سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ - دفاعِ اہلِ سنت | دفاع اسلام

سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ

  دارالتحقیق و دفاعِ صحابہؓ

صفحہ 6 از 9

امام زہری سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ نے حضرت حسان بن ثابتؓ سے فرمایا کیا تم نے ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے بارے میں بھی کچھ کلام کہا ہے۔ انہوں نے عرض کیا جی ہاں (یا رسول ﷲ!)۔ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا وہ کلام پڑھو تا کہ میں بھی سنوں۔ حضرت حسان رضی اللہ عنہ یوں گویا ہوئے وہ غار میں دو میں سے دوسرے تھے۔ جب وہ حضورﷺ کو لے کر پہاڑ (جبل ثور) پر چڑھے تو دشمن نے اُن کے ارد گرد چکر لگائے اور تمام صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو معلوم ہے کہ وہ (یعنی حضرت ابوبکر رضی اللہ عنہ) رسول اللہﷺ کے محبوب ہیں اور آپﷺ کسی شخص کو اُن کے برابر شمار نہیں کرتے ہیں (یہ سن کر) رسول اللہﷺ ہنس پڑے یہاں تک کہ آپﷺ کے دندانِ مبارک ظاہر ہو گئے پھر آپﷺ نے فرمایا اے حسان تم نے سچ کہا، وہ (ابوبکر رضی اللہ عنہ) بالکل ایسے ہی ہیں جیسے تم نے کہا ہے۔

(حاکم المستدرک: جلد، 3 صفحہ، 67 رقم، 4413)

حضرت عبداللہ بن عباسؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا اگر میں اپنی امت میں سے کسی کو خلیل بناتا تو ابوبکرؓ کو بناتا لیکن وہ میرے بھائی اور میرے ساتھی ہیں۔

(بخاری الصحيح کتاب المناقب: باب، قول النبی لو کنت متخذا خليلا جلد، 3 صفحہ، 1338 رقم، 3456)

حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ جو کہ حضور نبی اکرمﷺ کی خدمت میں رہتے تھے سے روایت ہے کہ حضرت ابوبکر صدیقؓ، حضور نبی اکرمﷺ کے مرضِ وصال کے دوران صحابہ کرام رضوان اللہ علیہم اجمعین کو نماز پڑھایا کرتے تھے، یہاں تک کہ پیر کا دن آ گیا اور صحابہ کرامؓ نماز کی حالت میں صفیں باندھے کھڑے تھے۔ (اِس دوران) حضور نبی اکرمﷺ نے (اپنے) حجرہ مبارک سے پردہ اُٹھایا اور کھڑے ہو کر ہمیں دیکھنے لگے۔ ایسے لگ رہا تھا کہ آپﷺ کا چہرہ انور کھلے ہوئے قرآن کی طرح ہے پھر آپﷺ تبسم ریز ہوئے۔ پس ہم نے ارادہ کیا کہ حضور نبی اکرمﷺ کے دیدار کی خوشی سے نماز توڑ دیں پھر حضرت ابوبکرؓ اپنی ایڑیوں کے بَل (مصلّی امامت سے) پیچھے لوٹے تا کہ صف میں شامل ہو جائیں اور گمان کیا کہ حضور نبی اکرمﷺ نماز کے لیے (گھر سے) باہر تشریف لانے والے ہیں۔ حضور نبی اکرمﷺ نے ہمیں اشارہ فرمایا کہ تم لوگ اپنی نماز کو مکمل کرو اور پردہ نیچے سرکا دیا۔ پھر آپﷺ کا اُسی دن وصال ہو گیا۔

(بخاری الصحيح کتاب الأذان: باب، اهل العلم والفضل احق بالامامة، جلد، 1 صفحہ، 240 رقم، 648)

اُم المؤمنین حضرت عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا کسی قوم کے لیے مناسب نہیں کہ ان میں ابوبکر صدیقؓ موجود ہوں اور اُن کی امامت اِن (یعنی ابوبکر صدیقؓ) کے علاؤہ کوئی اور شخص کروائے۔

(ترمذی، السنن کتاب المناقب عن رسول اللہ صلی الله عليه وآله وسلم: باب، فی مناقب ابی بکر وعمر رضی اﷲ عنهما کليهما جلد، 5 صفحہ، 614 رقم : 3673)

