک تمہارے حکمران اسلام پر قائم رہیں گے وہ کہنے لگی حکمرانوں سے کون لوگ مراد ہیں؟ صدیقؓ نے فرمایا

أما كَان لقومك رؤوس وأَشراف يأمرونهمْ فيطيعونهمْ

کیا تمہاری قوم کے شرفاء اور سردار نہیں ہیں جو قبیلے والوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ ان کی اطاعت کرتے ہیں اس نے کہا بالکل ہیں۔ جناب صدیقؓ نے فرمایا فهمْ أولئك عَلى النّاس  ہی لوگ تو حکمران ہیں۔(صحیح بخاری، 3834)

وسعت علم اور صدیقؓ:

رسولﷺ نے دنیائے اسلام کے پہلے حج میں سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کو مدینہ منورہ سے امیر الحج بنا کر روانہ فرمایا۔ عبادات میں سے مناسک حج کا علم انتہائی دقیق ہے، اگر صدیقؓ کے پاس وسعت علم نہ ہوتی تو رسولﷺ کبھی امیر الحج نہ بناتے اور اسی طرح نماز کے معاملہ میں رسولﷺ نے سیدنا صدیقؓ ہی کو اپنا نائب بنایا اور رسولﷺ نے سیدنا انسؓ سے جو کتاب الصدقہ لکھوائی تھی اس کو سیدنا صدیق رضی اللہ عنہ سے روایت کیا ہے وہ صدقہ کے بارے میں سب سے زیادہ قابل اعتماد دستاویز ہیں کوئی شرعی مسئلہ ایسا نہیں جس میں سیدنا صدیقؓ نے غلطی کی ہو۔ جبکہ دیگر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے کئی ایک ایسے مسئلے مذکور ہیں جن میں ان کو غلطی لگی۔

(ابو بکرؓ افضل الصحابہؓ: صفحہ، 60)

اجتہاد اور صدیقؓ:

سیدنا صدیق اکبر رضی اللہ عنہ کے سامنے کوئی ایسا مسئلہ پیش آتا جس کی اصل کتاب اللہ اور سنت رسولﷺ سے نہ ملتی تو وہ اس میں اجتہاد کرتے اور کہا کرتے تھے

أَقول فیها برأي فإِن يكن صوابا فمن اللّه، وإِن يكن خطَأ فمنّي ومن الشّيْطان

(السنن الصغير للبيهقي (جلد، 2 صفحہ، 362)

میں اپنی رائے سے کہتا ہوں اگر یہ صحیح ہے تو اللہ کی طرف سے ہے اور اگر غلط ہے تو یہ میری غلطی ہے اور شیطان کی طرف سے ہے۔

جب بھی ان کے پاس کوئی مسئلہ آتا تو وہ کتاب اللہ سے اس کا حل ڈھونڈتے اگر مل جاتا تو اس کے مطابق فیصلہ کرتے اگر نہ ملتا تو پھر صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین سے اس بارے میں پوچھتے ایسے موقعوں پر آپ کہا کرتے تھے

الْحمد للّه الّذى جعل فينَا من يحْفظ عن نبيِّنا صلى الله عليه وسلم

(السنن الكبرى للبيہقي (10/ 114 جلد، 10 صفحہ، 114)

اللہ کا شکر ہے ہم میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے رسولﷺ کی سنت کو محفوظ کر رکھا ہے۔

لیکن دور حاضر میں اہلِ الرائے کا ایک ٹولہ دلیلیں تو ابوبکرؓ و عمرؓ کے اجتہاد کی پیش کرتے ہیں لیکن ان کے اکثر و بیشتر مسائل حدیث رسولﷺ سے ٹکرا رہے ہوتے ہیں۔ سچ کہا تھا سیدنا علی رضی اللہ عنہ نے (الکلمۃ حق أرید بہا الباطل) آئیڈیل اور نمونہ تو صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کے اجتہاد کو پیش کرتے ہیں لیکن حقیقت میں شریعت کی مخالفت کرتے ہیں اللہ انہیں ہدایت دے اور دین کی سمجھ دے۔

صدیقؓ بطور فیصل:

صفحہ 7 از 9