حضرت ابوہریرہؓ سے روایت ہے کہ حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا حضرت جبرائیل علیہ السلام نے میرا ہاتھ پکڑا، پھر مجھے جنت کا وہ دروازہ دکھایا جس سے میری اُمت (جنت میں) داخل ہو گی۔ حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے عرض کیا یا رسول اللہ ﷺ! کاش میں آپ کے ساتھ ہوتا تا کہ میں بھی جنت کا وہ دروازہ دیکھتا تو حضور نبی اکرمﷺ نے فرمایا یقیناً تم تو میری اُمت کے وہ پہلے شخص ہو جو جنت میں اُس دروازہ سے داخل ہو گا۔

(ابو داؤد السنن کتاب السنن: باب، الخلفاء جلد، 4 صفحہ، 213 رقم، 4652)

المختصر یہ کہ سیدنا صدیق اکبرؓ کو جو مقام و مرتبہ اللہ اور اس کے رسولﷺ کی بارگاہ میں نصیب ہوا۔ اس کی وجہ آپؓ کا حضورﷺ کی ذاتِ اقدس کے ساتھ والہانہ عقیدت و محبت اور بارگاہ نبویﷺ میں انتہا درجے کی ایسی تعظیم و تکریم ہے جس کا رنگ آپکے جملہ اعمال اور ارادوں پر چڑھا ہوا نظر آتا ہے۔ آپ کے اخلاص اور وفا شعاری نے قیامت تک آنے والے ہر اس کارکن کو سلیقہ محبت اور قرینہ ادب سکھا دیا جو مشن رسولﷺ کے فروغ کے لیے کوشاں ہے اور روزِ قیامت رسولﷺ کی سنگت و معیت کا خواہاں ہے۔

خلافت علی منہج النبوۃ (نبوت کے طرز پر خلافت)

رسولﷺ کو خواب میں دو خلفاء دکھائے گئے جن کی خلافت عین منہج نبوی کے مطابق ہو گی اور وہ آپﷺ کے طریقے سے ذرہ برابر انحراف نہیں کریں رسولﷺ فرماتے ہیں میں سویا ہوا تھا مجھے خواب میں دکھایا گیا کہ میں اپنے حوض سے پانی نکال کر لوگوں کو پلا رہا ہوں اتنے میں ابوبکرؓ آگئے انہوں نے میرے ہاتھ سے ڈول لے لیا تا کہ مجھے آرام و سکون کا موقع دیں انہوں نے دو ڈول نکالے لیکن ان کے ڈول نکالنے میں کمزوری تھی اللہ تعالیٰ ان کی مغفرت فرمائے پھر عمؓر آگئے انہوں نے ابوبکرؓ سے ڈول لے کر (خوب پانی نکالا) میں نے کبھی اس سے زیادہ قوت کے ساتھ ڈول کھینچتے کسی کو نہیں دیکھا حتیٰ کہ لوگ سیر ہوکر چلے گئے اور حوض ابھی بھرا ہوا تھا اور بڑے جوش کے ساتھ پھوٹ رہا تھا۔

(صحیح مسلم حدیث 2392)

پہلا خطبہ خلافت:

بیعت کے بعد سیدنا ابوبکرؓ نے خطبہ ارشاد فرماتے ہوئے اللہ تعالیٰ کی شان اقدس کے لائق حمد و ثنا بیان کی اور فرمایا حاضرین کرام مجھے تمہارا سربراہ بنایا گیا ہے اور میں خود کو تم سے بہتر نہیں سمجھتا۔ اگر میں درست کام کروں تو میری مدد کرنا اگر مجھ سے غلطی ہو جائے تو میری اصلاح کرنا۔ سچ امانت ہے اور جھوٹ خیانت ہے۔ تم میں جو کمزور ہے وہ میرے نزدیک قوی ہے چنانچہ میں اس کا شکوہ دور کر دوں گا اور تم میں جو قوی ہے وہ میرے نزدیک کمزور ہے چنانچہ میں اس سے حق لوں گا۔ جو قوم جہاد کو چھوڑ دیتی ہے اللہ اس پر ذلت کو مسلط کر دیتا ہے جس قوم میں بے حیائی عام ہوجائے اللہ تعالیٰ ان پر عمومی عذاب نازل کر دیتا ہے۔ میری اطاعت اس وقت تک کرنا جب تک میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی اطاعت کرتا رہوں جب میں اللہ اور اس کے رسولﷺ کی نافرمانی کرنے لگوں تو تم پر میری اطاعت ضروری نہیں۔ اُٹھو نماز ادا کرو اللہ تعالیٰ تم پر رحم فرمائے۔

(البدایہ و النہایہ جلد، 6 صفحہ، 305/306)

صفحہ 6 از 9